Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
112 - 155
مسئلہ۲۶۰: ۱۱جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نامرد ہے اُس نے اپنی زوجہ کو طلاق دے دی اب وہ مقدمہ جُھوٹا بنا کرکچہری چڑھتا ہے کہ ہم نے طلاق نہیں دی ہے کچہری سے حکم ہوا ڈاکٹر معاینہ کرے اس کا ملاحظہ بھی ہُوا وہ نامرد ہے دوچار شخصوں نے اس کوچڑھا کر نالش کردی ہے، اس مسئلہ میں کیا حکم ہے؟

الجواب

جب طلاق دے دی اور عدّت گزر گئی طلاق بائن تھی تو عورت نکاح سے نکل گئی اور وُہ جُھوٹی نالش کرنے سے سخت گنہگار ہُوا،اور اگر طلاق رجعی تھی اور عدّت کے اندر رجعت کرلی تو عورت اُس کے نکاح میں ہے اور نالش میں وُہ گنہگار نہ ہُوا اگرچہ طلاق نہ دی کہنا نہ چاہئے تھا، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱: ۲۸ربیع الآخرشریف۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع بلارعایت کسی کے مسائل مفصلہ ذیل میں، ایک عورت جوان تیس۳۰ سالہ کہ جس کا خاوند مدّت دراز سے مجنون ہے اور اس کا علاج بھی ہرقسم سے کرایاگیا مگر کچھ افاقہ نہ ہُوا،م اور اس شخص کا جنون حد کو پہنچ گیاکہ جس کو فقہ والے جنون مطبق کہتے ہیں، اورنیز اس مجنون کے پاس کچھ مال واسباب بھی نہیں ہے جس سے اس عورت کے نان ونفقہ کا انتظام ہوسکے، ایسے مجنون کی زوجہ کو ائمہ ثلٰثہ سے کسی امام کے نزدیک خیارِ تفریق ہے یا نہیں اور مسئلہ میں خیار تفریق کس امام کے قول پر فتوٰی ہے۔ اگر ضرورت کے وقت مسئلہ شرعی میں دوسرے امام کے قول پر فتوٰی دیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے، چنانچہ فقہ کی کتابوں میں مثلاً شرح وقایہ وہدایہ وشامی وغیرہ میں اکثر مسائل کے اندر صاحبین کے قول کی ترجیح، امام کے قول پر ثابت کرتے ہیں،اور کتب فتاوٰی مثلاً عالمگیریہ وقاضی خاں وغیرہ میں صاحبین کے قول پر فتوٰی دیتے ہیں، آیا یہ بات جائز ہے یانہیں۔ جن مسائل میں قاضی وحاکم حکم وغیرہ نہیں ہے چنانچہ آج کل عملداری نصارٰی کی ہے تو اس صورت میں مفتی کا فتوی قائم مقام ہوسکتا ہے یانہیں، جواب مسئلہ صاف صاف معہ حوالہ کتب کے مرحمت فرمایا جائے۔

الجواب

ہمارے مذہب میں جنون کی وجہ سے ہرگز تفریق نہیں ہوسکتی۔
درمختار میں ہے :
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاٰخر ولو فاحشا کجنون۱؎الخ
خاوند بیوی میں سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناء پر اگرچہ وہ عیب جنون کی طرح واضح ہو، فسخ کا اختیار نہیں الخ(ت)
(۱؎ درمختار     باب العنین     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۵۴)
ردالمحتار میں ہے :
وقد تکفل فی الفتح بردمااستدل بہ الائمۃ الثلثۃ ومحمد بمالامزید علیہ۲؎۔
فتح میں ائمہ ثلثہ اور امام محمد رحمہم اﷲتعالٰی کے مؤقف کاخوب رَد کیا جس سے زائد کی گنجائش نہیں ہے(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     باب العنین    داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۹۷)
ہمارے علماء سے امام محمد رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ جانبِ خیار گئے اور حاوی قدسی میں حسبِ عادت برخلاف عامہ متون وشروح وفتاوٰی اس کی نسبت ''بہ ناخذ''(ہمارا اخذ مختار ہے۔ت) بھی لکھ دیا جیسا کہ اُس سے عالمگیریہ میں منقول ہُوا۔ فقیر کے فتاوٰی میں بتفصیل تام واضح کردیا گیا ہے کہ ماخوذ ومختار، معتمد و واجب التعویل مذہبِ مہذّب سیّدنا امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ سے :
وان قول الحاوی لخلافہ، بہ ناخذ، قدخالف فیہ المذہب وجمہورائمۃ المذہب والدلیل ایضافان الدلیل مع الامام فلایلتفت الٰی خلافہ۔
حاوی کا امام صاحب کے قول کے خلاف پر بہ ناخذ (ہماری یہی مختار ہے) کہنا، یہ مذہب اور جمہور ائمہ مذہب کے خلاف ہے جبکہ دلیل بھی امام صاحب رحمہ اﷲتعالٰی کی ہی قوی ہے اس لئے اس اس کے خلاف کی طرف التفات کی ضرورت نہیں۔(ت)

