Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
117 - 155
 (۹۱) میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا (۹۲) باپ یا(۹۳)ماں یا(۹۴) خاوندوں کو دیایا (۹۵) خود تجھ کو دے ڈالا(اور تیرے بھائی یا ماموں یا چچا یا کسی اجنبی کو کہا تو کُچھ نہیں)
فی الھندیۃ روی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی انہ اذا قال وھبتک لاخیک اولخالک اولعمک اولفلان الاجنبی لم یکن طلاق کذافی السراج الوھاج ولوقال لھا وھبت نفسک منک فھو من جملۃ الکنایات ان نوی بہ الطلاق یقع والافلا۲؎۔
ہندیہ میں ہے: امام حسن رحمہ اﷲتعالٰی نے امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی سے روایت کیا کہ اگریُوں کہا، میں نے تجھے تیرے بھائی، خالو، چچے یا فلاں اجنبی کو ہبہ کیا طلاق نہ ہوگی جیسا کہ سراج وہاج میں ہے۔ اور اگر یُوں کہا، میں نے تیرا نفس تجھے ہبہ کیا تو کنایہ کے الفاظ میں سے ہے اگرنیّت کی تو طلاق ہوجائے گی، ورنہ نہیں۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ         الفصل الخامس فی الکنایات     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۶)
 (۹۶) مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا یا تجھ میں مجھ میں کچھ شئی نہیں اگرچہ نیت کرے،
فی الھندیۃ ولوقال لم یبق بینی وبینک شئی ونوی بہ الطلاق لایقع وفی الفتاوی لم یبق بینی وبینک عمل ونوی یقع کذافی العتابیۃ۳؎۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا، تیرے اور میرے درمیان کوئی شئی باقی نہیں، اور اس سے نیت طلاق کی ہو تو طلاق نہ ہوگی، اور فتاوٰی میں مذکور ہے اگر یُوں کہا، تیرے اور میرے درمیان کوئی معاملہ باقی نہیں رہا، نیت کی ہوتو طلاق ہوگی، جیسا کہ عتابیہ میں مذکور ہے۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الکنایات     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۶)
 (۹۷) میں تیرے نکاح سے بری ہُوں، (۹۸) بیزار ہوں،
فیھا عن الخانیۃ ولوقال انابریئ من نکاحک یقع الطلاق اذانوی۱؎۔
ہندیہ میں ہے خانیہ سے منقول ہے، اگر کہا میں تیرے نکاح سے بری ہُوں،طلاق کی نیت سے طلاق ہوجائے گی۔(ت)
 (۱؎فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۶)
 (۹۹) مجھ سے دُور ہوجا،
فیھا عنھا ولوقال ابعدی عنی ونوی الطلاق یقع۲؎۔
ہندیہ میں خانیہ سے منقول ہے، اگر کہا تُو مجھ سے دُور ہوجا، طلاق کی نیّت سے طلاق ہوجائے گی(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۶)
 (۱۰۰) مجھے صورت نہ دکھا،
وھذابمعنی ابعدی عنی، وفیہ ینوی کما مرانفابخلاف استتری منی فانہ بزیادۃ منی خرج عن کونہ کما فی الخانیۃ ایضاً قال الشامی یکون قولہ منی قرینۃ لفظیۃ علٰی ارادۃ الطلاق بمنزلۃ المذاکرۃ تأمل۳؎اھ، ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ، اقول وذٰلک بخلاف ان یقول لاترنی وجھک فانہ یکون عبارۃ عن البغض والتنفرفلایزول الاحتمال اھ فافھم۴؎۔
اور یہ''مجھ سے دُور ہوجا'' کے معنٰی میں ہے، اور اس میں نیت کرے گا، جیسا کہ ابھی گزرا، اس کے بر خلاف''مجھ سے پردہ کر''منّی(مجھ سے) کا لفظ زائد ہونے کی وجہ سے کنایہ سے خارج ہے، جیسا کہ خانیہ میں بھی ہے،نیز علّامہ شامی نے فرمایا کہ یہاں منّی(مجھ سے) کا لفظ قرینہ لفظیہ ہے کہ اس نے طلاق مراد لی ہے یہ بمنزلہ مذاکرہ طلاق ہے، غور چاہئے اھ مجھے اس کے حاشیے پر لکھنا یاد ہے جس کی عبارت یہ ہے، اقول(میں کہتاہوں) کہ اس کے برخلاف ہے یہ کہنا، تو اپنا چہرہ مجھے نہ دکھا، کیونکہ یہ لفظ بغض اور نفرت کے اظہار کےلئے ہے لہذا دوسرااحتمال ختم نہ ہوگا، اھ، غور کرو۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار         باب الکنایات         داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۳)

(۴؎ جدالممتار        باب الکنایات حاشیۃ ۹۶۰        المجمع الاسلامی مبارکپور     ۲ /۵۱۵)
 (۱۰۱)کنارے ہو، (۱۰۲) تُونے مجھ سے  نجات پائی،
فی الھندیۃ ومن الکنایات تنحی عنی ونجوت منّی کذافی فتح القدیر۵؎۔
 (۵؎ فتاوی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۶)
ومثلھا(اور اسی کی مثال ہے۔ت)(۱۰۳) الگ ہو،(۱۰۴) میں نے تیراپاؤں کھول دیا

