Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
122 - 155
(۱۵) تجھ پر طلاق،
فانہ من اصرح صریح فی زماننا وعرفنا فلایرد مافی البحر و ذٰلک مثل قول الدر علیّ الطلاق، یقع بلانیۃ للعرف قال الشامی ولاینافی ذٰلک مایاتی من انہ لوقال طلاقک علی لم یقع ، لان ذاک عند عدم غلبۃ العرف۲؎۔الخ۔
تو یہ صریح طلاق سے بھی زیادہ واضح طلاق ہے ہمارے زمانہ اور عرف میں، لہذا بحر کابیان یہاں اعتراض کے طور پر وارد نہ ہوگا اور جیسا کہ دُر کا قول کہ ''مجھ پر طلاق ہے'' کہا توبغیر نیّت بھی طلاق ہوجائے گی کیونکہ یہ عرف میں طلاق ہے،تو اس پر علامہ شامی نے فرمایا: دُر کی یہ بات آئندہ آنے والی اس بات کے منافی نہیں جس میں کہا گیا ہے کہ''مجھ پر طلاق'' کہنے پر طلاق نہ ہوگی، یہ اس لئے کہ یہ وہاں ہے جہاں یہ لفظ طلاق کےلئے عُرفِ غالب نہ ہو الخ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار         باب الصریح             داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۳۲)
 (۱۶) طلاق ہوجا،
فی الدرویدخل طلاق باش بلافرق بین عالم وجاہل۱؎۔
در میں ہے کہ اگرکہا''طلاق ہو'' یہ بھی صریح طلاق کے حکم میں داخل ہے خواہ عالم کہے یاجاہل کہے کوئی فرق نہیں۔(ت)
 (۱؎ درمختار         باب الصریح         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۱۸)
 (۱۷) تو طلاق ہے، (۱۸)تو طلاق ہوگئی،
فی الدروفی انت الطلاق او طلاق، یقع واحدۃ رجعیۃ ان لم ینوشیئا اونوی واحدۃ او ثنتین فان نوی ثلاثا فثلث۲؎۔
درمیں ہے: اگر کہا''تو طلاق ہے'' تو ایک رجعی طلاق ہوگی خواہ کوئی نیت نہ ہویا ایک یادو کی نیت کی ہو، اور اگر تین طلاق کی نیت سے یہ لفظ کہا تو تین طلاقیں ہوں گی۔(ت)
 (۲؎درمختار  باب الصریح         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۱۸)
 (۱۹) طلاق لے،
فی ردالمحتار خذی طلاقک فقالت اخذت فقد صحح الوقوع بہ بلااشتراط نیۃ کما فی الفتح وکذایشترط قولھا اخذت کما فی البحر۳؎۔
ردالمحتار میں ہے: اگرکہا''اپنی طلاق لے'' جواب میں بیوی نے کہا''میں نے لی'' تو نیت کے بغیر بھی طلاق ہوگی، صحیح یہی ہے، جیسا کہ فتح میں ہے، اور اس میں عورت کا جواب میں ''میں نے لی'' کہنا بھی شرط نہیں ہے، جیساکہ بحر میں ہے(ت)
 (۳؎ ردالمحتار         باب الصریح         داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۳۰)
وُہ باہر جاتی تھی کہ کہا(۲۰) طلاق لئے جا،
فی الخانیۃ واذاجرت الخصومۃ بینھا وبین زوجھا فقامت لتخرج فقال(الزوج سہ طلاق باخویشتن طلاق ببر)فقال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲتعالٰی ان نوی الایقاء یقع فان لم تکن لہ نیۃ فکذٰلک لانہ ایقاء ظاھرا۴؎۔
خانیہ میں ہے: اگر خاوند بیوی میں جھگڑا ہُوا اور بیوی اٹھ کر باہر جانے لگی تو خاوند نے کہا''اپنے ہمراہ تین طلاقیں لے جا'' اس پر شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا: اگرخاوند نے طلاق واقع کرنے کی نیّت سے کہا تو طلاق ہوجائے گی اور نیت نہ ہو تو بھی طلاق ہوجائیگی کیونکہ اس کلام کاظاہر طلاق ہے۔(ت)
 (۴؎ فتاوٰی قاضی خاں         کتاب الطلاق     نولکشور لکھنؤ    ۲ /۲۱۲)
 (۲۱) اپنی طلاق اٹھا اور روانہ ہو،
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ ولو قال لھاسہ طلاق خود بردار ورفتی یقع بدون النیۃ۱؎۔
ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے: اگر کہا''تو اپنی طلاق اٹھا اور جا'' تو بغیر نیت بھی طلاق ہوجائے گی۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۲)
 (۲۲) میں نے تیری طلاق تیرے آنچل میں باندھ دی،
فی الخزانۃ عن الخلاصۃ ولو قال سہ طلاق بکرانہ چادر تو بربستم بروتطلق۲؎۔
خزانہ میں خلاصہ سے منقول ہے: اگرکہا''میں نے تیری طلاق تیرے آنچل میں باندھ دی جا'' توطلاق ہوگی(ت)
 (۲؎ خزانہ المفتین     فصل فی صریح الطلاق         قلمی نسخہ         ۱ /۱۰۸)
 (۲۳) جاتجھ پرطلاق(اور اگر صرف جا بنیّتِ طلاق کہتا تو بائن تھی)
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ روحی طالق ھل تطلق طلاقا رجعیا ام بائنا واذاقلتم تطلق رجعیا فما الفرق بینہ وبین مااذا اقتصر علی قولہ روحی ناویا بہ طلاقا حیث افتیتم بانہ بائن اجاب بانہ فی قولہ روحی طالق معناہ روحی بصفۃ الطلاق فوقع بالصریح بخلاف روحی فان وقوعہ بلفظ الکنایۃ۳؎۔
خیریہ میں ہے:ان سے سوال کیاگیا کہ ایک شخص نے بیوی کو کہا''جا تجھ پر طلاق رجعی ہوگی یابائنہ ہوگی۔ اگر آپ کہیں کہ یہ رجعی ہے تو پھر صرف''جا''کہنے میں اور اس میں کیا فرق ہوگا جبکہ طلاق کی نیّت سے صرف ''جا'' کہا تو آپ کا فتوٰی ہے کہ یہ طلاق بائنہ ہے۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا''جا تجھ پر طلاق'' کامطلب یہ ہے کہ تو طلاق کی صفت سے موصوف ہوکر جا، تو یہ صریح طلاق ہے اس لئے رجعی ہوگی، اس کے برخلاف اگر صرف ''جا'' کہا توصریح نہیں بلکہ کنایہ ہے اس لئے یہ بائنہ ہوگی۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الطلاق         بولاق مصر        ۱ /۵۱)
(۲۴) تجھے طلاق یا طلاق تجھ کو،
فی الھندیۃ خزانۃ المفتین ولو قال لھا تراطلاق او طلاق ترا فھی طلاق ولافرق بین التقدیم والتاخیر۱؎۔
ہندیہ میں خزانۃ المفتین سے منقول ہے''تجھے طلاق یا طلاق تجھے'' تو اس تقدیم و تاخیر میں کوئی فرق نہیں ہرطرح یہ طلاق ہوجائے گی(ت)
 (۱؂ فتاوٰی ہندیہ         الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ      نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۴)
Flag Counter