Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
123 - 155
یُوں ہی وہ الفاظ جو کچّی زبان والے کہتے ہیں، مثلا(۲۶) تلاق،(۲۷) تلاک، (۲۸) تلاغ، (۲۹)تلاکھ، (۳۰) تلاخ، (۳۱)تلّاکھ، (۳۲)تلّاخ ھٰذا ن بتشدید اللام (یہ دونوں الفاظ لام مشدّد کے ساتھ بھی ہیں۔ت) بلکہ توتلے کی زبان سے (۳۳)تلات
وعلٰی ھٰذاالقیاس، وکلہ ظاھر،فی الطحطاوی ذکرفی البحران الفاظ المصحفۃ خمسۃ وھی تلاق وتلاغ وطلاک وطلاغ، تلاک زادفی النھر تلاع وتلال و ینبغی ان یقال ان الفاء اماطاء اوتاء واللام اماقاف اوعین اوغین اوکاف اولام واثنان فی خمسۃ بعشرۃ الصریح منھا الطاء مع القاف وماعداذٰلک مصحف ۲؎اھ اقول وذکر فی الخلاصۃ رجل قال لامرأتہ تراتلاق ھٰھنا خمسۃ الفاظ(وعد منھا) طلاغ وتلاک عن الامام ابی بکر محمد بن الفضل انہ یقع وان تعمد وقصدان لایقع(عہ)قضاء ویصدق دیانۃ۳؎۔
اسی پرقیاس ہے اور سب ظاہر ہے۔ طحطاوی میں ہے کہ بحر میں ہے کہ تبدیل شدہ الفاظ پانچ ہیں: تلاق، تلاغ،طلاک، طلاغ، تلاک،۔ اور نہر میں تلاع اور تلال کوبھی شامل کیا ہے۔ تو یہاں یہ بیان مناسب ہوگا، ان الفاظ میں پہلا حرف (فاء کلمہ) ت یاط ہے اور آخری حرف(لام کلمہ) ق، ع، غ،ک،یال ہے تو یوں پہلے حرف کے دو۲ احتمال کو آخری حرف کے پانچ احتمالات میں ضرب سے کل دس۱۰ صورتیں (الفاظ) ہُوئیں ان میں سے ط اور ق کے ساتھ لفظ طلاق میں صریح ہے، اور اس کے علاوہ باقی تمام تبدیل شدہ ہیں اھ___اقول(میں کہتا ہوں کہ) خلاصہ میں یُوں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے بیوی کو کہا تجھے تلاق ہے، یہاں پانچ الفاظ ہیں، ان میں انہوں نے طلاغ اور تلاک کو شمار کیا ہے، اور کہا کہ امام ابوبکر محمد بن فضل نے فرمایا کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگی،اور اگر وُہ قاضی کے ہاں کہے میں نے ان الفاظ سے یہ قصد کیا ہے کہ طلاق واقع نہ تو قاضی اس کی تصدیق نہ کرے گا، لیکن دیانۃً تصدیق کی جائے گی۔(ت)
عہ: ھٰھنا سقط والعبارۃ فی الخلاصۃ ھکذا ولایصدق قضاء۱۲حامد رضاغفرلہ۔
یہاں کچھ عبارت رہ گئی ہے خلاصہ میں عبارت اس طرح ہے قضاءً تصدیق نہ کی جائے ۱۲ حامد رضاغفرلہ(ت)
 (۲؎ طحطاوی علی الدرالمختار         باب الصریح             دارالمعرفۃ بیروت     ۲ /۱۱۲)

