عہ۲: فقط میں جدا ہوں یا ہوا کافی نہیں اگرچہ بہ نیت طلاق کہے۔ عہ۳: کیا میں نے تجھے تیرے بھائی یا ماموں یا چچایا کسی اجنبی کو دے دیا تو کچھ نہیں۔ عہ۴: مجھ میں تجھ میں کچھ نہیں رہاسے کچھ نہیں اگرچہ نیّت کرے۔
مسئلہ۲۶۹: از کانپور فراش خانہ عقت آبکاری سڑک جدید متصل کوڑہ گھر مکان حافظ زبیر حسن مرسلہ مولوی سیّد سعید الحسن صاحب ۱۱جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ نے اپنے شوہر زید کو بذریعہ خط یہ لکھا کہ تم مجھ کو فارغ خطی دے دو اوراس زوجہ ہند ہ کے لکھنے پر شوہر زید نے یہ لکھ دیا کہ میری طرف سے تین مرتبہ فارغ خطی ہے مجھ کو تم سے کچھ مطلب نہیں جو تمہارا جی چاہے وہ کرو، تو اب اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہ؟ اور مسمّاۃ ہندہ کو اب کیا کرنا چاہئے؟ شوہر زید کے پاس جانا درست ہے یانہ؟ اگر جائے تو کیا ہے؟بینوافی الکتاب توجروایوم الحساب۔ الجواب صورتِ مستفسرہ میں تین طلاقیں ہوگئیں، زیدکے پاس اسے جانا حرام محض ہے، بے حلالہ کے زید سے نکاح نہیں ہوسکتا،
فان ھذا اللفظ من الرجل لامرأتہ لایستعمل الافی معنی الطلاق ولایرادو لایفھم منہ الاھذاۤ، فکان من الصریح الذی لایحتاج الی النیۃ لانہ حیث یقع جوابا لسؤالھا کما ھٰھنا فانہ لایحتمل الردکما لایخفی۔
خاوند کی طرف سے بیوی کے لئے اس لفظ کا استعمال صرف طلاق کے معنٰی میں ہوتا ہے اور اس سے مراد اور فہم یہی ہوتا ہے، لہذا یہ لفظ صریح ہے جس میں نیّت کی محتاجی نہیں ہے کیونکہ جیسے یہاں بیوی کے سوال کے جواب میں مذکور ہوتو اس سے رَد کا احتمال نہیں ہوتا، جیسا کہ مخفی نہیں ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے: فمالایستعمل فیھا الافی الطلاق فہوصریح یقع بلانیۃ ومااستعمل فیما استعمال الطلاق وغیرہ فحکمہ حکم کنایات العربیۃ فی جمیع الاحکام، بحر۱؎۔
جو لفظ صرف طلاق میں استعمال ہو وہ صریح ہوتا ہے جس میں نیت کی حاجت نہیں، اور جو لفظ طلاق اور غیرطلاق میں استعمال ہوتواس حکم تمام احکام میں عربی کنایہ جیسا ہوتا ہے، بحر۔(ت) اسی طرح عالمگیریہ میں بدائع سے ہے۔واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
(۱؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۲۹)