| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۱۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا ہندہ سے نکاح ہوا اور خلوتِ صحیحہ بر ضائے زوجہ واقع ہوگئی اور مہر مؤجل قرار پایا تھا اب ہندہ مطالبہ کرتی ہے اور زید کے پاس نہیں جاتی، اور زید درصورت نہ آنے ہندہ کے مہر دینے سے منکر ہے، اس صورت میں یہ مطالبہ صحیح اور بوجہ نہ آنے ہندہ کے مہر ساقط ہوجائے گا یا نہیں؟ بینواتوجروا الجواب کوئی جزومہر کا بعد وقوع خلوتِ صحیحہ ذمہ شوہر سے ساقط نہیں ہوسکتا اور تمامی مہر کا ادا کرنا زید پرلازم، مگر ہندہ کو بوجہ تأجیل و وقوعِ خلوت برضائے زوجہ بالاتفاق مطالبہ مہر ومنع نفس کا اختیار حاصل نہیں، امام ابویوسف سے کہ مہر مؤجل میں تخیر منع منقول ہے قبل از تسلیم نفس ووقوع وطی یا خلوت صحیحہ برضائے زوجہ پر محمول ہے کہ وُہ بعد از تسلیم مہر معجل میں بھی اختیارِ منع نہیں دیتے حالانکہ وہاں بوجہ تعجیل حق منع ومطالبہ مؤکد ہوچکا ہے پس مؤجل میں کہ ایسا نہیں بالاولٰی نہ دیں گے۔
فی الھدایۃ وللمرأۃ ان تمنع نفسھا حتی تاخذ المھر ای المعجل ولو کان المھر کلہ مؤجلالیس لھا ان تمنع نفسھا لاسقاطھا حقھا بالتأجیل کما فی البیع وفیہ خلاف ابی یوسف وان دخل بھا فکذٰلک الجواب عند ابی حنیفۃ وقالا لیس لھا ان تمنع نفسھا۱ ؎انتہی ملخصا ومثلہ فی غیرھا من کتب الفقہ۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
ہدایہ میں ہے:بیوی کو مہر معجل کی صورت میں اپنے اسے خاوند کو منع کرنے کا حق ہوتا ہے تک وصول نہ کرے، اور اگر تمام مہر مؤجل ہو تو پھر اس کو اپنے سے خاوند کو روکنے کاحق نہیں کیونکہ اس نے مہر مؤجّل کرکے اپنے مطالبہ کا حق ساقط کردیا ہے جیسا کہ بیع میں ہوتا ہے، اس میں امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کا اختلاف ہے اورمہر معجل کی صورت میں اگر دخول ہوچکا ہوتو عورت کومنع کا حق ہے مہر معجل وصول کرنے تک یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کا مسلک ہے۔ اس میں صاحبین کا قول یہ ہے کہ اس کو اس کے منع کا حق نہیں ہے انتہٰی ملخصاً، اسی طرح دوسری کتب میں بھی ہے۔ واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔(ت)
(۱؎ ہدایہ باب المہر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۳۱۴)
مسئلہ۱۹: ۲۵محرم ۱۳۱۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت بغیر اجازت شوہر کے کئی مرتبہ اپنے مَیکے چلی گئی اور اپنے شوہر سے اکثر لڑتی رہتی ہے اور اب کی دفعہ اُس نے اپنے شوہر کو مارا بھی، اگر شوہر مہر اُس کا ان وجوہ کے سبب نہ دے تو مواخذہ ہوگا یا نہیں اور اُس کو اپنے گھر رکھے یا نہیں؟ بینو اتوجروا الجواب وُہ عورت فاسقہ ہے سخت گنہگار ہے، مگر ان حرکات کے سبب مہر ساقط نہ ہوگا، رکھنے نہ رکھنے کا مرد کا اختیار ہے مگر اگر نہ رکھنا چاہے تو طلاق دے دے یہ جائز نہیں کہ نکال دے اور طلاق نہ دے اور خبر گیری بھی نہ کرے ہاں وُہ خود ہی نکل جائے تو اس پر نان ونفقہ واجب نہیں جب تک واپس نہ آئے
لانھا ناشزۃ ولانفقۃ للنا شزۃ وقال تعالٰی
فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف۱؎۔
واﷲتعالٰی اعلم۔
کیونکہ نافرمان ہے اور اس کے لئے خاوند پر نفقہ واجب نہیں، اﷲتعالٰی نے فرمایا: ان کو پاس رکھو بھلائی سے یا ان کو چھوڑ دو بھلائی سے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۱)