(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی         کتاب الطلاق جنس آخرفی الفاظ الطلاق    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۲ /۸۳)
کسی نے کہا تیری عورت پر طلاق ہے کہا (۳۳)ہاں یا (۳۴) کیوں نہیں،
فی الدرولوقیل لہ طلقت امرأتک فقال نعم اوبلٰی بالھجاء طلقت بحر۱؎۔درمیں ہے : اگر کسی نے خاوند سے پُوچھا''تُونے بیوی
کوطلاق دی ہے'' تواس نے جواب میں کہا''ہاں'' یا ''کیوں نہیں'' کے ہجے کرتے ہُوئے، توطلاق ہوجائے گی، بحر۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب الصریح         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۱۸)
مگرجب ایسی سخت آواز ایسے لہجہ سے کہا جس سے انکا وعدمِ اقرار سمجھاجائے، یہ فائدہ اکثر جگہ قابلِ لحاظ ہے فی الخانیۃ والخزانۃ وغیرہما(خانیہ اور خزانہ وغیرہما میں ہے۔ت) یا کہا تیری عورت پر طلاق نہیں، کہا کیوں نہیں(اور اگر کہے نہ یا ہاں تو طلاق نہ ہوگی)
اما الاول فانہ صریح فی الانکار اما الاٰخر ففیہ احتمالان اثبات النفی واثبات المنفی ای الطلاق فلایقع بالشک، اقول ولایردمافی الفتح من عدم الفرق بین نعم وبلٰی لان مبناہ علی العرف کما قال صاحب الفتح والذی ینبغی عدم الفرق فان اھل العرف لایفرقون بل یفھمون منھما ایجاب المنفی ۲؎اھ امافی عرفنا فمعناہ کما قلت فی ردالمحتار عن البحر ان موجب نعم تصدیق ماقبلھا من کلام منفی اومثبت استفہاماًکان اوخبرا، وموجب بلی ایجاب مابعد النفی استفھاماً کان اوخبرا، الاان المعتبر فی احکام الشرع العرف حتی یقام کل واحد منھما مقام الاٰخر۱؎اھ۔
ان میں پہلا لفظ (نہ) صریح انکار ہے، اور دوسرا(ہاں) تو اس میں کئی احتمالات ہیں، نفی کااثبات یا منفی یعنی طلاق کا اثبات، تو ایسی صورت میں شک ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ اقول(میں کہتا ہوں) فتح میں یہاں ''ہاں''اور''کیوں نہیں'' میں عدم فرق کوذکر کرنا قابل اعتراض نہیں کیونکہ ان کے اس بیان کا مبنٰی عرف پر ہے جیسا کہ صاحبِ فتح نے خود بیان کیا ہے کہ مناسب یہی ہے کہ ان دونوں میں فرق نہ ہو کیونکہ عرف والے ان میں فرق نہیں کرتے بلکہ وُہ دونوں میں منفی کا اثبات سمجھتے ہیں اھ، لیکن ہمارے عُرف میں ان دونوں میں فرق ہے، جیسا کہ میں نے کہا ہے۔ ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ نعم(ہاں)کااستعمال پہلی کلام کی تصدیق کےلئے ہوتا ہے خواہ وُہ مثبت ہو منفی استفہامی ہو یا خبر ہو، اوربلٰی(کیوں نہیں) کا استعمال پہلی کلام میں نفی کا اثبا ت کرنے لئے ہوتاہے خواہ وہ نفی استفہام میں ہویا خبر میں، مگر احکامِ شرع میں بہر حال عرف کا اعتبار ہے، حتی کہ عرف میں ایک دوسرے کی جگہ استعمال مراد لیا جاتا ہے اھ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار بحوالہ فتح القدیر        مطبع مجتبائی دہلی  ۲ /۴۵۳) 

(۱؎ ردالمحتار         باب الصریح         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۵۳)
 (۳۷) تجھے طلاق ہے اور مجھے اختیار  رجعت نہیں،
فی الشامی عن الخیریۃ عن الصیرفیۃ انت طالق ولارجعۃ لی علیک فرجعیۃ۲؎۔
فتاوی شامی میں خیریہ سے اور انہوں نے صیرفیہ سے نقل کیا کہ اگرخاوند نے کہا''تجھے طلاق اور مجھے رجوع کا حق نہیں ہے'' تو ایک رجعی طلاق ہوگی(ت)
 (۲؎ ردالمحتار         باب الصریح         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۴۵۱)
 (۳۸) تجھ پر طلاق ہے نہ پھیرے تجھے کوئی قاضی نہ حاکم نہ عالم،
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ انت طالق لایردک قاضی ولاوال ولاعالم ھل یکون بائنا ام رجعیا اجاب ھو رجعی ولایملک اخراجہ عن موضوعہ الشرعی بذٰلک ۳؎۔
خیریہ میں ہے: سوال کیاگیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا''تجھے طلاق ہے تجھے کوئی قاضی، کوئی حاکم یا عالم واپس نہ کرسکے، تو کیا اس صورت میں طلاق رجعی ہوگی یابائن؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رجعی ہوگی، اور اس کے کہنے سے شرعی ضابطہ ختم نہ ہوگا۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الطلاق     دارالمعرفۃ بیروت         ۱ /۴۶)
تو(۳۹) مذہب یہودیا نصارٰی یا چاروں مذہب یا سب (۴۱)مذاہب مسلمین پر مطلقہ،
فی الخیریۃ قال فی منح الغفار اقول وقد کثر فی زماننا قول الرجل انت طالق علی الاربعۃ مذاھب یرید بذٰلک ان الطلاق یقع علیھا باتفاقھم وینبغی الجزم بوقوعہ قضاء ودیانۃ کمالایخفی اھ اقول ولاشبہۃ فی کونہ رجعیا لابائنا لماقدمنا۱؎، سئل عن رجل قال لزوجتہ انت طالق علی مذہب الیھود والنصاری، وعن رجل قال لزوجتہ انت طالق علی سائر مذاھب المسلمین اجاب فیھما بانہ طلاق رجعی۲؎۔
خیریہ میں ہے: منح الغفار میں کہا''میں کہتاہوں کہ ہمارے زمانہ میں خاوند کا قول تجھے چاروں مذہب طلاق'' تو اس سے مراد یہ ہے کہ تمام مذاہب پر متفقہ طلاق ہے، تو ایسی صورت میں یقینا طلاق ہوجائے گی قضاءً بھی اور دیانۃً بھی، جیسا کہ واضح ہے اھ، اقول(میں کہتاہوں) یہ طلاق بلاشبہہ رجعی ہوگی بائنہ نہ ہوگی، جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے، نیز ان سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے بیوی کو کہا تجھے یہودی اور نصرانی مذہب پر طلاق، دوسرے نے کہا تجھے مسلمانوں کے تمام مذاہب پر طلاق، تو انہوں نے جواب دیاکہ یہ طلاق رجعی ہوگی۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الطلاق    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۴۶)

(۲؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الطلاق    دارالمعرفۃ بیروت   ۱ /۴۷)
Flag Counter