Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
113 - 155
مسئلہ۲۶۲: از بہیٹری     ۳ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کانکاح اس کے باپ نے زید کے ساتھ کیا اب کئی سال گزرے رخصت بھی ہوگئی مگر زید نامرد نکلا ہندہ اس کے پاس بدقت تمام کچھ دنوں تک رہی، ہر چند زید سے کہا جاتا ہے طلاق بھی نہیں دیتا اس وقت میں ہندہ کے واسطے چارہ کار کیا ہے؟بینواتوجروا

الجواب

جبکہ زید نے ہندہ پرقدرت نہ پائی اور اس کے ادائے حق واجب میں قاصر رہا تو اس پر شرعاً فرض ہے کہ ہندہ کو طلاق دے دے، اگر نہ دے گا گنہگار رہے گا۔
قال اﷲ تعالٰی فامساک بمعروف وتسریح باحسان۱؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: ایک طلاق یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی کوبھلائی کے ساتھ پاس روک لویا نیکی کے ساتھ اس کو آزادی دے دی۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲ /۲۲۹)
اگر زید خدا ناترسی کرکے طلاق نہیں دیتا تواس کی تدبیر شرع مطہر میں یہ ہے کہ ہندہ حاکمِ شرع کے حضور دعوٰی کرے، حاکم زید سے جواب لے، اگر وُہ ہندہ پر اپنے قادر نہ ہونے کا قرار کرلے فبہا ورنہ حاکم کسی عورت مسلمان نیک پارساثقہ معتمدہ ہوشیار کو دکھا کر شہادت لے کہ ہندہ دوشیزہ ہے، بعدہ، زیدکو ایک سال کامل کی مہلت دے ، اس سال میں زید ہندہ پر قاسر ہوجائے تو بہتر ورنہ عورت پھر دعوٰی کرے اور تفریق چاہے، اب پھر اگر زید خواہ شھادتِ یک عورت مسلمہ ثقہ سے ہندہ کی دوشیزگی ثابت ہوتو حاکم عورت سے دریافت کرے کہ اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے یا شوہر کو، اگر عورت شوہر کو اختیار کرے، یا اپنے نفس کے اختیار میں تاخیر کرے کہ مجلس بدل جائے تو اب اس کا دعوٰی بالکل ساقط ہوجائے گا، لہذا اسی جلسہ میں فوراً اپنے نفس کو اختیار کرلے اس وقت حاکم زید کوحکم دے وُہ اگر مان لے بہتر ورنہ حاکم خود اُن میں تفریق کا حکم کردے، یہ تفریق طلاق بائن ہوجائے گی، بعد مرورعدّت ہندہ کو اختیار ملے گا جس سے چاہے نکاح کرلے،
فی الدرالمختار لووجد تہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ فان وطئ مرۃ فبہا والابانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا۱؎اھ ملخصاً۔
درمختارمیں ہے اگر بیوی خاوند کو نامرد پائے تو قمری مہینوں کے حساب سے سال بھر کی خاوند کو مہلت دی جائے گی، اگر اس دوران میں ایک مرتبہ وطی کرلے تو بہتر، ورنہ عورت کے مطالبہ پر قاضی کی تفریق سے بیوی کو بائنہ طلاق ہوگی، اگر خاوند طلاق دینے سے انکار کرے اھ ملخصاً۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب العنین     مطبع مجتبادئی دہلی    ۱ /۲۵۴)
یہ ساری کارروائی قاضی شرع کے حضور جسے حاکمِ اسلام نے فصلِ مقدمات پر مقررکیا ہو، فی الدرلاعبرۃ بتاجیل غیر قاضی البلدۃ۲؎(درمختار میں ہے کہ شہر کے قاضی کے علاوہ کسی اور کی مہلت کا اعتبار نہیں ہے۔ت)
 (۲؎درمختار    باب العنین     مطبع مجتبادئی دہلی    ۱ /۲۵۴)
اگر اُن کے شہر میں کوئی ایسا قاضی نہ ہو تو زید وہندہ کسی ذی علم کو پنچ مقرر کریں اس کے یہاں یہ کاروائیاں ہوں،

فی الخیریۃ یصح التحکیم فی مسئلۃ العنین لانہ لیس بحدولاقود ولادیۃ علی العاقلۃ ولھم ان یفرقوابطلب الزوجۃ۳؎۔

