(۱۲۵) تو مجھ سے ایسی دُور ہے جیسے مکہ معظمہ مدینہ طیبہ سے یادلّی لکھنؤ سے،
فی الخلاصۃ ولوقال لھا تو از چناں دُوری کہ مکہ ازمدینہ لایقع الطلاق بدون النیۃ۳؎۔
خلاصہ میں ہے: اگر بیوی کوکہا''تُومجھ سے ایسی دور ہے جیسے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ'' تو بغیرنیّت طلاق نہ ہوگی۔(ت)
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطلاق مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ /۹۹)
ان سب صورتوں میں اگر طلاق کی نیت ہوطلاق بائن پڑجائے گی، تو(۱)مطلقہ بائنہ ہے(بے حرف عطف)یا تو (۲) مطلقہ پس بائنہ ہے تجھ پر(۳)سب سے فحش تر طلاق، (۴) شیطانی طلاق،(۵) بدعت کی طلاق، (۶) بدتر طلاق،(۷) پہاڑ کی مثل،(۸) ہزار کے مثل،(۹)کوٹھری بھر کے (۱۰) سخت یا(۱۱)لمبی یا(۱۲) چوڑی طلاق، (۱۳) سب سے بُری، (۱۴) سب سے کرّی،(۱۵) سب سے گندی،(۱۶) سب سے ناپاک،(۱۷) سب سے کڑی،(۱۸) سب سے بڑی، (۱۹) سب سے چوڑی،(۲۰) سب سے لمبی،(۲۱)سب سے موٹی طلاق،(۲۲)کلاں تر طلاق،
فی الدرویقع بقولہ انت طالق بائن اوافحش الطلاق اوطلاق الشیطان والبدعۃ او اشر الطلاق اوکالجبل اوکالف اوملئ البیت او تطلیقۃ شدیدۃ او طویلۃ او عریضۃ اواسوأہ او اشدہ او اخبثہ او اکبرہ اواعرضہ او اطولہ او اغلظہ او اعظمہ واحدۃ بائنۃ ان لم ینو ثلاثا، فیہ ایضا ولو بالفاء(ای فی قولہ انت طالق فبائن) فبائنۃ ذخیرۃ۱؎۔(ملخصاً)
دُرمیں ہے: خاوند نے بیوی کو کہا تجھے بائن طلاق، فحش تر طلاق، شیطانی طلاق، بدترطلاق، بدعت طلاق، یا پہاڑ برابر، یا ہزار برابر، کوٹھری بھر طلاق، شدید طلاق، طویل، عریض، سب سے بری، سب سے شدید، سب بڑی، سب سے عریض سب سے طویل، سب سے غلیظ، سب سے عظیم طلاق۔ تو ان تمام صورتوں میں ایک بائنہ طلاق ہوگی جبکہ یہاں بھی تین کی نیت نہ کی ہو۔ اور اگر بائن کو ف کے ساتھ ذکر کرے مثلاً تُو طلاق والی''فبائنہ'' کہا تو بائنہ ہوگی۔ ذخیرہ۔(ت)
(۱ ؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۲)
(۲۳) تجھ پرایسی طلاق جس سے تُو اپنے اختیار میں ہوجائے،
فی الدرکما یقع البائن لوقالت انت طالق طلقۃ تملکی بھا نفسک لانھا لاتملک نفسھا الابالبائن۲؎۔
دُر میں ہے:اگر کہا''تجھ پر ایسی طلاق جس سے تُو اپنے اختیار میں ہوجائے''تو بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ بیوی بائنہ طلاق کے بغیر اپنی مالک نہیں ہوسکتی (ت)
(۲؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۲ )
فی ردالمحتار تحت قولہ لانہ لا تملک نفسھا صرح بہ فی البدائع وقال اذاوصف الطلاق بصفۃ تدل علی البینونۃ کان بائناًاھ وھذہ الصفۃ بمعنی قولہ انت طالق طلقۃ بائنۃ۳؎الخ۔
ردالمحتار میں ماتن کے قول کہ''اپنے نفس کی مالک نہ ہوگی'' کے تحت ہے اس کی تصریح بدائع میں کی ہے، اور کہاکہ جب طلاق ایسے وصف سے موصوف ہوجو بائنہ ہونے پر دلالت کرے تو وُہ طلاق بائنہ ہوگی اھ، اور یہ صفت ''تو بائنہ طلاق والی ہے'' کے معنی میں ہوگی الخ(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۵۰)