Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
115 - 155
بابُ الکنایۃ

(طلاق کنایہ کا بیان)  رحیق الاحقاق فی کلمات الطلاق (۱۳۱۱ھ)

(طلاق بائن کے الفاظ کی تعداد اور ان کی تفصیل کے بیان میں)
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ ۲۶۸: ازبڑودہ ضلع گجرات کلاں ٹھکانہ پائیگاہ قاسم حالہ مرسلہ غلام حسین حالہ ۱۱ جمادی الاخری ۱۳۱۱ھ 

کیافرماتے ہیں عالم شریعت محمدی صلّی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا، چند روز بعد اُس کے خاوند نے طلاق بائن دی جائز  یانہیں؟ عورت فاحشہ ہے خاوند نے طلاق بائن دیاجائز ہے یانہیں ؟طلاق بائن کسے کہتے ہیں؟طلاق بائن کا کیا طریقہ ہے؟طلاق بائن کس طور سے دیتے ہیں؟جس وقت چاہے خاوند اپنی عورت کو طلاق بائن دے سکتا ہے یانہیں؟ مع مہر ونام کتاب عبارت عربی ترجمہ اردو، خلاصہ تحریر فرمائیے، اس کا اجر آپ کو خداوند کریم عطا کرے گا۔بینواتوجروا۔

الجواب

بائن وُہ طلاق جس کے سبب عورت فوراً نکاح سے نکل جائے، اگر بعد نکاح ابھی وطی وجماع کی نوبت نہ پہنچی اگرچہ خلوت ہوچکی ہوتو طلاق دی جائے بائن ہی ہوگی۔
فی التنویروالدروردالمحتار الخلوۃ لاتکون کالوطی فی حق الرجعۃ لارجعۃ لہ بعد الطلاق الصریح بعد الخلوۃ بحرای لوقرع الطلاق بائنا۱؎اھ بالالتقاط۔
تنویر، در، ردالمحتار میں ہے کہ بیوی سے رجوع کے معاملہ میں خلوت، وطی کی طرح نہیں،یعنی خلوت کے بعد اور جماع سے پہلے طلاق دی ہوتو اس صریح طلاق کے بعد بیوی سے رجوع نہیں ہوسکتا ہے، بحر ___کیونکہ صریح طلاق قبل از جماع بائنہ ہوتی ہے اھ ملتقطا(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۴۲)
یونہی جب طلاقیں تین تک پہنچ جائیں خواہ ایک بار میں خواہ دس برس میں، تو وُہ بھی بائن ہوجاتی ہیں بلکہ وُہ بائن کی قسم اکبر ہیں کہ پھر بے حلالہ اس سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ بائن کی تیسری صورت وہ طلاق کہ مال کے بدلے دی جائے مثلاً شوہرنے کہا میں بعوض ہزار روپیہ تجھے طلاق دی یا تیرے مہر کے بدلے طلاق دی،اورعورت نے قبول کرلیا، یا عورت نے کہا میں نے اپنے مہر یا فلاں قرض سے تجھے بری کیا اس شرط پر کہ تُو مجھے طلاق دے دے، مرد نے دے دی، یا مرد نے کہا جتنے حق عورتوں کے شوہروں پر ہوتے ہیں اُن سب سے مجھے بری کر، اس نے کہا بری کیا، اس نے فوراً کہا میں نے طلاق دی، کہ اس میں اگرچہ صراحۃً ذکرِ عوض نہ تھا مگر صورتِ حال دلیل معاوضہ ہے،

فی التنویر الواقع بالطلاق علی مال طلاق بائن۲؎اھ وفی ردالمحتار ارادبالمال مایشمل الابراء منہ حتی لوقالت ابرأتک عمالی علیک علی طلاقی ففعل برئ وبانت، بحر عن البزازیۃ وفی الفتح اٰخر الباب قال ابرئینی من کل حق یکون للنساء علی الرجال ففعلت فقال فی فورہ طلقتک وھی مدخول بھا یقع بائنا لانہ بعوض۳؎۔

