فی ردالمحتار عن البحر من الصریح المضارع اذاغلب فی الحال۱؎اھ قلت فکیف اذا تمحض لہ وچھوڑنا من الصریح بلساننا۔
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ مضارع کا صیغہ جب حال کے لئے غالب الاستعمال ہوتو یہ طلاق صریح میں شمار ہوگا، قلت(میں کہتا ہوں) اور اگر خالص حال کے لئے ہوتو پھر طریق اولٰی صریح ہوگا جبکہ''چھوڑنا'' کالفظ ہماری زبان میں طلاق میں صریح ہے(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۳۰)
ہاں اگر عزم وارادہ کی نیت پر کہے گا بایں معنٰی کہ تجھے طلاق دیا چاہتا ہوں تو عنداﷲطلاق نہ ہوگی،
فی الخیریۃ یدین علی کل حال أی ولو غلط فی الحال۲؎۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے: مضارع میں خاوند کی بات پر دیانۃً تصدیق بہرحال ہوگی اگرچہ وہ مضارع، حال کے معنٰی میں غالب ہو۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۳۹)
(۷۰) تجھ پر دو۲ مہینے سے طلاق ہے اور واقع میں نہ دی تھی ابھی پڑگئی بشرطیکہ نکاح کو دو۲ مہینے سےکم نہ ہوئے ہوں ورنہ کچھ نہیں،اور اگر جُھوٹی خبر کی نیت تھی تو عنداﷲکچھ نہیں یہ ہر صیغہ میں جاری ہے،
کمافی الخیریۃ وغیرھا وفیہ ایضاقال لھا انت مطلقۃ من شھرین ویقول نویت الاخبار فی الماضی کاذباھل یقع علیہ الطلاق ام لاواذا قلتم یقع ھل لہ ان یردھا ام لا، اجاب یقع قضاء لادیانۃ وعلی حکم القضاء لہ مراجعتھا فی العدۃ بغیرعقد وبعدھا بعقدجدید حیث لم یصدر منہ سوٰی ماذکر،۳؎وفی الدروکذاانت طالق امس وقد نکحھا الیوم ولونکحھا قبل امس وقع الاٰن لان الانشاء فی الماضی انشاء فی الحال۴؎۔(ملخصاً)
خیریہ وغیرہ میں جیسے ہے کہ اگر کہا''تُودو۲ ماہ سے مطلقہ ہے، اور اس کے بعد کہا کہ میں نے یہ ماضی کی خبر کاذب کے طور پر کہا ہے، تو کیا اس پر طلاق ہوگی یانہیں اور اگر آپ فرمائیں کہ طلاق ہوگی تو اس کو رجوع کا حق ہوگا یا نہیں، اس کا جواب دیا کہ قضاءً طلاق ہوگی دیانۃً نہ ہوگی، اور قاضی کے فیصلہ پر اس کو عدت میں بغیر نکاح اور عدّت کے بعد جدید نکاح سے رجوع کا حق ہوگا، جبکہ مذکورہ کارروائی کے علاوہ خاوند نے کچھ اور نہ کہا ہو، اور دُر میں ہے کہ یُونہی اگر خاوند نے کہا''تو گزشتہ روز سے طلاق والی ہے'' تو اگر نکاح آج کیا ہوتو یہ بات لغوہوگی اور گزشتہ روز سے قبل نکاح کیا ہوتو ابھی سے طلاق ہوجائیگی کیونکہ ماضی کا انشاء حال کا انشاء متصور ہوگا(ت)
(۳ ؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۵۰)
(۴؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۰)
(۷۱) تجھ بر دو برس تک طلاق ہے، اس میں دو برس بعد پڑے گی،
فی الخیریۃ قال لھا انت طالق الی سنتین ولانیۃ لہ فماالحکم، اجاب یقع علیھا بعد السنتین طلقۃ واحدۃ رجعیۃ صرح بہ صاحب البحر والبزازیۃ والولوالجیۃ وغیرھم من کتب الحنفیۃ۔۱؎
خیریہ میں ہے: اگر بیوی کو کہا''تجھے دو۲سال پر طلاق'' اور کوئی خاص نیّت نہ کی ہوتو کیا حکم ہے، تو جواب دیا کہ دو۲سال بعد رجعی طلاق ہوگی اس کی تصریح بحر، بزازیہ اور ولوالجیہ وغیرہ کتبِ حنفیہ میں موجود ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃبیروت ۱ /۵۱)
(۷۲) تجھ پر یہاں سے عرب تک طلاق، اور اگر یُوں کہا کہ اتنی لمی یا بڑی طلاق تو بائن ہوگی،
فی الدروبقولہ من ھنا الی الشام واحدۃ رجعیۃ مالم یصفھا بطول اوکبر فبائنۃ۔۲؎
