| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ روحی طالق تحلی للیہودی وتحرّمی علیّ وعمن قال روحی طالق تحلی للخنازیر وتحرمی علی، اجاب بانہ رجعی لان قولہ روحی طالق صریح فیہ، وقولہ تحلی للیہوداوللخنازیر لغولانہ خلاف المشروع وھو لایملکہ، وقولہ وتحرمی ای حرمۃ تحصل بانقضاء العدۃ اذھو ثابت شرعا بصریح الطلاق بعد الدخول۳؎۔
خیریہ میں ہے ان سے سوال ہُوا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا''جا طلاق ہے تُو یہودیوں کے لئے حلال اور مجھ پر حرام'' اور یوں ایک دوسرے نے بیوی کو کہا ''جا طلاق ہے تُوخنزیروں کے لئے حلال اور مجھ پر حرام ہے'' تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طلاق رجعی ہوگی، کیونکہ''جا طلاق ہے'' صریق طلاق ہے، اور اس کا یہ کہناتو یہودیوں یاخنزیروں کےلئے حلال ہے، لغوبات ہے اور خلافِ شرع ہے جس کا اسے اختیار نہیں،اور اس کا یہ کہنا کہ''تُومجھ پر حرام ہے'' سے مراد وہ حرمت ہے جو عدّت گزرنے کے بعد ہوتی ہے جیسا کہ شریعت میں مدخولہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد حرمت ہوتی ہے(ت) مگر یہ اس وقت جبکہ اس لفظ سے کہ''مجھ پرحرام ہو'' طلاق کی نیت نہ کی ورنہ دوبائن پڑیں گی،
(۳؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۵۰)
فی الشامی نعم لو قصد بقولہ وتحرّمی علیّ ایقاع الطلاق وقع بہ اخری بائنۃ ۱؎اھ اقول ولایردان تحریما اوتحریم نفسہ علیہا طلاق بلانیۃ کما تقدم لان ھذا مضارع ظاہرہ الاستقبال کقولہ طلاق کنم او تکونین مطلّقۃ فافھم۔
فتاوٰی شامی میں ہے ہاں اگر اس نے ''تُومجھ پرحرام ہے'' سے نئی طلاق واقع کرنے کا ارادہ کیا ہوتو یہ دوسری طلاق بائنہ ہوگی اھ،اقول(میں کہتا ہوں) یہاں یہ اعتراض ہوگا کہ پہلے گزرا ہے کہ بیوی کو اپنے لئے یا اپنے آپ کو بیوی پر حرام کرنا، بغیر نیت بھی طلاق ہوگی جبکہ یہاں یہ کہنا کہ''نئی طلاق کی نیت سے مجھ پر حرام ہے'' کہا تو نیت سے طلاق، تو دونوں بیان آپس میں مختلف ہیں، تو جواب یہ کہ یہاں ''تحرمی'' (تو مجھ پرحرام ہوگی) ظاہر طور پر یہ استقبال ہے، جیسا کہ میں طلاق دُوں گا یا تو طلاق والی ہوگی، کا حکم ہے، غور کرو۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۵۱)
(۴۴) تومطلقہ اور بائنہ یا(۴۵) مطلقہ پھر بائنہ ہے،
فی الدرولو عطف فقال وبائن اوثم بائن ولم ینو شیئا فرجعیۃ۲؎۔
درمیں ہے: اگر عطف کیا تو یُوں کہا انت طالق وبائن، یا یوں کہا انت طالق ثم بائن، اور لفظ بائن سے کوئی نئی طلاق مراد نہ لی تو ایک ہی رجعی طلاق ہوگی(ت)
(۲؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبا ئی دہلی ۱ /۲۲۲)
مگر جبکہ ہر لفظ سے جُدا طلاق کی نیت کی ہوتو دو۲ بائنہ ہیں،
فی ردالمحتار ومفھوم التقیید بعدم النیۃ انہ لونوی تکریر الایقاع مع الحروف الثلثۃ اونوی بالبائن الثلاث انہ یقع مانوی۳؎۔
ردالمحتار میں ہے: نیت نہ ہونے کامطلب یہ ہُوا کہ اگر اس نے نئی طلاق کی نیت سے تینوں حروف کہے ہوں اور تین طلاقوں کی نیت سے یہ تکرار کیا یا بائن سے تین کی نیت کی ہو، جو بھی نیت کی ہوگی وہ واقع ہوگی۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۵۰)
(۴۶) عورت کے بیٹے کو دیکھ کر کہ اے طلاقن کے جنے، (۴۷) اے مادر طلاقہ (عہ) ،
عہ: ھکذا فی الاصل ولعلہ نسخہ الناسخ وعندی صوابہ ای مادرت شش طلاقہ کما یجئی عن الھندیۃ ۱۲ فقیر حامد رضا قادری اصل (قلمی نسخہ) میں ایسے ہی ہے اور ممکن ہے یہ ناقل کی غلطی ہو، میرے خیال میں درست یوں ہے اے مادرت شش طلاقہ، جیسا کہ ہندیہ سے آئیگا۱۲ فقیر حامد رضاقادری
فی الھندیۃ عن الظہیریۃ رجل من عادتہ ان یقول اذارأی صبیا ای ماردت شش طلاقہ فسکرمن الخمر فاتاہ ابنہ فظنہ صبیا اجنبیاً فقال رواے مادرت شش طلاقہ ولم یعلم انہ ابنہ طلقت امرأتہ ثلثا۱؎اھ۔
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے کہ ایک شخص کی عادت ہے کہ وُہ جب کسی بچّے کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے''اے تیری ماں چھ طلاق والی'' تو اس کو شراب کا نشہ تھا اس حالت میں اس کا اپنا بیٹاآیا تواس نے نشے میں سمجھا کہ کوئی اجنبی بچّہ ہے تو اس نے اس کو بھی ''جا اے تیری ماں چھ طلاق والی'' کہہ دیاتو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی اھ(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۵)
اقول(اس میں بھی وہی تفصیل چاہئے جو لفظ مطلقہ وغیرہ میں گزری کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) (۴۸) تجھ پر پوری یا(۴۹) آدھی یا(۵۰) تہائی وغیرہ (۵۱) تجھ پر طلاق کا ہزارواں حصہ،
فی الدروجزء الطلقۃ ولو من الف جزء تطلیقۃ لعدم التجزی۲؎۔
درمیں ہے: طلاق کی جزء خواہ ہزارویں جُز، ایک ہی طلاق ہوگی، کیونکہ طلاق کے اجزاء نہیں ہوسکتے۔(ت)
(۲؎ درمختار باب السابع مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۹)