Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
125 - 155
 (۵۲) تجھ پر کم درجہ کی طلاق،
فی الخانیۃ ولو قال اقل الطلاق یقع واحدۃ۔۳؎
خانیہ میں ہے اگرکہا کم از کم طلاق تو ایک ہی ہوگی۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الطلاق             نولکشور لکھنؤ            ۱ /۲۰۸)
 (۵۳) تیرے پر نصف، (۵۴) تیرے چوتھائی پر طلاق، (۵۵)تیرے ہزارویں ٹکڑے پرطلاق، (۵۶) تیری روح پر طلاق، (۵۷) تیری جان پر طلاق، (۵۸)تیری ناک پر طلاق(اور اگر انف یا بینی پر کہے یا عربی فارسی میں انفک طالق، بربینی تو طلاق (تیری ناک پر طلاق۔ت) کہے تو کچھ نہیں، برعکس اس کے عربی میں عنقک طالق یا فرجک طالق(تیر ی گردن کو طلاق یا تیری شرمگاہ کو طلاق۔ت)کہے، طلاق ہوجائے گی، اور اُردو میں تیری عنق یا گردن یا فرج پر طلاق کہے تو کچھ نہیں جبکہ لفظ فرج یا اس کا اور مرادف بولے جس سے عرف ہند میں کل عورت مراد نہ لیتے ہوں اگرچہ خاص اردو ہی کا لفظ ہو، وجہ یہ ہے کہ یہاں خاص وُہ لفظ ہونا چاہئے جس سے اُس زبان میں انسان کی ذات کو تعبیر ہوں، عربی میں عنق وفرج ایسے ہی ہیں اور ہماری زبان میں عنق وگردن وخاص لفظ وبینی وغیرہ ایسے نہیں، اور ہمارے یہاں کا یہ عام محاورہ ہےکہ فلاں شخص شہر بھر کی ناک ہے، خاندان کی ناک ہے، عورت موم کی ناک ہے، تو ظاہر اس میں طلاق ہوجانا چاہئے۔ اسی طرح فرج کا وُہ نام جس سے کل عورت مراد لیتے ہوں۔
فی الدر واذااضاف الطلاق الیھا اوالٰی مایعبربہ عنھا کالرقبۃ والعنق والروح والبدن والجسد (الاطراف داخلۃ فی الجسد دون البدن) والفرج والوجہ والراس وکذاالاست بخلاف البضع والدم علی المختار خلاصۃ او اضافہ الٰی جزء شائع منھا کنصفھا وثلثھا الٰی عشرھا (وکذالواضافہ الٰی جزء من الف جزء منھا کما فی الخانیۃ) وقع لعدم تجزیہ۱؎اھ مزیدا من ردالمحتار وفیہ ایضا کمالایقع لواضافہ الی الانف۲؎۔
درمختار میں ہے کہ جب طلاق کو بیوی کی طرف یا اس کے ایسے حصے کی طرف منسوب کرے جس سے بیوی کی شخصیت مراد لی جاتی ہو، مثلاً گردن، رقبہ، روح، بدن، جسم(ہاتھ اور پاؤں جسد کا حصّہ ہیں بدن کا حصہ نہیں ہیں) شرمگاہ، چہرہ، سَر اور اسی طرح سرین، تو بیوی کو طلاق ہوگی، مگر بضع، دُبر اور خُون کی طرف نسبت کی طلاق نہ ہوگی۔ خلاصہ میں اس کو مختار قرار دیا ہے، اور یُونہی اگر طلاق کو بیوی کے غیرمعیّن حصّہ مثلاًنصف، ثلث تا دسویں حصّہ کی طرف منسوب کیا اور اگر معیّن حصہ خواہ کتنا مثلاً ہزارواں حصّہ تو طلاق ہو جائے گی کیونکہ طلاق کے اجزاء نہیں ہیں جیسا کہ خانیہ میں اضافہ ہے اھ ردالمحتار میں اضافہ کرتے ہوئےکہا کہ جس طرح ناک کی طرف طلاق کی نسبت ،مثلا تیری ناک کو طلاق ،تو طلاق نہ ہو گی ۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب الصریح         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۱۹)

(ردالمحتار               باب الصریح      مطبع مجتبائی دہلی      ۲ /۴۳۶)

(۲؎ درمختار           باب الصریح    مطبع مجتبائی دہلی      ۱ /۲۱۹)
کسی سے اپنی عورت کی نسبت کہا اُسے اس کی طلاق کی خبر دے یا(۶۱) مژدہ دے یا (۶۲) اس کی طلاق کی خبر اس کے پاس لے جایا (۶۳) اسے خبر دے یا(۶۴) اس لکھ بھیج یا اس سے کہہ کہ وہ مطلقہ ہے یا(۶۶) اس کے لئے اس کی طلاق کی سند یا (۷۶) یاداشت لکھ دے ابھی طلاق ہوگئی اگرچہ یہ اس سے نہ کہے نہ لکھے، اور یُوں کہا کہ اس سے کہہ کہ تُو مطلقہ ہے تو جب جاکر کہے گا اس وقت پڑے گی ورنہ نہیں،
