Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
120 - 155
(۲۵) تجھ پروہ طلاق جس میں مجھے رجعت کااختیارنہیں، اس میں بالاتفاق ہمارے ائمہ کے مذہب میں طلاق بائن ہوگی۔ اوراگر یہ کہا''تجھ پر طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجعت کااختیار نہیں، جوہرہ میں فرمایا کہ اس میں رجعی ہوگی، اور بائن ہونے کو ضعیف بتایا مگر تبیین الحقائق اور غایۃ البیان اور فتح القدیر میں فرمایا کہ اوّل تو ہمیں رجعی ہونا مسلّم نہیں اور ہو بھی تو اس کی وجہ یہ ہے یہ ایک بحث ہے جس سے اصلاً مذہب ہمارے ائمہ کا اس صورت میں وقوع بائن ہونا ثابت نہیں ہوتا اگرچہ بحرالرائق میں اسی بحث کی بناء پر جزم فرمایاکہ یہاں وقوع بائن ہمارا مذہب ہے،

فی البحر عن الجوھرۃ ان قال انت طالق علی انہ لارجعۃ لی علیک یلغوویملک الرجعۃ وقیل تقع واحدۃ بائنۃ وان نوی الثلث فثلاث اھ وظاھر مافی الھدایۃ ان المذھب الثانی فانہ قال واذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا۱؎اھ

