| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۰ : از لکھنؤ محمود نگر اصح المطابع مرسلہ مولوی عبد العلی صاحب مدراسی ۱۷صفر ۱۳۱۳ھ کیا فرماتے ہین علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر ایجاب وقبول مہر فاطمی پر بلاتصریح وتعیین دراہم وسکّہ وغیرہ ہو یعنی بروقتِ نکاح صرف مہرِ فاطمی کا لفظ کہا جائے یہ نہ کہا جائے کہ مہر فاطمی پر جس کے اس قدر دراہم شرعی یا سکّہ رائج الوقت ہوتے ہیں تو اس صورت میں مہر فاطمی ہی رہے گا یا مہر مثل کی طرف عود کرجائےگا بوجہ اختلافِ روایات کے جو دربارہ مہر جناب فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا وارد ہیں۔ بینواتوجروا الجواب مہر فاطمی ہی رہے گا۔ ذخیرہ پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :
واللفظ للبحر لیس من صور عدم التسمیۃ مالو تزوجت بمثل مھر والزوج لایعلم مقدار مھرامھا فانہ جائز بمقدار مھر امھا الخ ۲؎۔
الفاظ بحر کے ہیں مہر مقررہ نہ ہونے کی یہ صورت نہیں ہے کہ بیوی کا مہر اس کی ماں کے مہر کے برابر ہو اور خاوند کو ماں کے مہر کا علم نہ ہو کیونکہ بیوی کی ماں کے مہر مقدار پر مہر رکھنا جائز ہے الخ(ت)
(۲؎ بحرالرائق باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۱۴۶)
مہر اقدس حضرت سیّدۃ النساء بتول زہرا صلی اﷲتعالٰی علی ابیہاالکریم وعلیہا وسلّم میں اگر چہ روایات بظاہر مختلف ہیں مگر بتوفیق اﷲتعالٰی اُن سب میں تطبیق بروجہ نفس ودقیق حاصل ہے فاقول وباﷲالتوفیق اس بارے میں روایات مسندہ معتد بہا تین۳ ہیں: اوّل : یہ کہ مہر مبارک درم ودینار نہ تھے بلکہ ایک زِرِہ کہ حضور پر نور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے حضرت امیر المومنین مولی المسلمین کرم اﷲتعالٰی وجہہ الکریم کو عطا فرمائی تھی وہی مہر میں دی گئی،
اخرج ابن سعد فی طبقاتہ اخبر نا خالد بن مخلد ثنا سلیمٰمن ھو ابن بلال ثنی جعفر بن محمد عن ابیہ اصدق علی فاطمۃ درعا من حدید وعن عازم عن حماد بن زید عن ایّوب عن عکرمۃ ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قال لعلی حین زوجہ فاطمۃ اعطھا درعک الحطمیۃ۱؎، قال الحافظ فی الاصابۃ ھذامرسل صحیح الاسناد ۲؎، وابوداؤد فی سننہ عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما قال لما تزوج علی فاطمۃ رضی اﷲتعالٰی عنھما قال لہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اعطھا شیئا قال ماعندی شئی قال این درعک الحطمیۃ ۳ ؎۔
ابن سعد نے طبقات میں تخریج کی ہے کہ خالد بن مخلد نے بیان کیا ان کوسلیمان ابن بلال نے حدیث بیان کی جعفر بن محمد نے اپنے والد سے بیان کیا حضرت علی کرم وجہہ نے حضر ت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہر ایک لوہے کی درع دی،عازم سے انہوں نے حماد بن زید سے انہوں نے ایوب سے انہوں نے عکرمہ سے بیان کی کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے جب حضرت فاطمہ کا حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہما سے نکاح کیا تو آپ نے حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے فرمایا تُو اپنی حطمی درِع( تلواروں کو توڑنے والی زرہ) مہر میں دے دے۔ حافظ نے اصابہ میں کہا یہ حدیث مرسل صحیح ہے۔ ابوداؤد نے اپنی سنن میں ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہما سے نکاح کیا تو فرمایا: اس کو مہر میں کُچھ دو۔ تو انہوں نے عرض کی: میرےپاس کوئی چیز نہیں ہے۔ تو حضور علیہ الصّلٰوۃوالسلام نے فرمایا: تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟
(۱؎الطبقات الکبرٰی لابن سعد باب ذکر بناتِ رسول صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم دار صادر بیروت ۸ /۲۱) (۲؎ الاصابۃفی تمیزالصحابۃ ترجمہ ۸۳۰ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲعنہا دار صادر بیروت ۴/۳۷۷) (۳؎ سُنن ابوداؤد کتاب النکاح آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۸۹)
واحمد فی مسند ہ من طریق ابن ابی نجیح عن قبیہ عن رجل سمع علیا یقول اردت ان اخطب الی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ابنتہ فقلت مالی من شیئی ثم ذکرت صلتہ وعائدتہ وخطبتھا الیہ فقال وھل عندک شيئ، قلت لا، قال فاین درعک الحطمیۃ التی اعطیتک یوم کذاوکذا، قلت ھو عندی، قال فاعلطھا ایاہ ۱ ابن اسحٰق فی السیرۃ الکبرٰی حدثنی ابن نجیح عند مجاھد عن علی کرم اﷲتعالٰی وجہہ انہ خطب فاطمۃ رضی اﷲتعالٰی عنھا فقال لہ النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ھل عندک من شیئی، قلت لا، قال فما فعلت الدرع التی سلحتکھا یعنی من مغانم بدر ۲؎۔
احمد نے اپنی مسند میں ابن ابی نجیح وہ اپنے والد اور انہوں نے ایک ایسے شخص سے روایت کیا جس نے حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے سُنا ہے کہ وُہ فرمارہے تھے کہ میرا ارادہ ہُوا کہ میں حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام سے آپکی صاحبزادی کا رشتہ طلب کروں تو مجھے خیال آیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں، پھر مجھے آپ کی شفقت اور مہربانی یاد آئی، پس میں نے رشتہ طلب کیا تو آ پ نے فرمایا: کیا تیرے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا کچھ نہیں توفرمایا تیری حطمی رزہ کہاں ہے جو میں نے تجھے اسلحہ کے طورپر فلاں موقعہ(یعنی بدر کے روز) غنیمت میں سے دی تھی ؟ میں نے عرض کیا : وہ میرے پاس ہی ہے۔ توآپ نے فرمایا: وہ اسے دے دو۔ ابن اسحاق نے سیرت کبرٰی میں یُوں بیان کیا کہ ابن نجیح نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیاکہ حضر ت علی کرم اﷲ وجہہ، نے کہا کہ میں نے فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے منگنی کی تو حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے پُوچھا پاس کُچھ ہے نے کہا: کچھ نہیں۔ تو حضور علیہ الصّلوۃ والسلام نے فرمایا: تیری وہ رزہ کہاں ہے جو میں نے تجھے بدرکی غنیمت میں سے دی تھی۔(ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل مروی از علی رضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ۱ /۸۰) (۲؎ السنن الکبری مروی عن محمد بن اسحٰق کتاب الصداق دارصادر بیروت ۷/ ۲۳۵)
دوم چار سو اسی ۴۸۰درم تھے،
اخرجہ الائمۃ احمدفی المناقب وابوداؤد ابوحاتم الرازی وابن حبان فی صحیحہ کلھم عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ بعضھم اتم سیاقامن بعض، قال جاء ابوبکر ثم عمر یخطبان فاطمۃ الی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم، فسکت ولم یرجع الیھما شیئا فانطلقا الی علی رضی اﷲتعالٰی عنہ یأمرانہ بطلب ذٰلک قال علی فنبھانی لامر کنت عنہ غافلا فقمت اجر ردائی حتی اتیت النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فقلت تزوجنی فاطمۃ، قال عندك شیئ، فقلت فرسی وبُدنی، قال امافرسک فلابدلک منھا واما بدنک فبعھا ، فبعتھا باربع مائۃ وثما نین درھما فجئتہ بھا فوضعتھا فی حجرہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فقبض