تنویر میں ہے کہ مال کے عوض طلاق، بائنہ طلاق ہوگی اھ، اور ردالمحتار میں ہے کہ مال سے مراد عام ہے نقد ہو یا خاوند کے ذمہ اگر بیوی کا مال ہو مثلاً مہر وغیرہ تو طلاق کے عوض بیوی کا خاوند کو اپنے حق سے بَری کرنا حتی کہ اگر بیوی نے کہہ دیا کہ طلاق کے عوض میں تجھے اپنے حق سے بری کرتی ہوں، اور اس نے طلاق دے دی تو یہ طلاق بائنہ ہوگی، بحر نے اس کوبزازیہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے، اور فتح میں اس باب کے آخر میں ہے خاوند نے کہا تو مجھے ہر ایسے حق سے بَری کردے جو عورتوں کا مردوں کے ذمّہ ہوتا ہے، اوربیوی نے ایسے کردیا تو خاوند نے فوری طور پر کہہ دیا میں نے تجھے طلاق دی،اگر بیوی مدخولہ ہوتو یہ طلاق بائنہ ہوگی کیونکہ یہ طلاق بالعوض ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار     باب الخلع    مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۴۵)

(۳؎ ردالمحتار     باب الخلع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۵۶۰)
چوتھی جو طلاق کسی قسم کی دی گئی اور بغیر رجعت ہُوئے عدّت گزرگئی وہ طلاق بھی بائن ہوگی۔ ان چاروں صورتوں میں کسی لفظ کی تخصیص نہیں سب الفاظ ایک ہی حکم رکھتے ہیں۔

پانچواں یہ کہ عورت سے جماع ہولے اس کے بعد طلاق د ے اور گنتی بھی تین تک نہ پہنچے، نہ مال کے بدلے طلاق ہونہ عدّت گزرے، باایں ہمہ طلاق دیتے ہی بائن ہوجائے اس کے لئے الفاظ مقرر ہیں کہ ان لفظوں سے کہا تو بائن ہوگی اور ان سے کہا تو رجعی کہ عدّت کے اندر رجعت کا اختیار دیا جائیگا مثلاً اگر زبان سے کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیر لیا تو عورت نکاح سے نکلنے نہ پائے گی بدستور زوجہ رہے گی اور حکمِ طلاق زائل نہ ہوگا۔

بائن کے بعض الفاظ یہ ہیں:

(۱) جا، (۲) نکل،(۳) چل،(۴) روانہ ہو،(۵) اٹھ،(۶)کھڑی ہو،(۷) پردہ کر،(۸) دوپٹہ اوڑھ،(۹) نقاب ڈال،(۱۰) ہٹ،(۱۱) سرک،(۱۲) جگہ چھوڑ،(۱۳)گھرخالی کر،(۱۴) دورہو،(۱۵) چل دور،(۱۶) اے خالی،(۱۷) اے بَری(بفتح با)،(۱۸) اے جدا،(۱۹) تو مجھ سے جدا ہے،(۲۰) میں نے تجھ بے قیدکیا، (۲۱) میں نے تجھ سے مفارقت کی، (۲۲) تو جدا ہے،
فی الدرفنحواخرجی واذھبی وقومی تقنعی، تخمری، استتری، انتقلی انطلقی، اغربی، اعزبی، من الغربۃ اومن العزوبۃ یحتمل ردا، ونحوخلیۃ، بریۃ، حرام بائن، ومراد فھا کبتۃ بتلۃ یصلح سبا،انت حر ۃ،سرحتک، فارقتک لایحتمل  السب والرد، ففی حالۃ الرضی تتوقف الاقسام علی نیۃ۱؎(ملتقطا)۔
دُرمیں ہے، نکل جا، چلی جا، کھڑی ہوجا، پردہ کر، دوپٹہ اوڑھ، ہٹ جا، جگہ چھوڑ، دُور ہو، خالی ہو۔ اغربی یا اعزبی غربت یا عزوبت سے ہے، یہ الفاظ جواب کا بھی احتمال رکھتے ہیں، اوراکیلی،اے بَری یا حرام یا بائنہ، یہ الفاظ اور ان کے ہم معنٰی جیسے، تو مجھ سے جدا ہے، میں نے تجھے آزادی دی، ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں، اور، تو مجھ سے آزاد ہے، میں نے تجھے بے قید کیا، میں نے تجھ سے مفارقت کی، یہ الفاظ ڈانٹ اور جواب کا احتمال نہیں رکھتے،یہ تمام اقسام رضا کی حالت میں کہے ہوں تو نیت پر موقوف ہوں گے۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الکنایات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۴)
 (۲۳) رستہ ناپ، (۲۴) اپنی راہ لےکنّایتان عن الذھاب(یہ دونوں کنایہ ہیں، جانے، سے۔ت) (۲۵) کالامنہ کر،(۲۶) چال دکھا،(۲۷) چلتی بن، (۲۸) چلتی نظرآ، (۲۹) دفع ہو،(۳۰) دال فے عین ہو،(۳۱) رفوچکرہو،(۳۲) پنجرا خالی کر،(۳۳) ہٹ کے سڑ،(۳۴) اپنی صورت گما،(۳۵) بستر اٹھا، (۳۶) اپنا سُوجھتا دیکھ،(۳۷) اپنی گٹھڑی باندھ،(۳۸) اپنی نجاست الگ پھیلا،(۳۹) تشریف لے جائیے،(۴۰) تشریف کا ٹوکرا لے جائیے، (۴۱) جہاں سینگ سمائے جا،(۴۲) اپنا مانگ کھا، (۴۳) بہت ہوچکی اب مہربانی فرمائیے، کلہا کنایۃ عن البعد والذھاب(یہ سب دُور ہونے، اور جانے سے،کنایہ ہیں۔ت)(۴۴) اے بے علاقہ ہوکقولہ بتۃ بتلۃ(''بے علاقہ ہو'' کہا توبتۃ اور بتلۃ کی طرح ہے۔ت) (۴۵) منہ چھپا ؤ، کقولہ تقنعی تخمری استتری(پردہ کر، اوڑھنی لے، نقاب ڈال، کی طرح ہیں۔ت)(۴۶) جہنم میں جا، (۴۷) چولھے میں جا،(۴۸) بھاڑمیں جاپڑ،
فی فروع الدراذھبی الٰی جہنم یقع ان نوی خلاصۃ۱؎۔
دُر کے فروعی مسائل میں ہے: جہنم میں جا، کہا، اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی، خلاصہ۔(ت)
 (۱؎درمختار         باب الکنایات    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۶)
 (۴۹) میرے پاس سے چل،(۵۰) اپنی مراد پر فتح مند ہو،(۵۱) میں نے نکاح فسخ کیا،(۵۲) تو مجھ پرمثل مردار یا (۵۳) سوئریا(۵۴) شراب کے ہے
فیھا ایضاً وکذا اذھبی عنی وافلحی وفسخت النکاح وانت علی کالمیتۃ او کلحم الخنزیر اوحرام کالماء۲؎۔
اسی میں ہے اور یُوں ہی اگر کہا میرے پاس سے چلی جا، اپنی مراد پر کامیاب ہو،میں نے نکاح فسخ کیا، تو مجھ پر مردار کی طرح ہے، تُومجھ پر خنزیر کی طرح یا شراب کی طرح ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار         باب الکنایات    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۶)
نہ مثل بھنگ یا افیون یا مال فلاں یا زوجہ فلاں کے،
فی ردالمحتار تحت قول الدرانت علی کالمیتۃ والمراد التشبیہ بما ھو محرم العین کالخمروالخنزیر والمیتۃ فالحکم فیہ کالحکم فی انت علی حرام بخلاف مالوقال انت علی کمتاع فلاں فلایقع وان نوی افادہ فی الذخیرۃ۳؎۔
ردالمحتار میں درمختار کے قول''تو مجھ پر مردار کی طرح ہے'' سے مراد  وہ چیز ہے جو قطعی حرام ہے جیسے شراب، خنزیر اور مردار۔ ان کا حکم وہی ہے جو''تو مجھ پر حرام ہے'' کاہے، اس کے بخلاف اگر اس نے کہا''تو مجھ پر فلاں کے مال کی طرح ہے'' اس میں نیت کی ہو تب بھی طلاق نہ ہوگی، ذخیرہ میں یہ افادہ کیا۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار         باب الکنایات     داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۷۴)
 (۵۵) تو مثل میری ماں یا(۵۶) بہن یا(۵۷) بیٹی کے ہے اور یُوں کہا کہ تُوماں بہن بیٹی ہے توگناہ کے سوا کچھ نہیں،
فی الدروان نوی بانت علی مثل امی اوکامی وکذالو حذف علی، خانیہ برااوظہارااو طلاقا، صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والاینوشیئا او حذف الکاف لغاوتعین الادنی اے البریعنی الکرامۃ ویکرہ قولہ انت امی ویا بنتی ویااختی ونحوہ۱؎۔
دُر میں ہے اگر بیوی کوکہا''تُومجھ پر میری ماں کی طرح'' لفظ مثل یا کاف کو تشبیہ کے لیے ذکر کیا ،اور یوں ہی اگر لفظ علَیَّ(مجھ پر)کو حذف کردیا ہواور خدمت یا ظہار یا طلاق جوبھی نیت کرے گا وہی حکم ہوگا، ہر ایک کی نیت صحیح ہوگی کیونکہ یہ لفظ کنایہ ہے، اور کچھ بھی نیت نہ تھی یا تشبیہ کے لفظ کو حذف کردیا ہوتو یہ لغو کلام ہوگا، اور صرف ادنٰی معنی یعنی خدمت وکرامت مراد ہوگا، اور ''تُومیری ماں ہے اور اے میری بیٹی اے میری بہن'' جیسے الفاظ مکروہ ہیں۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب الظہار     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۴۹)
 (۵۹) تیری گلوخلاصی ہُوئی،(۶۰) تو خالص ہوئی فی ردالمحتار انت خالصۃ۲؎(ردالمحتار میں ہے: تُوخالص ہوئی۔ت) (۲؎
ردالمحتار     باب الکنایات داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲ /۴۶۲)
 (۶۱) حلالِ خدا، یا(۶۲) حلالِ مسلمانان (۶۳) یا ہر حلال مجھ پر حرام، (۶۴) تومیرے ساتھ حرام میں ہے،
الکل فی الشامی کما یأتی صریحا وخالف فیھا المتاخرون ائمتنا المتقدمین فقالوالاحاجۃ الی النیۃ لانہ المتعارف قلت وفی بلادنا قدانعدم التعارف فاٰل الامرالی ماکان علیہ قال الشامی ان المتاخرین خالفوا العرف الحادث فیتوقف الاٰن وقوع البائن بہ علی وجود العرف۔
یہ تمام فتاوٰی شامی میں ہے جیسا کہ آئندہ صراحتاً آئے گا، ان میں متاخرین فقہاء نے ہمارے متقدمین ائمہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ان الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ طلاق میں عُرف بن چکے ہیں، قلت(میں کہتا ہوں) ہمارے علاقہ میں یہ عُرف نہیں ہے تو یہ الفاظ اپنے اصل پر لوٹ آئیں گے، علامہ شامی نے فرمایا: متاخرین نے جدید عُرف کی بناپر خلاف کیا تو اس کے ساتھ وقوع بائن وجود عرف پر موقوف ہوگا۔(ت)

(۶۵) میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اگر کسی عوض کا ذکر نہ کرے،
فی ردالمحتار عن الخانیۃ ولو قال بعت نفسک منک فقالت اشتریت یقع طلاق بائن لان بیع نفسھا تملیک النفس من المرأۃ وملک النفس لایحصل الابالبائن فیکون بائنا۱؎اھ۔
ردالمحتار میں خانیہ سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کوکہا کہ''میں نے تجھے تیرے پاس فروخت کیا''توبیوی نے کہا میں نے خریدا، تو بائنہ طلاق ہوجائیگی، کیونکہ بیوی کو اس کے پاس فروخت کرنا بیوی کو اپنے نفس کا مالک بنانا ہے نفس کی ملکیت بیوی کو بغیر بائنہ طلاق کے حاصل نہیں ہوسکتی، لہذا بائنہ طلاق ہوگی اھ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار     باب الخلع قولہ کبعت نفسک         مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۵۵۹)
Flag Counter