بحر میں جوہرہ سے منقول ہے: اگر خاوند نے کہا تجھے طلاق اس شرط پر جس میں مجھے رجعت کا اختیار نہیں، تویہ رجعی ہوگی،اور بعض نے کہا ایک بائنہ واقع ہوگی،اور اگر تین کی نیت کی تو تین ہوں گی۔ اور ہدایہ کے بیان سے ظاہر یہ ہے کہ دوسرا قول مختارِمذہب ہے کیونکہ اس نے کہا کہ اگر طلاق کو کسی شدّت اور زیادتی کے ساتھ موصوف کیا جائے تو وُہ بائنہ ہوگی اھ(ت)
 (۱ بحرالرائق     باب الکنایات     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۳ /۲۹۱)
اس کے سوا تیسری صورت ایک اور ہے وُہ یہ کہ تجھے طلاق ہے اور مجھے رجعت کا اختیار نہیں، اس میں بلاشبہ رجعی ہوگی کما فی الشامی ویاتی(جیسا کہ شامی میں ہے اور آگے آئے گا۔ت) یُونہی اگر کہا تجھ پر طلاق ہے اس شرط پر کہ اس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یُوں کہا تجھ پر وُہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یُوں کہا کہ تجھ پر وُہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہ ہوگی، تو ان سب صورتوں میں بلاخلاف رجعی ہونا چاہئے،
والسر فیہ ان الصور ھھنا ثلث العطف والشرط والوصف کقولہ انت طالق ولارجعۃ لی علیک اوانت طالق علی ان لارجعۃ لی علیک اوانت طالق طلقۃلارجعۃ لی فیھا علیک، الاول کلام مستقل لایغیر ماقبلہ فلایتغیرعن حکمہ الشرعی والثانی مغیر ویختلف النظرفیہ فمن نظر الی انہ تغیر لحکم الشرع، الغاہ و اوقع الرجعی لان شرط الرجعی احق واوثق ومن شرط مالیس فی کتاب اﷲ فشرطہ باطل وان شرط مائۃ شرط۱؎کماارشد الیہ الحدیث الصحیح ومن ارجعہ الی معنی الوصف اوقع بہ البائن فلم یجعلہ تغیرابل تعبیراکانہ یقول ان مرادی طلاق لارجعۃ لی فیہ وانت تعلم ان الاول اظہر لکن ربما یؤید ھذالان الاعمال اولی من الاھمال واماالثالث فلاشبہۃ فیہ عندنا  لما مرانہ اذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا،اماما ذکرت انہ ینبغی وقوع الرجعی بلاخلاف فیما اذاقال انت طالق طلقۃ لااراجعک بعدھا فالوجہ فیہ ان الطلاق الرجعی لایستلزم الرجعۃ فلاینافی عدمھا انما ینافی عدم اختیارھا، فحل محل ابعاد وبھذا القدر لایسلب منہ خیار الرجعۃ فمن جہتہ احتمال ھذاالمعنی لم یکن نصا فی ارادۃ البینونۃ فلم یکن بائنا بالشک، فاذا کان ھذا فی الوصف ففی الشرط اولی ھذاماظھر لی فلیراجع ولیحرر، واﷲتعالٰی اعلم۔
اس میں رازیہ ہے کہ یہاں تین صورتیں ہیں، ایک عطف،دوسری شرط، تیسری وصف، پہلی، جیسے کہے''تجھے طلاق اور مجھے رجوع کاحق تجھ پر نہیں۔'' دوسری، جیسے کہے''تجھے طلاق اس شرط پر کہ مجھے رجوع کا حق نہیں''۔ تیسری، جیسے کہے''تجھے وہ طلاق جس میں مجھے تجھ پر رجوع کا حق نہیں'' پہلی صورت میں عطف کی وجہ سے مستقل کلام ہے ماقبل کو تبدیل نہیں کرےگا اور ماقبل اپنے شرعی حکم سے متغیر نہ ہوگا، اور دوسری صورت میں شرط کی وجہ سے ماقبل متغیر کرے گا، اور اس میں وجہ مختلف ہے، جس نے یہ وجہ بنائی کہ ماقبل کےلئے مغیّر ہے اور شرعی حکم متغیر کررہا ہے، تو اس شرط کو لغو قرار دیااور ماقبل کو رجعی قرار دیا، کیونکہ اس کو رجعی کی شرط بنانا زیادہ وزنی ہے اور یہ کہا کہ اﷲ کے حکم کے خلاف شرط باطل ہے، اگرچہ ایسی سَوشرطیں بھی ہوں تو وُہ باطل ہوں گی جیساکہ حدیثِ صحیح میں ارشاد ہے۔ اور تیسری صورت وصف تو جس نے یہاں وصف قرار دیا انہوں نے کہا اس وصف کی وجہ سے طلاق بائنہ ہوگی، لہذا ان کے نزدیک یہ وصف پہلے بیان کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ اس کی تعبیرہے گویا اس نے کہا''طلاق سے میری مراد ایسی طلاق جس میں مجھے رجوع کا حق نہ ہو''۔ آپ جانتے ہیں کہ پہلی صورت واضح ہے، اور دوسری صورت میں شرط کو مؤثر ماننے کو ترجیح ہوگی کیونکہ کسی کلام کو عمل میں لانا اسے مہمل قراردینے سے بہتر ہے، اور تیسری صورت میں کوئی شُبہہ نہیں ہے کیونکہ جب طلاق کوکسی شدید اور زیادتی والے وصف سے موصوف کیا جائے تو وُہ طلاق بائنہ ہوجاتی ہے، لیکن خاوند کے اس قول میں ''تجھے طلاق وُہ کہ میں تجھ سے رجوع نہ کروں گا'' کے متعلق جو میں نے ذکر کیا ہے کہ اس میں بالاتفاق رجعی طلاق ہونی چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق رجعی کو رجوع لازم نہیں ہے بلکہ خاوند کی مرضی پر ہے،ہاں خاوند کا کہنا''میں رجوع نہ کروں گا'' رجوع کے عمل کے خلاف ہے تو اس کا یہ کہنا رجوع سے بعید ہے منافی نہیں، لہذا صرف اس وجہ سے خاوند کوعملاً رجوع سے نہیں روکا جاسکتا، تو اس احتمال کی بناپر مذکورہ الفاظ''بائنہ طلاق کے لئے نص نہ بن سکیں گے''تو اس شک کی وجہ سے طلاق بائنہ نہ ہوگی۔ جب وصف میں یہ گنجائش ہے تو شرط میں بطریق اولی گنجائش ہوگی، یہ وُہ ہے جو مجھ پر عیاں ہُوا، تاہم تحقیق کی طرف رجوع اور وضاحت کو اختیار کرنا چاہئے۔
 (۱؎ صحیح البخاری    باب اذاالشرط فی شروطالاتحمل    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۹۰)
 (۲۷) مجھ سے پردہ کر،