درمیں ہے:خاوند نے کہا'' تجھے یہاں سے ملک شام تک طلاق ہے تو ایک رجعی طلاق ہوگی بشرطیکہ اس نے طلاق کو کسی طوالت یا بڑائی سے موصوف نہ کیاہو، اور اگر ایسی صفت سے موصوف کیا تو بائنہ ہوگی(ت)
(۲؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۹)
(۷۳) تو فلاں عورت سے زیادہ مطلّقہ ہے، طلاق ہوجائے گی اگرچہ فلاں عورت مطلقہ نہ بھی ہو،
بخلاف مالوقال بالعربیۃ انت اطلق من فلانۃ فلاتطلق الابالنیۃ بشرط ان تکون فلانۃ مطلقۃ فقد عد فی الدر قولہ انت اطلق من امرأۃ فلان وھی مطلقۃ۳؎، من الکنایات التی یقع بھا الرجعی، قال الشامی عللہ فی الفتح بان افعل التفضیل لیس صریحا فافھم۴؎اھ بخلاف مانحن فیہ فانہ مطلقۃ صریحۃ ولایعتریہ الاحتمال بزیادۃ فما فیہ الاثبات الطلاق والزیادۃ وقد حققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
بخلاف اس کے جب بزبان یُوں کہا''انت اطلق من فلانۃ'' تو نیّت کے بغیرطلاق نہ ہوگی، نیت سے بھی تب ہوگی جب وُہ فلاں عورت مطلقہ ہو، خاوند کے اس قول کہ''تجھے فلاں کی عورت سے بڑی طلاق بشرطیکہ وُہ فلاں کی عورت مطلقہ ہوتودر میں اس کو ان کنایات میں شمار کیا ہے جن سے ایک رجعی طلاق ہوتی ہے۔ علامہ شامی نے اس پر فرمایا کہ فتح میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ صیغہ تفضیل طلاق میں صریح نہیں ہے، غور کرواھ، اس کے برخلاف وُہ صورت جو ہم نے ذکر کی ہے کیونکہ وُہ صریح مطلقہ ہے اس میں زیادتی وغیرہ کا احتمال رکاوٹ نہ ہوگا یہ طلاق اور زیادتی کا اثبات ہےاور اس کو ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں محقق کیا ہے ۔(ت)
(۳؎ درمختار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۵)
(۴؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت۲ /۴۶۶)
ان سب صورتوں میں بے حاجت نیت طلاق رجعی پڑتی ہے،(۱)اے مطلقہ بسکون طاء، فی الدر انت مطلقۃ بالتخفیف(درمیں ہے خاوندنے مُطْلِقَہ یعنی ط پر جزم کے ساتھ، بیوی کو کہا''تُو مُطْلِقَہ ہے''۔ت)(۲) میں نے تیری طلاق چھوڑدی، (۳) میں نے تیری طلاق روانہ کردی، (۴) میں نے تیری طلاق کا راستہ چھوڑدیا،
فی ردالمحتار قولہ خلیت سبیل طلاقک وکذا خلیت طلاقک او ترکت طلاقک ان نوی وقع والا فلاخانیۃ۔۱؎
ردالمحتار میں ہے: خاوند نے کہا''میں نے تیری طلاق کا راستہ چھوڑدیا، میں نے تیری طلاق روانہ کردی، میں نے تیری طلاق چھوڑدی'' تو اگر نیّت کی تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں،خانیہ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکنایات مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۶۶)
(۵) تجھ پر ط، ل، ا، ق۔ (۶) تجھ پر طا،لام الف، قاف۔
فی ردالمحتار قولہ او ط ل ا ق ظاھر ماھنا مثلہ فی الفتح والبحران یاتی بمسمّی احرف الھجاء والظاھر عدم الفرق بینھا وبین اسمائھا ففی الذخیرۃ قال لامرأتہ الف نون تاء طاء الف لام قاف انہ ان نوی الطلاق تطلق المرأۃ۲؎۔(ملخصاً)
ردالمحتار میں ہے: یا خاوند کا قول ط، ل، ا، ق تو یہ طلاق میں ظاہر ہے، اسی کی مثل فتح اور بحر میں ہے کہ حروف ہجاء اور اس کے مسمّٰی کو ذکر کرے تو ظاہر میں کوئی فرق نہیں، ہم نے حروف کے اسماء کو بیان کردیا ہے توذخیرہ میں ہے کہ اگر بیوی کو کہا الف، نون، تاء، طاء، الف، لام، قاف، اور طلاق کی نیت کیا تو طلاق ہوگی(ملخصاً)۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العر بی بیروت ۲ /۴۳۰)
