Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
118 - 155
 (۱۱۳) میرے لئے تجھ پر نکاح نہیں،
فی الخانیۃ وفی نحو قولک لانکاح لی علیک لایقع الطلاق الابالنیۃ۴؎۔(ملخصاً)
خانیہ میں ہے: خاوند کے اس قول سے کہ''میرے لئے تجھ پرنکاح نہیں ہے'' نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔(ت)
 (۴؎ فتاوٰی قاضی خاں    فصل فی الکنایات        نولکشور لکھنؤ        ۲ /۲۱۶)
 (۱۱۴) میں نے تیرا نکاح فسخ کیا،
فیھا ولوقال لھا فسخت نکاحک یقع الطلاق اذانوی۱؎۔
خانیہ میں ہے : اگر بیوی کو کہا''میں نے تیرا نکاح فسخ کیا، نیّت سے طلاق ہوجائے گی۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    فصل فی الکنایات    نولکشورلکھنؤ        ۲ /۲۱۶)
(۱۱۵) تجھ پر چاروں راہیں کھول دیں(اور اگریُوں کہا کہ" تجھ پر چاروں کُھلی ہیں" تو کچھ نہیں جب تک یہ بھی نہ کہے، (۱۱۶) جو راستہ چاہے اختیار کر
فھاولوقال لھا"اربع طرق علیک مفتوحۃ ونوی الطلاق لایقع الطلاق الاان یقول اربع طرق علیک مفتوحۃ فخذی فی ای طریق شئت فحینئذ یقع الطلاق اذا نوی ولاقال(چہارراہ برتو کشادم) لایقع الطلاق ما لم ینو۲؎وفی الھندیۃ اذاقال لہا چہارراہ برتو کشادہ است لایقع الطلاق وان نوی مالم یقل خذی ایما شئت عند اکثر المشائخ وانہ منقول عن محمد رحمہ اﷲتعالٰی واذاقال لھا چہارراہ برتو کشادم یقع الطلاق اذانوی وان لم یقل خذی ایما شئت۳؎۔
خانیہ میں ہے: اگرخاوند نے کہا''چاروں راہ تجھ پر کُھلے ہیں'' اور طلاق کی نیّت کی تو طلاق نہ ہوگی جب تک ساتھ یہ نہ کہے جس راستے کوتُوچاہے اختیار کرلے، اگر طلاق کی نیّت سے یہ کہہ دیا تو طلاق ہوجائے گی، اور اگر کہا تجھ پر چاروں راہیں کھول دیں، تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی، اور ہندیہ میں بھی ہے کہ اگر خاوند نے صرف یہ کہا''تجھ پر چار راہیں کُھلی ہیں تو نیت کے باوجود نہ ہوگی جب تک ساتھ یہ نہ کہے''تو جس کو چاہے ''اختیار کرلے۔'' اکثر مشائخ کے ہاں یہ ہے۔ اور امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی سے یہی منقول ہے۔ اور اگر کہا''تجھ پر چاروں راہیں کھولتا ہوں'' تو نیّت کی توطلاق ہوجائیگی، اگرچہ اس نے ''جس کو تُوچاہے اختیار کرے''نہ کہا ہو۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی قاضی خاں    فصل فی الکنایات    نولکشورلکھنؤ   ۲ /۲۱۷)

(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۸۱)
 (۱۱۷) میں تجھ سے دست بردار ہُوا
فی الخانیۃ(چنگ باز داشتم) از تو قال الفقیۃ ابوجعفر واحدۃ بائنۃ وغیرہ یقع رجعیۃ والاول اصح۴؎۔
خانیہ میں ہے : اگر خاوند نے کہا''میں تجھ سے دستبردار ہوا'' تو ابوجعفر فقیہ نے کہاایک طلاق بائنہ ہوگی، اور دوسروں نے کہا کہ ایک طلاق رجعی ہوگی،پہلا قول اصح ہے(ت)
 (۴؎ فتاوٰی قاضی خاں    فصل فی الکنایات     نولکشور لکھنؤ        ۲ /۲۱۷)
 (۱۱۸) میں نے تجھے تیرے گھروالوں یا(۱۱۹)باپ یا(۱۲۰) ماں کو واپس دیا،