کما تقدم عن الشامی وھو قولہ استتری منی۔

جیسا کہ شامی کا بیان گزرا اور وہ، تومجھ سے پردہ کر۔(ت)

(۲۸) اے حرام ،(۲۹) تو حرام ہے،(۳۰) تومجھ پر حرام ہے،(۳۱) میں نے تجھے حرام کیا،(۳۲) میں نے تجھے اپنے اوپرحرام کیا،(۳۳) میں تجھ پر حرام ہوں،(۳۴) میں نے اپنے آپ کو تجھ پر حرام کیا،یہاں فقط حرام ہوں یا میں نے اپنے آپ کو حرام کیا کافی نہیں جب تک تجھ پر نہ کہے۔
فی ردالمحتار قولہ حرام سیاتی وقوع البائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف لافرق فی ذلک بین محرمۃ وحرمتک سواء قال علی اولا، اوحلال المسلمین علی حرام وکل حل علی حرام وانت معی فی الحرام وفی قولہ حرمت نفسی لابدان یقول علیک۱؎اھ قلت وھو کذٰلک بھذہ الالفاظ متعارف عندنا بخلاف مامرمن قولہ حلال اﷲ او المسلمین اوکل حلال فبھذہ الثلثۃ لایقع الطلاق الابالنیۃ لعدم العرف فی زماننا۔
ردالمحتار میں ہے: خاوند کاکہنا ''تو حرام ہے'' عنقریب آئے گا کہ اس سے ہمارے زمانہ میں طلاق کے لیے عرف بن جانے کی وجہ سے بغیر نیت طلاق ہوجائے گی۔ اس میں محرّمۃ یا حرمتک(حرام شدہ یا تجھے حرام کرتا ہوں) میں کوئی فرق نہیں، اور پھر ''مجھ پر'' کالفظ کہے یا نہ کہے تو بھی کوئی فرق نہ ہوگا، اور خاوند کا کہنا، مسلمانوں کا حلال مجھ پر حرام، اور ہر حلال مجھ پر حرام، تُو میرے ساتھ حرام میں ہے، ان میں کوئی فرق نہیں، تاہم حرمت نفسی(میں نے اپنے نفس حرام کیا)کے ساتھ علیک(تجھ پر) کہنا ضروری ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں) اس لفظ میں ہمارے زمانے میں بھی یہی حکم ہے کہ بغیر نیت طلاق ہوجائے گی، لیکن''اﷲکا حلال یامسلمانوں کا حلال اور ہر حلال مجھ پر حرام ہے'' اس کے برخلاف ہے، ان تین الفاظ سے بغیر نیت طلاق نہ ہوگی کیونکہ ہمارے زمانے میں یہ طلاق کےلئے معروف نہیں ہیں۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب الکنایات    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۶۴)
 (۳۵) ہزار طلاق کے برابرایک طلاق،
شامی عن البحر وفی واحدۃ کالف واحدۃ اتفاقا وان نوی الثلٰث۱؎۔
شامی نے بحر سے نقل کیا''ہزار طلاق کے برابر ایک طلاق''میں اتفاق ہے کہ ایک ہی ہوگی اگرچہ وُہ تین کی نیت کرے۔(ت)

ان سب صورتوں میں بے حاجت نیت طلاق بائن کاحکم دیا جائے گا۔
 (۱؎ ردالمحتار         باب الصریح         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۴۴۹)
Flag Counter