(۷) میں نے تیری طلاق تجھے ہبہ کی، (۸)قرض دی، (۹)تیرے پاس گرو کی،(۱۰)امانت رکھی، (۱۱) میں نے تیری طلاق چاہی،(۱۲)تیرے لئے طلاق ہے، اﷲنے تیری طلاق چاہی،(۱۳)اﷲتعالٰی نے تیری طلاق مقدر کی،
فی ردالمحتار وغیرذٰلک مثل الطلاق علیک وھبتک طلاقک، بعتک طلاقک اذا قالت اشتریت من غیر بدل، خذی طلاقک اقرضتک طلاقک شاء اﷲ طلاقک او قضاء او شئت ففی الکل یقع بالنیۃ رجعی کما فی الفتح، زادفی البحرالطلاق لک الخ۱؎وفیہ امامافی البحر ایضا من ان منہ اودعتک طلاقک ورھنتک طلاقک فسیذکر الشارح تصحیح عدم الوقوع بہ۲؎اقول ای ان لم ینولان المقصود بہ الرد علی البحر فی جعلہ صریحا۔
ردالمحتار میں ماتن کے قول وغیرہ ذٰلک کے تحت بیان کیا، مثلاً میں نے تجھے تیری طلاق ہبہ کی، میں نے تیری طلاق تجھ کو فروخت کی جب جواب میں عورت یہ کہے کہ میں نے بدلہ کے بغیرخریدی، میں نے تیری طلاق تجھے قرض دی، اﷲنے تیری طلاق چاہی، یا اﷲنے تیری طلاق مقدر فرمائی، کیا تُو چاہتی ہے، ان مذکورہ صورتوں میں نیت کی تو ایک طلاق رجعی ہو گی جیسا کہ فتح میں ہے، بحر میں اس پر زائد ہے تیرے لئے طلاق ہے الخ اور اسی ردالمحتار میں ہے لیکن جو بحر نے افادہ فرمایا وُہ بھی کہ، میں نے تیرے پاس تیری طلاق امانت رکھی ہے یا رہن رکھی ہے، اس پر شارح طلاق نے واقع ہونے کی تصحیح ذکر کررہے ہیں،اقول(میں کہتاہوں) یعنی اگر نیت نہ کی ہوتو یہ مسئلہ ہے کیونکہ اس سے مقصد بحر پر رَد کرنا ہے کیونکہ وُہ اس کو صریح قراد دیتے ہیں۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکنایات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۷)
(۲؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۳۰)
فی ردّالمحتار عن البحر ولو قال بعت منک تطلیقۃ فقالت اشتریت یقع رجعیا مجانالانہ صریح ۳؎اھ وفی الدر وحکم الواقع بالطلاق الصریح علی مال طلاق بائن۴؎۔
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے:اگر خاوند نے کہا میں تجھے ایک طلاق فروخت کرتا ہوں، تو بیوی نے جواب میں کہا میں نے خریدا، تو بلامعاوضہ ایک طلاق رجعی ہوگی، کیونکہ یہ صریح ہے اھ اور دُر میں ہے کہ مال کے بدلے صریح طلاق واقع ہوتو وُہ بائنہ کے حکم میں ہوگی(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۵۹)
(۴؎ درمختار باب الخلع مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۴۵)
(۱۶) میں نے تجھے اس عورت پر طلاق دی کہ تُو اتنے دنوں کے لئے فلاں مطالبہ مجھ سے ہٹادے۔
فان العوض غیرمال ففی ردالمحتار بعد ذکر الطلاق علی مال بخلاف طلقنی علی ان اؤخر مالی علیک، فان التاخیر لیس بمال وصح التاخیر لولہ غایۃ معلومۃ والا فلا، والطلاق رجعی مطلقا بحر عن البزازیۃ۱؎، کمامر۔
کیونکہ یہ عوض مال نہیں تو ردالمحتار میں طلاق بعوض مال کے بعد ذکر کیا، بخلاف اس کے کہ جب بیوی کہے میرا جو مال تیرے ذمّہ ہے اسے میں تجھ پر مؤخر کرتی ہوں اس کے عوض تُومجھے طلاق دے۔ خاوند نے اس پر طلاق دے دی تو وُہ رجعی ہوگی کیونکہ یہ عوض یعنی تاخیر مال نہیں ہے۔ اگر مال کی کوئی مدّت مقرر تھی یہ تاخیردرست ہوگی ورنہ نہیں، بزازیہ سے بحر نے گزشتہ کی طرح نقل کیا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الخلع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۶۰)
(۱۷) میں نے طلاق تیرے دامن میں رکھ دی (عہ۱)
فی الخزانۃ عن الخلاصۃ ولو قال ہزار طلاق دردامنت کردم ان نوی او کان فی حال مذاکرۃ الطلاق یقع والافلا۲؎۔
خرانہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ خاوند نے کہا''میں نے تیرے دامن میں ہزار طلاق رکھ دی ہے'' اگر نیت کی تو طلاق ہوگی، یونہی اگر یہ بات طلاق کے مذاکرہ کے بعد کہی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں۔(ت)
عہ۱: اقول شاید مسئلہ دامن ومسئلہ سابقہ چادر میں فرق بوجہ اضافت وعدمِ اضافت طلاق ہے کہ وہاں یہ کہا تھا تیری طلاق تیرے آنچل باندھی، لہذا بے نیّت پڑگئی، یہاں صرف طلاق کہا، تیری طلاق نہ کہا لہذا نیّت پر رہی، ولیحرر، واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۱۲منہ
(۱۸)عدت بیٹھ فی ردالمحتار عہ۲،
عہ۲: ھٰھنا فی الاصل بیاض ولعل العبارۃ المطلوبۃ منھا ھی مانقل ھھنا فی الذیل قولہ اعتدی امربالاعتدادالذی ھومن العدۃ اومن العد، ای اعتدی نعمی علیک بدائع اھ ۱۲الفقیرحامد رضاقادری غفرلہ۔
یہاں قلمی نسخہ میں بیاض ہے ہوسکتا ہے اس سے مطلوب وُہ عبارت ہو جس کی ذیل میں نقل کیا جاتا ہے کہ اعتدی، اعتداد سے امر ہے جو عدت سے ہے یا عد سے ہے یعنی میرے نکاح کو اپنے اُوپر خدا کو نعمت شمار کر، بدائع اھ۱۲الفقیر حامد رضاقادری غفرلہ(ت)
(۱۹) تجھ پر ایک،
فی المتون انت واحدۃ ویعرف ماترجمنا من یعرف الدلیل۔
متون میں ہے: تو ایک ہے، تو ہمارے قائم کردہ عنوان سے دلیل جاننے والے کو معلوم ہے۔(ت)
(۱۰) تجھ پر دو، اس میں دو۲ طلاقیں رجعی بحالتِ نیّت پڑیں گی،
فانہ مثلہ بعین الوجہ لان الوقوع بطلاق مضمر فکان رجعیا ویحتمل غیرہ فتوقف علی النیّۃ وعد فی البحر من ھذا القسم لست لی بامرأۃ وما انالک بزوج۱؎، حیث یقع رجعی ان نوی قلت والوقوع بہ مذھب الامام وعندھما لاوان نوی کما فی الخانیۃ وقد قدم قول الامام لکن فی الخلاصۃ وخزانۃ المفتین وجواھر الاخلاطی والھندیۃ فی قولہ توزن من نیی لایقع وان نوی ھوالمختار۲؎، واﷲتعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ بھی پہلی ہی وجہ کی طرح معلوم ہے کہ یہاں لفظ طلاق پوشیدہ ہے جس سے یہ طلاق رجعی ہوگی، اورغیر طلاق کا احتمال ہونے کی وجہ سے نیت پر موقوف ہوگی، اور بحر میں اسی قسم سے شمار کیا ہے جب یہ کہے کہ ''تُومیری بیوی نہیں اور میں تیرا خاوند نہیں'' نیت کی تو ایک رجعی طلاق ہوگی، قلت(میں کہتاہوں) اس کلام سے طلاق کا وقوع امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی کا مذہب ہے اور صاحبین کے نزدیک نیّت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، اور بحرمیں امام کے قول کو پہلے ذکر کیا ہے، لیکن خلاصہ، خزانۃ المفتین، جواھر الاخلاطی اور ہندیہ میں مذکور ہے کہ خاوند نے کہا''تو میری بیوی نہیں ہے'' تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، یہی مختار ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ بحرالرائق باب الکنایات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۳۰۰)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۶)
ان سب میں نیت کی حاجت ہے اگر نیت نہیں تو کچھ نہیں اور ہے تو طلاق رجعی عہ۔
عہ: اصل میں اتنی عبارت اور زائد ہے یہ دوسوبیس۲۲۰الفاظِ طلاق ہیں جن میں سے ایک سو تیس ۱۳۰سے بائن پڑتی ہے، نوے۹۰ سے رجعی۔ دونوں میں ننانوے۹۹ سے بے نیّت باقی سے منوی، اور ہنوز ہر قسم میں زیادت کو اور الفاظ باقی اقوال بعد تکمیل الفاظ اضافہ فرمائے گئے لہذامنوی ایک سوپینتالیس۱۴۵، غیر منوی ایک سوآٹھ ۱۰۸، یہ کل دوسوترپن الفاظ ہیں۲۵۳، ایک سوساٹھ ۱۶۰سے بائن اور ترانوے ۹۳رجعی۱۲حامد رضا غفرلہ