لعدم التعارف فی بلادنا ومافی الخلاصۃ پای کشادہ کردم ترا تفسیر قولہ طلقتک عرفا حتی یکون رجعیا وتقع بدون النیۃ۱؎ اھ فمبنی کما تری علی العرف فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ظہیرالدین یفتی فیما سواھا باشتراط النیۃ ویکون الواقع بائنا۲؎۔
ہمارے علاقہ کا عرف نہ ہونے کی بناپر،اور جو خلاصہ میں ہے کہ''میں نے تیرے پاؤں کھول دئے، عرف میں ''میں نے تجھے طلاق دی'' کے ہم معنٰی ہے، لہذااس سے طلاق رجعی ہوگی، اور بغیر نیت طلاق ہوجائے گی اھ تو یہ عرف پر مبنی ہے جیسا کہ تودیکھ رہاہے، ہندیہ میں ذخیرہ سے امام ظہیرالدین سے منقول ہے کہ مذکورہ الفاظ کے علاوہ میں نیت شرط ہونے پر فتوٰی دیا جائے گا اور اس سے بائنہ طلاق ہوگی۔(ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الطلاق     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۲ /۹۹)

(۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۷۹)
 (۱۰۵) میں نے تجھے آزاد کیا، (۱۰۶) آزاد ہوجا،
فیہا ولوقال اعتقتک طلقت بالنیۃ کذا فی معراج الدرایۃ وکونی حرۃ اواعتقی مثل انت حرۃ کذافی بحرالرائق۳؎۔

ہندیہ میں ہے: اور اگر خاوند کہے''میں نے تجھے آزاد کیا'' تو نیّت سے طلاق ہوگی، جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے، اور''تُوآزاد ہوجا'' یا''توآزاد ہے'' انت حرۃکی طرح ہے، جیسا کہ بحرالرائق میں ہے۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات   نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۳۷۶)
 (۱۰۷) تیری بند کٹی، (۱۰۸) تُوبے قید ہے،
فیھا ولوقال انت السراح فھو کما قال لھا انت خلیۃ کذافی فتاوٰی قاضی خان۴؎۔
ہندیہ میں ہے:اگر کہا''تُوبے قید ہے'' یہ ایسے ہی ہے جیسے یُوں کہے''تُوجدا ہے'' جیسا کہ فتاوٰی قاضی خان میں ہے۔(ت)
 (۴؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات      نورانی کتب خانہ پشاور   ۱ /۳۷۶)
 (۱۰۹) میں تجھ سے بری ہُوں،
فیھا فی مجموع النوازل امرأۃ قالت لزوجھا انا بریئۃ منک فقال الزوج انابرئ منک ایضا' فقالت ماذا تقول فقال مانویت الطلاق لایقع الطلاق لعدم النیۃ کذافی المحیط۱؎۔
ہندیہ میں ہے کہ مجموع النوازل میں ہے، بیوی نے کہا''میں تجھ سے بَری ہوں'' تو خاوند نے جواب میں کہا ''میں بھی تجھ سے بری ہوں'' پھر بیوی نے کہا خیال کرو کیا کہہ رہے ہو، تو خاوند نے کہا میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا، تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ نیت نہیں ہے، جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)
 (۱؎فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۳۷۶)
 (۱۱۰) اپنا نکاح کر، (۱۱۱)جس سے چاہے نکاح کر،
فیھا ولو قال تزوجی ونوی الطلاق اوالثلث صح وان لم ینوشیئاً لم یقع کذافی العتابیۃ ۲؎۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا''تُو نکاح کرلے'' اور طلاق کی نیت کی ہوتو ایک طلاق، اور تین کی نیت کی تو تین ہوں گی۔اور کوئی نیت نہیں کی تو کوئی طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ عتابیہ میں ہے(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۳۷۶)
 (۱۱۲) میں تجھ سے بیزار ہُوا،
فیھا عن الخلاصۃ ولوقال لھا ازتو بیزار شدم لایقع بدون النیۃ۳؎ قلت وظاھران لیس کقولہ انامنک طالق فافھم (عہ) وثبت۔
ہندیہ میں خلاصہ سے ہے،اگرکہا''میں تجھ سے بیزار ہوں'' تو نیت کے بغیر طلاق نہ ہوگی۔قلت(میں کہتاہُوں)ظاہر یہ ہے مذکور لفظ خاوند کے قول''میں تجھ سے طلاق والاہوں'' کی طرح نہیں ہے، غور کرو اور ثابت رہو۔(ت)
عہ:اشارۃ الی ان مافی الدرسہو۱۲منہ
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جو درمختار میں ہے وہ سہو ہے ۱۲منہ(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل السابع فی الطلاق بالفاظ الفارسیہ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۸۶)
Flag Counter