Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
116 - 155
اقول(میں کہتا ہُوں) یہاں عورت کے اس کہنے کی بھی حاجت نہیں کہ میں نے خریدا،
لانہ تملیک نفسھا منھا وھی لاتملک نفسھا الابالبائن بخلاف ماسیجئی من قولہ بعت منک طلاقک فانہ تملیک الطلاق منھا فکان تفویضافاشترط قبولھا۔
کیونکہ یہ بیوی کو اپنے نفس کا مالک قرار دینا ہے تو بیوی اپنے نفس کی مالک بائنہ طلاق کے بغیر نہیں بن سکتی، اسکے بخلاف جو آئندہ عنقریب آئے گا کہ خاوند اگر یُوں کہے''میں نے تجھے تیری طلاق فروخت کی'' تو اسے یہ طلاق کا مالک بنانا ہُوا لہذا یہ خاوند کا بیوی کو طلاق تفویض کرنا ہے جس میں بیوی کا قبول کرنا شرط ہے۔(ت)

(۶۶) میں  تجھ سے  باز آیا، (۶۷) میں تجھ سے در گزرا فی ردالمحتار عدّیت عنھا۲؎(ردالمحتار میں ہے: میں تجھ سے درگزرا۔ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب الکنایات         داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۲)
 (۶۸) تُومیرے کام کی نہیں، (۶۹) میرے مطلب کی نہیں،(۷۰) مصرف کی نہیں کما حققناہ علی ھامش ردالمحتار(جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس تحقیق کی ہے۔ت) (۷۱) مجھے تجھ پر کوئی راہ نہیں،(۷۲) کچھ قابو نہیں، (۸۷) ملک نہیں،(۷۴) میں نے تیری راہ خالی کردی،(۷۵) تومیری ملک سے نکل گئی،(۷۶) میں نے تجھ سے خلع کیا،(۷۷) اپنے میکے بیٹھ، (۷۸) تیری باگ ڈھیلی کی،(۷۹) تیر ی رسّی چھوڑدی، (۸۰) تیری لگام اتارلی،(۸۱) اپنے رفیقوں سے جامل،
فی الھندیۃ وألحق ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی بخلیۃ وبریّۃ وبتّۃ وبائن وحرام اربعۃ اخری ذکرھا السرخسی فی المبسوط وقاضی خان فی شرح الجامع الصغیر واخرون وھی لاسبیل لی علیک، لاملک لی علیک، خلیت سبیلک، فارقتک، ولاروایۃ فی خرجت من ملکی قالواھو بمنزلۃ خلیت سبیلک، وفی الینا بیع الحق ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی بالخمسۃ ستّۃ اخری وھی الابعۃ المتقدمۃ وزادخالعتک والحقی باھلک ھکذا فی غایۃ السرجی۱؎،اھ، قلت وھو فی حدیث المستعیذۃ وفیھا ایضا، وفی قولہ حبلک علی غاربک لایقع الطلاق الّا بالنّیّۃ کذافی فتاوٰی قاضی خان وانتقلی وانطلقی کالحقی وفی البزازیۃ وفی الحقی برفقتک یقع اذا نوی کذافی البحر الرائق۲؎۔
ہندیہ میں ہے امام ابویوسف رحمہ اﷲ نے خلیۃ، بریۃ، بتۃ، بائن اور حرام کے الفاظ کے ساتھ دیگر چار الفاظ کو ملحق کیا ہے ان دیگر چاروں کو امام سرخسی نے مبسوط میں اور قاضیخاں نے شرح جامع صغیر میں اور دوسرے حضرات نے ذکرکیا ہے وہ لاسبیل لی علیک(مجھے تجھ پر چارہ نہیں)،لاملک لی علیک(تجھ پر میری ملکیت نہیں)،خلیت سبیلک(میں نے تیرا راستہ آزاد کیا)،فارقتک(میں نے تجھ سے مفارقت کی)،اورخرجت من ملکی(تُومیری ملکیت سے نکل گئی) میں کوئی روایت نہیں ہے، او ر فقہاء نے فرمایا یہ بمنزلہ''خلیت سبیلک''کے ہے، اور ینابیع میں ہے امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی نے پانچ الفاظ کے ساتھ مزید چھ الفاظ ملحق فرمائے ہیں، اور وُہ چار پہلے ذکر شدہ اور دو۲ مزید، وہ خالعتک(میں نے تجھ سے خلع کیا) الحقی باھلک(اپنے خاندان میں چلی جا)غایۃ السروجی میں یُونہی مذکور ہے اھ، قلت(میں کہتا ہوں) یہ بات پناہ طلب کرنے والی میں ہے۔ اور اسی غایۃ السروجی میں یہ بھی ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کو کہا''تیری ڈوری تیرے کندھے پر ہے'' تونیّت کے بغیر طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ فتاوٰی قاضی خاں میں ہے تُومنتقل ہو، توجا، الحقی کی طرح ہے__اور بزازیہ میں ہے اگر یُوں کہا''اپنے دوستوں سے مل جا''نیت کی تو طلاق ہوجائے گی، بحرالرائق میں یونہی ہے۔(ت)
 (۱؎ و ۲؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۵)
 (۸۲) مجھے تجھ پر کچھ اختیار نہیں ھو کقولہ لاسبیل لی علیک(جیسا کہ اس کا قول''مجھے تجھ پر چارہ نہیں۔ت) (۸۳) خاوندتلاش کر،
فی الھندیۃ ویاتبغی الازواج تقع واحدۃ بائنۃ ان نواھا (عہ) واثنتین وثلث ان نواھا ھکذا فی شرح الوقایۃ۳؎۔
اور ہندیہ میں ہے اگر یُوں کہا''تو خاوند تلاش کر''ایک بائنہ طلاق ہوگی اگر نیّت کی ہو، یادو۲ اور تین ہونگی اگر ان کی نیت کی ہو، شرح وقایہ میں ایسے ہی ہے۔(ت)
عہ: قابلت عبارۃ عن اصل الہندیۃ فوجد تھا ھکذااوثنتان وثلث ۱۲حامدرضا غفرلہ۔
میں نے ہندیہ کے اصل قلمی نسخہ سے مقابلہ کیا تو میں نے وہاں یُوں عبارت پائی اور دو اور تین ۱۲ حامد رضا غفرلہ(ت)
﴿۳؂فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی الکنایات         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۵)
 (۸۴) مجھے تیری حاجت نہیں، (۲) مجھے تجھ سے سروکار نہیں، (۳) تجھ سے مجھے کام نہیں،(۴) غرض نہیں،(۵) مطلب نہیں، (۶) تومجھے درکار نہیں، (۷) تجھ سے مجھے رغبت نہیں،(۸) میں تجھے نہیں چاہتا،یہ محض مہمل ہیں اگرچہ نیت کرے،
فی الھندیۃ ولو قال لاحاجۃ لی فیک ینوی الطلاق فلیس بطلاق کذافی السراج الوھاج واذاقال لااریدک اولااحبک اولااشتھیک اولارغبۃ لی فیک فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی کذافی بحرالرائق۔۱؎
ہندیہ میں ہے اگر کہا''مجھے تجھ میں حاجت نہیں ہے، طلاق کی نیت کی ہو تو طلاق نہ ہوگی، جیسا کہ سراج وہاج میں مذکور ہے،اور جب یُوں کہا''میں تجھے نہیں چاہتا'' یا''میں تجھے پسند نہیں کرتا''یا''میں تجھ میں خواہش نہیں رکھتا'' یا''مجھے تجھ میں دلچسپی نہیں''تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کی ہو، یہ امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کاقول ہے، بحرالرائق نے ایسے ہی بیان کیا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصلالخامس فی الکنایات    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۵)
 (۸۵) میں تجھ سے جُدا ہُوں یاہوا(فقط میں جُدا ہُوں یا ہواکافی نہیں اگرچہ بنیت طلاق کہے)
فی الھندیۃ ولو قال انا منک بائن ونوی الطلاق یقع ولو قال انا بائن ولم یقل منک لایقع وان نوی کذافی محیط السرخسی۲؎۔
ہندیہ میں ہے اگر یوں کہا، میں تجھ سے بائن ہوں اور طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی، اور اگر صرف میں بائن ہوں اور" تجھ سے" نہ کہا تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی، محیط سرخسی میں ایسے ہی مذکور ہے۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ     الفصلالخامس فی الکنایات    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۵ )
 (۸۶) میں نے تجھے جُدا کردیا، میں نے تجھ سے جُدائی کی، (۸۷) تو خودمختار ہے،(۸۸) توآزاد ہے،
فی الھندیۃ ولوقال فی حال مذاکرۃ الطلاق باینتک او ابنتک اوکابنت منک اوانت سائبۃ اوانت حرۃ یقع الطلاق وان قال لم انو الطلاق لایصدق قضاء۳؎۔
ہندیہ میں ہے اگر حالت مذاکرہ طلاق میں، میں تجھ سے جُدا ہوں، میں نے تجھ کوجدا کیا، میں تجھ سے جُداہوا، تو سائبہ ہے یا تو آزاد ہے، تو طلاق ہوجائے گی اور اگر وُہ کہے کہ میں نے طلاق کی نیّت نہیں کی تو قضاءً اس کی تصدیق نہ کی جائے گی(ت)
 (۳؎فتاوٰی ہندیہ     الفصلالخامس فی الکنایات    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۵)
 (۸۹) مجھ میں تجھ میں نکاح نہیں، (۹۰) مجھ میں تجھ میں نکاح باقی نہ رہا،
فی الھندیۃ ولوقال لھا لانکاح بینی وبینک اوقال لم یبق بینی وبینک نکاح یقع الطلاق اذانوی کذافی فتاوٰی قاضی خاں۱؎۔
ہندیہ میں ہے اگر کہا، تجھ میں مجھ میں نکاح نہیں، یا کہا، مجھ میں اور تجھ میں نکاح باقی نہیں ہے، تو نیتِ طلاق سے طلاق ہوگی، جیسا کہ فتاوٰی قاضیخاں میں ہے۔(ت)
 (۱؎فتاوٰی ہندیہ         الفصل الخامس فی الکنایات     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۳۷۵)
Flag Counter