منھا قبضہ فقال ای بلال ابتع بھا لنا طیباوامرھم ان یجھزوھا فجعل لھا سریرامشرطا بالشرط ووسادۃ من ادم حشوھا لیف وقال لعلی اذا اتتک فلاتحدث شیئا حتی اٰتیک فجاء ت مع ام ایمن حتی قعدت فی جانب البیت وانا فی جانب وجاء رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم الحدیث۱؎، وفی الخمیس فی روایۃ خطبھا فزوجھا النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علی اربعما ئۃ وثمانین درھما ۱؎الخ وفیہ قیل انہ باع الدرع باثنتی عشرۃ اوقیۃ والاوقیۃ اربعون درھما وکان ذٰ لک مھر فاطمۃ من علی رضی اﷲتعالٰی عنھما ۲؎۔
امام احمد نے مناقب میں اور ابوداؤد اور ابوحاتم رازی اورابن حبان نے اپنی صحیح میں، ان تمام نےحضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا بعض کا سیاق بعض سے اتم ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہما حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا رشتہ مانگنے آئے تو حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے سکوت فرمایا اور کوئی جواب نہ دیا، تویہ دونوں حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ کے پاس آئے انہیں رشتہ طلب کرنے کوکہا تو حضرت علی فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے ایسے معاملے کی طرف متوجہ کیاجس سے میں غافل تھاتو میں فوراً چادر سنبھالتے ہوئے اٹھا حتٰی کہ حضور علیہ الصّلٰوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم! فاطمہ کا نکاح مجھ سے کردیں۔ آپ نے پوچھا : تیرے پاس کُچھ ہے؟ میں نے عرض کی: گھوڑاہے اور ایک اونٹ ہے گھوڑا تو تیرے لئے ضروری ہے لیکن اُونٹ کو فروخت کردو۔ تو میں نے اس کو چار سو اسّی ۴۸۰ درہم میں فروخت کردیاوُہ آپ کے پاس لاکر میں نے آپ کی گود میں ڈال دئے۔ تو آپ نے ان میں سے ایک مٹھی بھر اٹھا کر فرمایا: اے بلال رضی اﷲتعالٰی عنہ ! اس کی خوشبو خرید لاؤ۔ اور فرمایا : اس رقم سے جہیز تیارکرو۔ تو ایک بُنی ہُوئی چار پائی اور ایک چمڑے کا تکیہ جس میں گھجی بھری تھی تیارکئے، تو آپ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اے علی ! جب تیرے پاس فاطمہ پہنچ جائے تو کوئی بات نہ کرنا جب تک میں نہ پہنچ جاؤں۔ تو حضرت فاطمہ حضرت اُم ایمن رضی اﷲتعالٰی عنہما کے ہمراہ آئیں حتی کہ وہ کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں اور دُوسری جانب مَیں تھا تو اتنے میں رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم تشریف لے آئے، الحدیث۔ اور خمیسں ہےکہ ایک روایت ہے کہ منگنی کی تورسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان سے نکاح کردیا اور مہر چارسواسّی ۴۸۰ درہم تھا، اورخمیس میں یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے زرہ فروخت کی بارہ اوقیہ کے عوض میں۔ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتاہے۔ یہ حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا مہر حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ کی طرف سے تھا (ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ مسند انس حدیث۳۷۷۵۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳ /۸۵ - ۶۸۴) (۱؎ تاریخ الخمیس تزوج علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا موسسۃ شعبان بیروت ۱ /۳۶۱) (۲؎ تاریخ الخمیس تزوج علی بفاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا موسسۃ شعبان بیروت ۱ /۳۶۲)