| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۷۰: (مسوّدہ میں سوال نہیں ملا) الجواب اگر یہ بات اس نے صحیح کہی کہ میں تو پہلے خط میں فارغ خطی بھیج چکا ہُوں تو اگر اس خط میں یہ تھا کہ میں نے تجھے فارغ خطی دی تو خط لکھتے ہی ایک طلاق ہوگئی تھی اور اگر خط میں یہ تھا کہ جب یہ خط تجھے پہنچے تو تجھے فارغ خطی ہے، اور وہ خط اسے پہنچا تو اس وقت اسے طلاق ہوگئی تھی بہرحال اس طلاق کے بعداگر تین حیض عورت کو ہوچکے تھے، اس کے بعد یہ خط لکھا جس کی نقل سوال میں ہے جب تو یہ خط بیکار ہے کہ پہلے طلاق ہوچکی اور عدت گزرلی اور اگر اس نے رجعت نہ کی تو عورت اجنبیہ ہوگئی اس کی طلاق کا محل نہ رہی اس صورت میں عورت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے، اور اگر اس خط کے لکھنے یا پہنچنے کے بعد عورت کو ابھی تین حیض نہ ہوئے یا خط پہنچنے پر طلاق لکھی تھی اور وُہ نہ پہنچایا اس نے سرے سے خط لکھا ہی نہ تھا یوں ہی غلط لکھ دیا تو ان سب صورتوں میں اس پر تین طلاقیں ہوگئیں، بعد انقضائے عدت سوائے شوہر جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے شوہر سے بے حلالہ نہیں ہوسکتا،
حلبی پھر شامی علی الدرالمختار میں ہے:
انت علیّ المفتی بہ من عدم تو قفہ علی النیۃ لکونہ بائنا۱؎، ملخصا۔
تو مجھ پر حرام ہے، کہنے پر مفتٰی بہ قول میں نیت پر موقوف نہیں، حالانکہ یہ طلاق بائنہ ہے ملخصاً(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۹)
نیز ردالمحتار میں ہے:
متاخرین نے کہا''تومجھ پر حرام ہے'' کہنے میں طلاق بائنہ ہوگی،عرف کی وجہ سے نیت کے بغیر واقع ہوگی(ت)
(۲؎ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۳۲)
فارغ خطی عرف میں طلاق صریح ہے کہ عورت کی طرف اس کی اضافت سے طلاق ہی مراد ومفاد ہوتی ہے،
ردالمحتار میں ہے:
الصریح ماغلب فی العرف استعمالہ فی الطلاق بحیث لایستعمل عرفا الافیہ من ایّ لغۃ کانت وھذافی عرف زماننا کذٰلک فوجب اعتبارہ صریحا۳؎۔
صریح وُہ لفط ہے جس کا عر ف میں غالب استعمال طلاق کے لئے ہو۔ اور کسی بھی عرف میں وہ بغیر نیت صرف طلاق کے لئے استعمال ہو اور یہ لفظ ہمارے زمانہ کے عرف میں ایسا ہی ہے لہذااس کے صریح ہونے کا اعتبار ضروری ہوگا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۳۲)
اور صحیح یہ ہے کہ طلاق لے طلاق صریح ہے، محیط پھر ہندیہ میں ہے:
لوقال لھا داد طلاق یقع من غیرنیۃ وھو الاشبہ لان قولہ داد فی العادۃ، وقولہ خذسواء ولو قال لھا خذی طلاقک یقع من غیرنیۃ کذاھٰھنا کذافی المحیط۱؎، ملخصاً۔
اگر خاوند نے کہا''طلاق دے'' تو بغیر نیت طلاق ہوجائے گی، اور یہی اشبہ بالحق ہے، کیونکہ''داد'' کہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نے ''خذ'' (لے پکڑ) کہا تو عادت میں ''داد''(فارسی) اور خذ(عربی) دونوں مساوی ہیں، اور اگر خاوند کہے''لے طلاق پکڑ'' تو بغیر نیت طلاق ہوجاتی ہے، تو یہاں بھی ایسے ہی ہوگا جیسا کہ محیط میں ہے۔ملخصاً (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۲)
اور دوبارہ لفظ کے طلاق جدید ہوگا نہ تاکید، اشباہ میں ہے:
التاسیس خیر من التاکید فاذا دار اللفظ بینھما تعین الحمل علی التاسیس ولذا قال اصحابنا رحمہم اﷲ تعالٰی لو قال لزوجتہ انت طالق طالق طالق طلقت ثلثا۲؎، واﷲتعالٰی اعلم۔
تاسیس یعنی نیا فائدہ، تاکید سے بہتر ہے، لہذاجب کوئی لفظ تاسیس اور تاکید دونوں کا احتمال رکھے تو اس کو تاسیس پر محمول کرنا متعین ہوگا، اس لئے ہمارے اصحاب رحمہم اﷲتعالٰی نے فرمایا اگر خاوند نے لفظ طلاق کوتین مرتبہ دہرایا تو تین طلاقیں ہوں گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر التاسیس خیر من التاکید ادارۃالقرآن کراچی ۱ /۱۸۱)