فتاوٰی خیریہ میں ہے نامرد کے مسئلہ میں ثانی فیصلہ جائز ہے کیونکہ یہ حد، قصاص یا عاقلہ پردیت کا مسئلہ نہیں ہے، توثالث حضرات کو بیوی کے مطالبہ پر تفریق کرنا جائز ہے۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی خیریہ باب التحکم     دارالمعرفۃ بیروت     ۲ /۱۶)
فان القضاء یقبل التخصیص بالزمان والمکان کمافی الاشباہ وغیرہا۔
کیونکہ قضاء  زمانہ اور مکان کے لئے مخصوص ہوسکتی ہے جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔(ت)

وہ احکام مذکورہ پر عملدرآمد کرے۔
فی بحرالرائق وردالمحتار وغیرہما من الاسفار ولایشترط ان یکون المتداعیان عن بلدالقاضی۱؎۔واﷲتعالٰی اعلم
بحرالرائق، ردالمحتار وغیرہما کتب میں ہے کہ دعوٰی کرنے والوں کےلئے ضروری نہیں کہ وہ قاضی کے شہر کے ہوں الخ۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ بحرالرائق        کتاب القاضی     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۶ /۲۵۷)
مسئلہ ۲۶۳: ازبریلی محلہ باغ احمد علی خاں متصل بانس منڈی مسئولہ اسحٰق احمد صاحب ۲۵شوال۱۳۳۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نصیبن کا نکاح زید کے ساتھ ہُوا، زید نامرد ہے اور نصیبن خانہ زوج میں بخوشی اپنی موجود تھی مگر والدین نصیبن مذکور چاہتے ہیں کہ مسمّاۃ مذکور اس سے علیحدہ کرلی جائے، زید سے طلاق لینا واجب ہے یانہیں،نصیبن کے نکاح کو عرصہ ڈھائی برس کا ہوا شروع نکاح میں صرف تین مرتبہ ہمبستری کا اتفاق ہُواازاں بعد نامردہوگیا اب نصیبن مذکور ناخوش ہے بنائے ناخوشی یہ  ہے کہ زید کے باپ نے ایک مکان وقتِ نکاح اس کے نام کردیا تھا اب جبراً واپس لے لیا اور رجسٹری کرالی۔

الجواب

طلاق لینا واجب نہیں، نہ اب بربنائے نامردی دعوٰی ہوسکتا ہے کہ ایک بار چھوڑ تین بار ہمبستری کرچکا ہے،ہاں اگر زید جانتا ہے کہ وُہ اس کے ادائے حق سے قاصر ہے تو عنداﷲ اُس پر لازم ہے کہ اُسے طلاق دے دے جبکہ وُہ اپنا حق جماع چھوڑنے پر راضی نہ ہو،
قال تعالٰی فامساک بمعروف او تسریح باحسان۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: ایک طلاق یا دو طلاق کے بعد بیوی کو بھلائی کے ساتھ روک رکھو یا اسے نیکی کے ساتھ آزاد کردو۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم۲ /۲۲۹)
مسئلہ۲۶۴: ازبریلی محلہ ملوکپور مسئولہ امانت علی صاحب ۳۰جمادی الاولٰی۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے دو۲ جگہ اپنے نکاح کا پیام بھیجا لڑکی والوں کو تحقیقات سے معلوم ہُوا کہ یہ شخص نامرد ہے تیسری جگہ دھوکہ دے کر ایک لڑکی سے عقد کرلیا اور نامرد ثابت ہوا، پس ایسی حالت میں نکاح جائز ہوا یا نہیں؟

الجواب

ہاں نکاح ہوگیا، عورت دعوٰی کرے گی کہ تو بعد ثبوتِ نامردی مرد کو سال بھر کامل کی مہلت دی جائیگی،اگر اس مدت میں اس عورت پر قادر ہوگیا فبہا،ورنہ پھرعورت کے دعوٰی کرے اور اب بھی نامردی ثابت ہوجانے پرحاکم عورت کو اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کے پاس رہنا مانے یا جُدائی، اگر وُہ فوراً کہے گی کہ جُدائی چاہتی ہُوں تودونوں میں تفریق کردے گا، اُس وقت عورت بعد عدّت دوسری جگہ نکاح کرسکے گی،واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۲۶۵: از پرتاب گڑھ محلہ سیّدامین مسئولہ عبدالرب صاحب ۲۶ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

