مسئلہ۲۶۶:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے خاوند نے اپنی زوجہ کے قتل کی نیت سے چاقومارے اور اپنی دانست میں اس کا کام تمام کردیا تھا مگر قضائے الٰہی سے وُہ زندہ بچ گئی،شوہر بعد میں سزائے جُرم میں دس برس کے لئے دریائے شور بھیجا گیا، شوہر نے لفظ طلاق کا کچھ نہیں کہا تھا اب زوجہ محتاج ہے اور کسب پر قادر نہیں، دُوسرے شخص سے وُہ نکاح کرسکتی ہے یانہیں؟ وقتِ مقدمہ جب انگریز نے شوہر کو دریائے شور بھیجا تھااور شوہر نے یہ بیان کیا تھا میں نے تو اُس کو بالکل مارڈالا تھا، وارثانِ زوجہ نے حاکم سے یہ کہا کہ اس شخص سے زوجہ کو طلاق بھی دلوادو، تو حاکم نے یہ کہا کہ تم اپنے علماء سے دریافت کرو، باقی مجرم نے تو اپنی زوجہ کو اپنے ذہن میں قتل ہی کر ڈالاتھا، طلاق کے استفسار وطلب کی حاجت کیا ہے، اور واقعی شوہر نے زوجہ کو اس طور مارا تھا کہ اس کا بچ جانا تعجبات سے ہے یعنی زوجہ کی آنتیں وغیرہ سب نکل کر باہر آگئی تھیں فی الجملہ صورتِ مستفسرہ میں ہندہ زوج کے نکاح میں ہے یا نہیں اور دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں اور جس عورت کا شوہر دائم الحبس ہوگیا وُہ نکاح دوسرے سے کرسکتی ہے یا نہیں؟
الجواب
بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، ہمارے نزدیک، غیبت خواہ عسرت کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعثِ تفریق نہیں بلکہ شافعیہ وغیرہم کے نزدیک بھی جواز تفریق کے یہ معنی کہ عورت قاضی شرع کے حضور دعوٰی پیش کرے اور قاضی گواہ شرعی لے کر تفریق کردے نہ یہ کہ عورت بطور خود جس سے چاہے نکاح کرلے، یہ ہرگز ائمہ اربعہ میں سے کسی کامذہب نہیں، اسی طرح شوہر کا بقصد قتل زوجہ پر حربہ کرنا اور اپنے گمان میں اس کاکام تمام کردینا کسی کے نزدیک موجب افتراق نہیں، کوئی جاہل ساجاہل بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۶۷: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی زوجہ منکوحہ جس کی عمرتخمیناً صہ صہ سال کی تھی فوت ہوگئی وُہ بوجہ ناقابل ہونے زوجیت کے مباشرت شوہری سے مجبور ہے اندامِ نہانی قابلِ ادخال نہ تھا قدرۃً اس میں قابلیت مباشرت نہ تھی زن وشوہر میں کبھی مجامعت نہ ہُوئی نہ کوئی اولاد پیدا ہوئی بس اس زوجہ کے شوہرپر کیا کیا حقوق عائدہوسکتے ہیں اور شوہر متروکہ منقولہ وغیرمنقولہ زوجہ میں حقوق شرعی رکھتا ہے یادونوں ایک دوسرے کی مالیت میں کچھ حق نہیں رکھتے یا فلاں اس قدر کہتا ہے اور فلاں اس قدر یا فلاں بالکل حق نہیں رکھتا اور فلاں رکھتا ہے۔ بینواتوجروا
الجواب
صورت مسئولہ میں زن و شوہر کے باہمی حقوق ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے زنِ قابلِ جماع کے ساتھ صرف فرق اتنا ہے کہ اگر فرج داخل میں بقدرِحشفہ ادخال ناممکن تھا اور ایسی حالت میں شوہر طلاق دیتا تو نصف مہر لازم آتا اگرچہ خلوت کرچکا ہوتا کہ وُہ خلوت بوجہ مانع،خلوت صحیح نہ تھی اور عدّت جب بھی لازم آتی اور عورت کا نفقہ بھی شوہر پر لازم آتا اب کہ عورت کا انتقال ہوگیا اس کاکل مہر ذمہ شوہر واجب الادا ہوگیا اور عورت کا نصف ترکہ شوہر کو وراثۃً پہنچے گا کہ ایسی عورت کے ساتھ نکاح شرعاً صحیح بلکہ لازم ہوتا ہے کہ شوہر دعوٰی فسخ نہیں کرسکتا،