فی الخانیۃ رجل قال لغیرہ اخبرامرأتی بطلاقھا او احمل الیھا طلاقھا اواخبرھا انھا طالق اوقل لھا انھا طالق طلقت للحال ولایتوقف علی وصول الخبر الیھا ولاعلی قول المامورذٰلک، ولوقال قل لھا انت طالق لایقع الطلاق مالم یقل لھا الما مورذٰلک، ولو قال اکتب لھا طلاقھا ینبغی ان یقع الطلاق للحال کما لوقال احمل الیھا طلاقھا، وکما لو قال اکتب الٰی امرأتی انھا طالق۱؎،
خانیہ میں ہے، اگر دُوسرے شخص کو کہا، میری بیوی کو اس کی طلاق کی خبر دے، یا، اس کی طلاق اس کی طرف لے جا، اسکو خبردے دویا کہہ دو کہ وُہ طلاق والی ہےتو ان صورتوں میں اسی وقت طلاق ہوجائے گی اور بیوی کو خبر پہنچنے یااس شخص کے بیوی کو کہہ دینے پر موقوف نہ ہوگی، اور اگر یُوں کہا کہ تُو اس کو کہہ دے کہ تُو طلاق والی ہے تو اس صورت میں اس وقت تک طلاق نہ ہوگی جب تک وُہ شخص بیوی کو یہ بات کہہ نہ دے، اور اگر دوسرے کو کہا کہ تُو میری بیوی کو طلاق لکھ دے، تو اسی وقت طلاق ہوگی جس طرح کہ کہا''اس کو طلاق پہنچادے'' یا جس طرح کہا'' تو میری بیوی کی طرف لکھ دے کہ اس کو طلاق ہے
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الطلاق     نولکشور لکھنؤ    ۱ /۲۱۰)
وخالف العقود فی مسئلۃ قل لھا ھی کذافجعلہ توکیلا فراجع۔ (عہ)'' اور عقوددریہ نے''بیوی کو کہہ دے کہ اس کو طلاق ہے'' کے مسئلہ میں مخالف قول کیا ہے اور کہا کہ یہ خاوند کی طرف سے یہ دوسرے شخص کو وکیل بنانا ہے، تو عقوددریہ کی طرف تحقیق کے لئے رجوع کرنا چاہئے۔(ت)
عہ : عبارۃ العقود ھکذا سئل فی رجل قال لآخر قل لامرأتی تکون طالقۃ بالثلث ولم یقل لھا الاٰخر شیئا فھل لاتطلق مالم یقل لھا الجواب نعم لانہ توکیل کما صرح بہ فی البزازیۃ فی نوع الفاظہ۲؎اھ وکنت کتبت علی ھامشہ مانصہ، اقول المضارع انما یعمل اذا غلب للحال ح، ھو کقولہ قل لھا ھی طالق وصرح فی الخانیہ انھا تطلق بذٰلک فی الحال بخلاف قولہ قل لھا انت طالق فلاتطلق مالم یقل، راجع وحرر وان کانت المسئلۃ(اعنی مسئلۃ العقود) قل لامرأتی تکوی طالقۃ(بزیادۃ الیاء وحذف النون کما ھو لغۃ شائعۃ لاسیمافی العوام حتی تکون الصیغۃ للخطاب) فالجواب صحیح بلاریب وموافق لما فی الخانیۃ فلتراجع البزازیۃ اھ ثم من المولی سبحٰنہ وتعالٰی بالبزازیۃ فاتضح ان الامر کما فھمت وان(تکون) تصحیف من (تکونی) فان عبارۃ البزازیۃ ھکذا قال لھا قولی اناطالق فقالت وقع وان لم یقل لا، بخلاف مالو قال لاٰخر قل لامرأتی انھا طالق حیث تطلق قال الرجل ام لا، اصلہ ماذکر فی الاصل قال لآخراخبرھا بطلاقھا او بشرھا اواحمل الیھا طلاقھا یقع اخبر ام لا، ولو قال لاٰخر قل لھا انت طالق لاتطلق مالم یقل لانہ توکیل۳؎اھ فھو کما تری مطابق لما فی الخانیۃ ومختص بصورۃ الخطاب۔ واﷲتعالٰی اعلم بالصواب ۱۲منہ۔
عقود کی عبارت یُوں ہے : اس شخص کے متعلق سوال ہُوا جس نے دُوسرے کو کہا'' تُو میری بیوی سے کہہ دے کہ تُو تین طلاق والی ہے' ' اور جبکہ دوسرے شخص نے یہ بات اس کی بیوی کو نہ کہی ہوتو کیا طلاق نہ ہوگی جب تک وُہ شخص بیوی کو یہ بات نہ کہہ دے، اس سوال کے جواب میں فرمایا ہاں (نہ ہوگی) کیونکہ وکالت ہے جیسا کہ بزازیہ میں اس کی تصریح ''طلاق کے الفاظ کے اقسام'' میں ہے اھ۔ میں نے اس کے حاشیہ پر لکھا، جو یہ ہے، اقول(میں کہتا ہوں)مضارع کا صیغہ طلاق میں تب عمل کرے گا جب اس سے غالب طور پر حال مراد ہو، توا یسی صورت میں اس کا حکم ایسا ہوگا جیسے خاوند دوسرے کو کہے کہ بیوی کو کہہ دو اس کو طلاق ہے، اور خانیہ میں تصریح ہے کہ اس سے اسی وقت طلاق ہوگی، بخلاف جب کہے''بیوی کو تُو کہہ دے کہ تجھے طلاق ہے'' تو طلاق نہ ہوگی جب تک وہ نہ کہہ دے اس کی طرف رجوع کرکے دیکھو، اور اگر یہ عقود کا مسئلہ، یوں  ہو کہ، دوسرے کو خاوند کہے، کہ، تُومیری بیوی سے کہہ دے''تو طلاق والی ہوجا'' (تکون میں نون کا حذف اور یاء کا اضافہ کرکے کہے جیسا کہ یہ عام طور پر خصوصاً عوام میں مشہور ہے، تو یہ بصیغہ امر خطاب ہوگا) تو عقود کا یہ جواب بلاشک وشبہہ درست ہوگا، اور خانیہ کے بیان کے موافق ہوگا، تو بزازیہ کی عبارت پر غور کرواھ، پھر اﷲتعالٰی نے احسان فرماکر بزازیہ کا مسئلہ واضح کردیا کہ معاملہ وہی ہے جو میں نے ذکر کیا اورسمجھا کہ "تکونی" کی تبدیلی میں "تکون" ہوگیا، کیونکہ بزازیہ کی عبارت یُوں ہے خاوند نے یہ کہہ دیا تو طلاق ہوجائے گی ورنہ اگر خاوند نے نہ کہا تو طلاق نہ ہوگی، اس کے برخلاف جب خاوند نے دُوسرے شخص کو کہا کہ تُومیری بیوی سے کہہ دے کہ'' وہ طلاق والی ہے'' تو طلاق ہوجائے گی وہ شخص بیوی سے کہے یا نہ کہے، اس کا اصل مبسوط میں مذکور ہے کہ خاوند نے دوسرے کو کہا کہ تُومیری بیوی کو طلاق کہہ دے یا اس کو خوشخبری طلاق کی دے یا تو اس کی طلاق اس کو لیجادے،ا ن صورتوں میں خبر دے یا نہ دے ہر طرح طلاق ہوگی اور خاوند نے دوسرے کو یُوں کہا کہ تُومیری کوکہہ کہ تجھے طلاق ہے، تو جب تک وُہ شخص بیوی کو کہہ نہ دے گا طلاق نہ ہوگی، کیونکہ یہ اس شخص کو وکیل بنانا ہوا اھ، تو جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ خانیہ کے مطابق ہے اور خطاب کے صیغہ سے مختص صورت ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم بالصواب۔(ت)
 (۲؎ العقودالدریۃ    کتاب الطلاق     حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان     ۱ /۴۱)

(۳؎ فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیہ     کتاب الطلاق     نورانی کتب خانہ پشاور   ۴/۷۵ ۔۱۷۴)
 (۶۸) میں تجھے طلاق دیتا ہُوں،
فی الھندیۃ وفی المحیط لوقال بالعربیۃ اطلق لایکون طلاقا الااذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا۱؎، وفیھا عن الخلاصۃ قالت طلاق بدست مرا طلاق کن فقال الزوج طلاق میکنم طلاق میکنم وکرر ثلثا طلاقت ثلثا بخلاف قولہ کنم لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک۔۲؎
ہندیہ میں ہے: اور محیط میں ہے اگر عربی میں مضارع (اطلق)کہا تو طلاق نہ ہوگی، مگر جب یہ لفظ غالب طور پر حال کے لئے استعمال ہوتا ہو توطلاق ہوجائے گی، اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ بیوی نے خاوند کو کہا''طلاق تیرے اختیار میں ہے مجھے طلاق کردے'' تو خاوند نے اگر جواب میں یہ کہا''میں طلاق کررہا ہُوں طلاق کررہا ہوں'' تین مرتبہ تکرار کیا تو تین طلاقیں ہوں گی، اس کے برخلاف اگر یُوں کہے''میں کروں گا'' تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ استقبال ہے لہذا شک ہوگا اور طلاق نہ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۴)

(۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ         نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۳۸۴)
Flag Counter