جس عورت کا مرد پانچ سال سے زیادہ تک نامعلوم وبے نشان ہے تو ایسی صورت میں عورت کو اختیار ہے کہ دوسرا شوہر کرلیوے۔ امام مالک شافعی رحمۃ اﷲتعالٰی بیچ ایک قول کے فرماتے ہیں کہ ''جب گزرجائیں چار برس تو تفریق کرادے درمیان میں ان دونوں کے قاضی، بعد اس کے نکاح کریں زوج ثانی سے۔'' اور غرض مستفسر کی یہ ہے کہ برتقدیر جائز ہونے اس مسئلہ کے فسخ نکاح کی کیوں کر قاضی سے کرادی جائے، اس زمانہ پُر آشوب میں بباعث حکام غیرمذہب کے احکام قاضی کے بالکل مسدود ہوگئے ہیں پس ایسے وقت میں طریقہ اُس کے فسخ کرنے نکاح کے کیونکر عمل میں لائی جائے گی۔ دوسرے(۲)یہ کہ بعد فسخ کرادینے نکاح قاضی کے، آیا اس کے لئے کوئی عدت طلاق یا وفات کی کرنا چاہئے یا کہ بدون عدت کے نکاحِ ثانی کرلے۔ تیسرے(۳) یہ کہ اگر کوئی شخص ضرورت کے وقت بعض مسئلوں میں امام شافعی وامام مالک کے قول پر عمل کرے تو اس صورت میں اس شخص کو ہمیشہ کے لئے کل مسئلوں میں اس امام کی تقلید لازم ہوتی ہے یانہیں؟ چوتھے(۴) یہ کہ حنفیہ بھی اس فتوے کے موافق فتوٰی دے سکتے ہیں؟بینواتوجروا

الجواب

ہمارے مذہب میں وُہ نکاح نہیں کرسکتی جب تک شوہر کی عمر سے ستر۷۰ سال گزر کر اس کی موت کا حکم نہ دیا جائے اس وقت وہ بعد عدّتِ وفات نکاح کرسکے گی یہی مذہب امام احمد کا ہے اور اسی طرف امام شافعی نے رجوع فرمائی، امام مالک کہ چار سال مقرر فرماتے ہیں وہ اس کے گم ہونے کی دن سے نہیں بلکہ قاضی کےیہاں مرافعہ کے دن دے سے خود امام مالک نے کتاب مدونہ میں تصریح فرمائی کہ مرافعہ سے پہلے اگرچہ بیس۲۰برس گزر چکے ہوں اُن کا اعتبار نہیں، ادعائے ضرورت کا علاج تو اُن کے یہاں بھی نہ نکلا، آج تک تو جتنا زمانہ گزرا بیکار ہے اب قاضیِ شرع اگر ہو بھی او راسکے یہاں مرافعہ کیا جائے اور وُہ شوہر کامفقود الخبر ہونا تصدیق کرے اُس کے بعد چار برس کی مہلت دے اور پھر اب تک مفقود رہنا تحقیق کرے اُس کے بعدتفریق کرے اور عورت عدّت بیٹھے یہ ممتد زمانہ بے شوہر اور بے نان نفقہ کے کیسے گزرے گا، مذہب بھی چھوڑا اور کال بھی نہ کٹا، لہذا وُہ کرے جوامیر المومنین مولاعلی کرم اﷲ تعالٰی نے فرمایا:
ھی امرأۃ ابتلیت فلتصبر حتی یأیتھا موت اوطلاق۱؎۔
یہ ایک عورت ہے جسے اﷲتعالٰی نے بلا میں مبتلا فرمایا ہے اس پر لازم ہے کہ صبر کرے یہاں تک کہ شوہر کی موت یاطلاق ظاہرہو۔
 (۱؎ مصنّفِ عبدالرزاق    باب التی تعلم مہلک زوجہا    المکتبۃ الاسلامی بیروت    ۷ /۹۱۔۹۰

حدیث نمبر۱۲۳۳۰،۱۲۳۳۲، ۱۲۳۳۴)
ضرورت صادقہ کے وقت جو کسی مسئلہ میں ائمہ ثلٰثہ سے کسی امام کی تقلید کی جاتی ہے صرف اس مسئلہ میں اس کے مذہب کی رعایت امورِ واجبہ میں ضرور ہوگی،دیگر مسائل میں اپنے امام ہی کی تقلید کی جائے گی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter