| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
(۱) بے وجہ بے سبب طلاق دینا فی نفسہٖ ناپسندیدہ بلکہ شرعاً مذموم ہے،(۲) خصوصاً بائن کے بے ضرورت محض بدعت وممنوع ہے۔ عورت کا معاذاﷲفاحشہ ہونا اگرچہ سب سے بڑھ کر اجازتِ طلاق کی وجہ، مگر بائن کی بھی کاربرآری ممکن کہ طلاق رجعی بطور مسنون دے اور رجعت نہ کرے خود ہی بائن ہوجائے گی، وقت طلاق میں بھی یہ خصوصیت ہے کہ زن مدخولہ کو (۳)حیض یا (۴)نفاس میں طلاق نہ دے مگر خلع وغیرہ جو طلاق مال کے عوض ہو وہ اس حال میں بھی جائز ہے، (۵) عورت کی عمر اگر نو۹برس سے کم ہے،(۶) یاپچپن تک پہنچ چکی ہو،(۷)یاجوان تو ہوئی مگر حیض کبھی نہ آیا،(۸) یا حاملہ ہے تو ایس عورت کو ایک مہینے میں دو طلاق نہ دے،اور (۹)جوعورت ان چار کے علاوہ ہے اسے ایسی پاکی نہ دے کہ اس میں یا (۱۰) اس سے پہلے کے حیض میں یہ اسے طلاق دے چکا، یا (۱۱) ان میں، یا(۱۲)دھوکے سے دُوسرا شخص اس سے جماع کرچکا ہے، طلاق میں یہ بارہ ۱۲صورتیں منع ہیں، پھر ان سب ممانعتوں کے یہ معنٰی کہ مرد اُن کے خلاف سے گنہگار ہوگا ورنہ طلاق تو بہر حال پڑجاتی ہے جب تک عورت پر قیدِ نکاح یا عدّت اور مرد کے ہاتھ میں کوئی طلاق باقی ہے،
فی فتح القدیر اول کتاب الطلاق الاصح حظرہ الالحاجۃ غیران الحاجۃ لاتقتصر علی الکبر والریبۃ ۱؎اھ ملخصاً، فی ردالمحتار ان الضعیف ھو عدم اباحتہ الاکبر او ریبۃ والذی صححہ فی الفتح عدم التقیید بذٰلک کماھو مقتضی اطلاقھم الحاجۃ وبما قررناہ ظہران لامخالفۃ بین ماادعاہ انہ المذہب وما صححہ فی الفتح ۲؎اھ وفیہ عن البحر عن الفتح الواحدۃ البائنۃ بدعیۃ فی ظاھر الروایۃ۳؎الخ
فتح القدیر میں کتاب الطلاق کے شروع میں ہے، اصح یہ ہے کہ طلاق ممنوع ہے مگر حاجت ہوتو ممنوع نہیں ہے، مگر حاجت صرف بڑھاپے اور شکوک میں منحصر نہیں ہے اھ ملخصاً۔ ردالمحتار میں ہے کہ طلاق کا صرف بڑھاپے یا شکوک کی بناء پر مباح ہونا ضعیف ہے اور جس کو فتح میں صحیح قرار دیا ہے اُس میں اِس کی قید نہیں بیان کی، جیسا کہ فقہاءِ کرام نے مطلق حاجت کو بیا ن کیا ہے، اور ہماری تقریر سے ظاہر ہوگیا کہ جس کے متعلق مذہب ہونے کا دعوٰی کیا اور جس کی تصحیح فتح میں کی ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اھ اور اسی میں بحر اور اس نے فتح سے نقل کیا کہ ایک بائنہ طلاق، ظاہر روایت میں بدعی طلاق ہے الخ،
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطلاق نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۳۲۷) (۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۶) (۳؎ کتاب الطلاق ۲ /۴۱۸)
فی الدرطلقۃ رجعیۃ فقط فی طھر لاوطی فیہ احسن، وطلقۃ لغیر موطؤۃ ولو فی حیض، ولموطوئـۃتفریق الثلث فی ثلاثۃ اطھار لاوطی فیھا ولافی حیض قبلھا ولاطلاق فیہ فیمن تحیض وفی ثلثۃ اشھر فی حق غیرھا حسن وسنی، وحل طلاق الاٰیسۃوالصغیرۃ والحامل عقب وطی لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل، والبدعی ماخالفھما والخلع فی الحیض لایکرہ والنفاس کالحیض ۱؎اھ ملخصا، قال الشامی قولہ لاوطء فیہ لم یقل، منہ، لیدخل فی کلامہ مالووطئت بشھۃ، فان طلاقھا فیہ حینئذ بدعی نص علیہ الاسبیجابی،
اور دُر میں ہے کہ ایک رجعی طلاق ایسے طُہر میں جس میں وطی نہ کی ہو فقط وہی احسن طلاق ہے اور غیر موطؤہ بیوی کو اگرچہ حیض کے دوران ایک طلاق اور وطی شدہ کو تین طُہروں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جن میں وطی نہ ہوئی اور نہ ایسے طُہر سے پہلے حیض میں وطی ہو اور نہ طلاق ہو حیض والی کے لئے، اور تین مہینوں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جن میں وطی نہ ہوئی ہو اور نہ ایسے طہر سے پہلے حیض میں وطی ہو اور نہ طلاق ہو، حیض والی کے لئے، اور تین مہینوں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جس کو حیض نہ آتا ہو ،تو ایسی طلاقیں حسن اور سنی ہوں گی۔ اور بوڑھی، نابالغہ اور حاملہ کووطی کے بعد طلاق دینا حلال ہے کیونکہ وطی کے بعد طلاق دینا اسلئے مکروہ ہے کہ حمل ٹھہرنے کا احتمال ہوتا ہے جو کہ جوان حیض والی میں ہوسکتا ہے، اور بدعی طلاق وُہ ہے جوان مذکورہ دو۲قسموں(احسن اور حسن) کے خلاف ہو، اور حیض میں خلع مکروہ نہیں اور نفاس بھی حیض کا حکم رکھتا ہے اھ ملخصا۔ علامہ شامی نے فرمایا: ماتن کا قول'' وُہ طہر جس میں وطی نہ ہو'' کہا، یہ نہ کہا کہ اس خاوند سے وطی نہ ہوئی ہو، یہ اس لئے تاکہ کلام شبہہ سے وطی کو بھی شامل ہوسکے، کیونکہ ایسی صورت میں بھی طلاق بدعی ہوگی جیسا کہ ا س پر اسبیجابی نے نص کی ہے۔
(۱؎ درمختار کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۵تا۲۱۷)
وبھٰذا عرف ان کلام المصنف اولی من قول غیرہ لم یجامعھافیہ لکن لابدان یقول ولافی حیض قبلہ ولاطلاق فیھما ولم یظھر حملھا ولم تکن آیسۃ ولاصغیرۃ کما فی البدائع لانہ لو طلقھا فی طھر وطئھا فی حیض قبلہ کان بدعیا، وکذا لوکان قد طلقھا فیہ وفی ھذاالطھر،لان الجمع بین تطلیقتین فی طھر واحد مکروہ عندنا۱؎، قولہ فی حق غیرھا ای فی حق من بلغت بالسن ولم تر دما اوکانت حاملا او صغیرۃ لم تبلغ تسع سنین علی المختار او اٰیسۃ بلغت خمس وخمسین سنۃ علی الراجح، اما ممتدّۃ الطھر فمن ذوات الاقراء لانہا شابۃ رأت الدم فلایطلقھا للسنۃ الاواحدۃ مالم تدخل فی حدّالایاس۲؎،
اوراس سے معلوم ہُوا کہ مصنف کی کلام دُوسروں کی نسبت اولٰی ہے کیونکہ دُوسروں نے یُوں کہا ہے کہ خاوند نے اس طُہر میں وطی نہ کی ہو، لیکن مصنف کی کلام میں یہ کہنا بھی ضروری تھا کہ اس طُہر سے قبل حیض میں بھی وطی نہ ہو اور نہ طلاق ہو،اور حمل ظاہر نہ ہو اور بوڑھی اور نابالغہ نہ ہو، جیسا کہ بدائع میں ہے کیونکہ اگر ایسے طُہر میں طلاق دی جس سے قبل حیض میں وطی کی ہو تو وہ طلاق بدعی ہوگی اگرچہ طُہر میں وطی نہ ہو، اور یُوں ہی اگر اس حیض میں طلاق کے بعد طُہر میں طلاق دی ہو کیونکہ ایسی صورت میں ایک طہر میں دو۲ طلاقیں شمار ہوں گی جو کہ ہمارے ہاں مکروہ ہے۔ اور ماتن کا قول کہ''اس کے غیر میں'' یعنی وُہ عورت حیض کی بجائے عمر کے حساب سے بالغ قرار پائے اور اس نے کسی حیض کا خُون نہ دیکھا اور نہ پایا، یا عورت حاملہ ہو، یا ایسی نابالغہ جو نو۹سال سے کم عمر والی ہو مختار قول کے مطابق، یاآئسہ (وہ عورت جوپچپن ۵۵سال کو پہنچ چکی ہو) راجح قول کے مطابق، یا حیض والی عورتوں میں وُہ عورت جس کا طُہر دراز مدّت تک ختم نہ ہو، کیونکہ نوجوان عورت جس کو خونِ حیض آچکا ہے تو اس کو سنت طلاق صرف ایک ہی ہوگی جب تک وُہ حدایاس تک نہ پہنچی ہو۔
(۱ ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۸) (۲؎ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۹)
قال فی الذخیرۃ عن المنتقی لاباس بان یخلعھا فی الحیض اذا ارای منھا مایکرہ اھ وکذا الطلاق علی مال لایکرہ فی الحیض کما صرح بہ فی البحر عن المعراج والمراد بالخلع مااذاکان خلعا بمال ۱؎، قولہ والنفاس کالحیض قال فی البحر ولما کان المنع من الطلاق فی الحیض لتطویل العدۃ علیھا کان النفاس مثلہ جوھرۃ۲؎اھ ملتقطا۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
ذخیرہ میں منتقی سے منقول ہے: اگر بیوی سے کوئی ناپسندیدہ امر محسوس کرے تو حیض کے دوران بھی خلع کرنے میں کوئی حرج نہیں اھ یُوں ہی مال کے عوض طلاق حیض میں دی جائے تو مکروہ نہیں جیسا کہ بحر میں معراج سے نقل کرتے ہوئے تصریح کی ہے اور خلع سے مراد وُہ ہے جو مال کے عوض ہو۔ ماتن کاقول کہ''نفاس، حیض کی طرح ہے''۔ بحر میں فرمایا کہ حیض میں طلاق عورت کی عدت کو طوالت سے بچانے کی وجہ سے ممنوع ہے تو نفاس میں یہی بات ہے اس لئے یہ بھی حیض کی طرح ہے، اھ، (ردالمحتار کی تمام عبارت، ملتقطا) واﷲتعالٰی اعلم بالصواب۔(ت)
(۱؎ و ۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۸)