Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
121 - 155
رجعی کے بعض الفاظ یہ ہیں،

(۱) میں نے تجھے طلاق دی، (۲) اے مطلّقہ بتشدید لام، (۳) اے طلاق گرفتہ،(۴) اے طلاق دی گئی، (۵) اے طلاقن، (۶) اے طلاق شدہ، (۷) اے طلاق یافتہ، (۸) اے طلاق کردہ،
فی الدروانت طالق ومطلّقۃ بالتشدید ۲؎۔
دُرمیں ہے''تو طلاق والی ہے یا طلاق دی ہُوئی'' بالتشدید۔(ت)
(۲؎ درمختار  باب الصریح  مطبع مجتبائی دہلی  ۱/۲۱۸)
(۹) اے طلاق دادہ،
فی الخزانۃ ولو قال لھا ای طلاق دادہ یقع واحدۃ۳؎۔
خزانہ میں ہے کہ اگر کہا''اے طلاق دی ہوئی'' تو ایک طلاق واقع ہوگی(ت)
 (۳؎ خزانۃ المفتین     فصل فی صریح الطلاق    قلمی نسخہ             ۱ /۱۱۰)
مگر اس عورت نے اگر اپنے پہلے شوہر سے طلاق پائی تھی بایں معنی اس نے یہ آٹھ الفاظ کہے تو طلاق نہ ہوگی،

فی الخانیۃ رجل قال لامرأتہ یا مطلقۃ وکان لھا زوج قبلہ وقد کان طلقھا ذلک الزوج ان لم ینوبکلامہ الاخبار طلقت، وان قال عنیت بہ الاخبار دین فیما بینہ وبین اﷲتعالٰی وھل یدین فی القضاء اختلفت الروایات فیہ والصحیح انہ یدین۱؎۔

خانیہ میں ہے:اگر خاوند نے بیوی کو کہا''اے طلاق دی ہُوئی'' جبکہ اس بیوی کوپہلے کسی خاوند نے طلاق دی تھی، تو اگر خاوند نے پہلے واقعہ کی حکایت کی نیت نہ کی تو طلاق ہوجائے گی، اور اگر اس نے کہا کہ میں نے پہلے واقعہ کی حکایت اور خبردی ہے تو دیانۃً یعنی اﷲ تعالٰی کے ہاں اس بات کو تسلیم کیا جائے گا، لیکن کیا قضاءً بھی اس کی بات تسلیم کی جائےگی یانہیں، اس میں روایات کا اختلاف ہے، اور صحیح یہ ہے کہ تصدیق کیجائے اور طلاق نہ ہونے کا فیصلہ دیاجائے گا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں        کتاب الطلاق     نولکشور لکھنؤ        ۱ /۲۰۹)
 (۱۰) میں نے تجھے چھوڑدیا،
فی الھندیۃ ترابھشتم فھذا تفسیر قولہ طلقتک عرفا حتی یکون رجعیا۲؎۔
ہندیہ میں ہے، اگر کہا''میں نے تجھے چھوڑدیا'' تو عرف میں یہ''میں نے تجھے طلاق دی''کے معنی میں ہے حتی کہ اس سے رجعی طلاق ہوگی(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ         الفصل السابی فی الطلاق بالفاظ الفارسیۃ     نورانی کتب خانہ ۱ /۳۸۹)
 (۱۱) میں نے تجھے فارغخطی یا(۱۲)فارکھتی دی،
فانہ بلسان کثیر من اھل الحرف الدنیۃ کالحائکین وغیرہم صریح فی الطلاق بل کثیر منھم لایعرف للطلاق لفظا غیرھذا ومعلوم ان کلام کل حالف یحمل علی عرف(عہ)خاصۃ ولایجب شیوع ذلک العرف فی الناس عامۃ کما صرح بہ المحقق حیث اطلق۔
تو یہ لفظ کسبی لوگوں کی زبان میں صریح کے معنٰی میں ہے بلکہ بہت سے لوگ اس کے علاوہ کوئی لفظ طلاق کےلئے سمجھتے ہی نہیں، اور یہ بات مسلّمہ ہے حلف والے کی کلام کو اس کے خاص عرف پر محمول کیا جائے گا، اور اس عرف کا تمام لوگوں میں معروف ہونا ضروری نہیں ہے جیسا کہ اس پر محقق ابن ہمام نے تصریح کی ہے(ت)
       

عہ: ھکذا فی الاصل بقلم الناسخ والصواب عندی علی عرفہ۔ حامد رضا غفرلہ۔  

اصل میں ناقل کے قلم سے اسی طرح ہے جبکہ میرے نزدیک علی عرفہ درست ہے۔ حامد رضاغفرلہ(ت)
(۱۳) تجھے تیرے شوہر نے طلاق دی، اس کا بھی وہی حکم ہے،
فی الھندیۃ سئل بعضھم عن سکران قال لامرأتہ؎

ای سرخ لبک بماہ ماند رویت

کہ بانوی من طلاق دادہ شویت
ہندیہ میں ہے کہ بعض علماء سے پوچھا گیا کہ جب کوئی شخص نشے میں اپنی بیوی کو یُوں کہے   : ''اے سرخ رخسارچاند جیسے چہرے والی میری بانو! تجھے طلاق دی گئی''

قال ینظر ان کانت المرأۃ ثیبا وکان قبل ھٰذا لھا زوج طلقھا ثم تزوجہا ھذا فانہ لایقع الطلاق بھٰذا اللفظ ان لم تکن لہ نیۃ الطلاق وان لم یکن لہ قبل ھذا زوج یقع الطلاق نوی اولم ینوکذافی التتارخانیۃ۱؎۔
تو انہوں نے جواب دیا کہ دیکھا جائے گا کہ اگر بیوی پہلے کسی خاوند سے مطلّقہ اور مدخولہ ہے اور بعد میں اس سے نکاح کیا، تو پھر اس لفظ سے طلاق نہ ہوگی بشرطیکہ اس نے طلاق کی نیت نہ کی ہو، اور اگر وُہ بیوی کسی سے مطلّقہ نہ ہُوئی تھی تو نیت کی یا نہ کی ہرطرح طلاق ہوجائے گی، جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ     فصل فیمن یقع طلاقہ الخ         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۵۴)
Flag Counter