فی الطحطاوی عن الدرالمنتقی رددتک الیھم ولایشترط قبولھم۱؎۔
طحطاوی میں درمنتقٰی سے منقول ہے، خاوند نے کہا''میں نے تجھے تیرے گھر والوں کو واپس کردیا'' توگھر والوں کا قبول کرنا شرط نہیں ہے(ت)
 (۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار    باب الکنایات    دارالمعرفۃبیروت     ۲ /۱۳۸)
(۱۲۱) تومیری عصمت سے نکل گئی،
فی العقودصرح فی الوجیز لبرھان الائمۃ انہ لوقال فسخت النکاح بینی وبینک ولم یبق بینی وبینک لایقع الابالنیۃ، ولایخفی ان قولہ انت خارجۃ عن عصمتی مثلہ فی المعنی من الفتاوٰی المزبورۃ قلت فان الخروج عن العصمۃ یکون بطلاق وفسخ کطریق حرمۃ مصاھرۃ ولومن قبلہ،فلم یتعین للطلاق وکذاالخروج عن الملک کمامر۔۲؎
عقوددریہ میں ہے کہ علامہ برہان الائمہ نے وجیز میں تصریح کی  ہے اگر خاوند نے کہا''میرے اور تیرے درمیاں نکاح فسخ ہوگیا ہے اور ہمارے درمیان نکاح باقی نہ رہا'' تو نیّت کے بغیر طلاق نہ ہوگی، اور یہ مخفی نہیں کہ خاوند کا کہنا کہ ''تومیری عصمت سے خارج ہے'' معنٰی میں اسی کی مثل ہے جو فتاوٰی مذکورہ سے مروی ہےقلت(میں کہتاہوں) عصمت سے خارج ہونا طلاق اور فسخ کے ساتھ ہوتا ہے__مثلاً حرمتِ مصاہرۃ کی بنا پر جو کہ خاوند کی طرف سے بھی طاری ہوسکتی ہے لہذا فسخ کے لئے طلاق متعین نہیں ہے، اور اسی طرح ملکیت سے خارج ہونا بھی ہے جیسا کہ گزرا۔(ت)
 (۲؎ عقودالدریہ فی تنقیح الحامدیۃ     کتاب الطلاق     حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان     ۱ /۴۳)
 (۱۲۲) میں نے تیری ملک سے شرعی طور پراپنا نام اتاردیا،
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال فی حال الغضب وسؤال الطلاق لزوجتہ نزلت عنھا نزولاشرعیا ھل تبین بذلک ام لا(اجاب) لم ارمن تعرض لھذا فی کلامھم لکن رأیت فروعا متعددۃ فی الکنایات تقتضی انہ یقع بمثلہ الطلاق البائن اذاوجدت النیۃ اودلالۃالحال فتعین الافتاء بالوقوع فی الحادثۃ واذاعلمت ان ھذایصلح جوابا لارداوشتیمۃ وتأملت فی فروع ذکرھاصاحب البحر والتتارخانیۃ وغیرھا قطعت بما ذکرنا۱؎۔
خیریہ میں ہے: ان سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے بیوی کو غصہ میں اور طلاق کے مطالبہ پر کہا''میں نے اس سے شرعی نام اتاردیا'' تو کیا اس شخص کی بیوی بائنہ ہوجائے گی یانہیں؟انہوں نے جواب دیا میں نے فقہاء کے کلام میں اس مسئلہ کے بیان کو نہیں پایا، لیکن میں نے کنایہ کے بہت سے مسائل دیکھے ہیں جن کی روشنی میں اس صورتِ مذکورہ میں طلاق بائنہ ہوگی جب نیّت پائی جائے یا حال کی دلالت پائی جائے، لہذاا س مذکورہ حادثہ میں طلاق کا فتوٰی متعین ہوگا، جب معلوم ہوگیا کہ مسئلہ مذکور میں خاوند کا قول جواب ہی ہوسکتا ہے اور میں نے بحراور تاتارخانیہ وغیرہما میں مذکور فرو عات میں غور کیا، تو مجھے یقین ہوگیا کہ طلاق کے وقوع کا حکم ایسے ہی ہے جیسے ہم نے ذکر کیا ہے۔(ت)
 (۱ ؎ الفتاوٰی الخیریہ     کتاب الطلاق     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۵۰)
Flag Counter