بانیہمہ اگر جنون حادث ہے پیش از نکاح شوہر مجنون نہ تھا بعد کو پیدا ہُوا اور حالتِ ضرورت بلامکر وفریب وپیروی نفس سچی سچی واقعی متحقق ہے تو قول امام محمد پر عمل ممکن۔
فقد اجاز والتحقق الضرورۃ الصحیحۃ تقلید الغیر بشرائط فھذا اولی بالجواز اذلیس بحمد اﷲفی المذہب قول خارج عن اقوال الامام کما نص علیہ العلماء الکرام وذکرہ اصحاب امامنا رضی اﷲتعالٰی عنہ وعنھم بغلاظ الایمان وشد ادالاقسام لاسیما وقد ذیل لما ھو اکدالفاظ الافتاء۔
فقہاء کرام نے صحیح ضرورت کی بناء پر دیگر ائمہ کی تقلید کو جائز قرار دیا ہے تو یہاں امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے قول کی بطریقِ اُولٰی اتباع جائز ہوگی کیونکہ بحمدہٖ تعالٰی مذہب کا کوئی قول امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی کے قول سے خارج نہیں ہے جیسا کہ اس پر علماء کرام نے نص کی ہے اور ا اس چیز کو ہمارے امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی کے شاگردوں نے غلیظ حلفوں اور شدید قسموں کے ذریعہ بیان کیا ہے خصوصاً جبکہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے قول کے ذیل میں فتوٰی کے  پُر تاکید الفاظ کو ذکر کیا گیا ہو۔(ت)

مگر قول امام محمد یہ نہیں کہ شوہر کو جنون ہوجائے تو عورت بطورِ خود اس سے فرقت کرکے دوسرے سے نکاح کرلے یہ کسی کے نزدیک جائز نہیں،
لان فیہ خلافا عظیما شدیدا قویا بل اجل واقوی فلایترجح ھذا الجانب الا بالقضاء کمافی العنۃ بل اولی کما لایخفی۔
کیونکہ اس میں عظیم، قوی اور شدید بلکہ بہت بڑاقوی خلاف ہے، اس لئے اس پہلو کو قاضی کے فیصلہ کے بغیر ترجیح نہیں ہوسکتی، جیسا کہ مسئلہ عنین (نامرد) بلکہ اس سے بھی اولٰی تر، جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)

بلکہ حکم یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور دعوٰی کرے وہ ثبوتِ جنون لےکر روزِنالش ایک سال کامل کی مہلت دے، اگر اس مدّت میں شوہر اچھا ہوگیا فبہا، اورا اگر اچھا نہ ہوا اور عورت نے بعد انقضائے سال پھر دعوٰی نہ کیا تو وُہ بدستور اس کی زوجہ ہے، اور اگر پھر رجوع لائی اور حاکم کو ثابت ہوا کہ شوہر ہنوز مجنون ہے تو اب وُہ عورت کو اختیار دے گا کہ چاہے اپنے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو، اور اگر عورت نے اپنے شوہر کو اختیار کیا یابغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا کسی نے اسے اٹھادیا یا حاکم خود اٹھ کھڑا ہوا تو اب عورت کو اصلاً اختیار نہ رہا وہ بدستور ہمیشہ اس مجنون کی زوجہ رہے گی،اور اگر مجلس بدلنے سے پہلے عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اب حاکم تفریق کردے گا اس روز سے عورت طلاق کی عدّت بیٹھے بعدہ، جس سے چاہے نکاح کرے، یہ اس صورت میں ہے کوجنون ثابت ہُوا س کا مطبق ہونا ثابت نہ ہُوا، اور اگر حاکم کو ثابت ہوجائے کہ واقعی مدتہائے دراز گزرگئیں کہ یہ شخص مجنون ہے اور آرام نہیں ہوتاجنون اس کا مطبق یعنی ملازم وممتد ہے تو اب سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ فی الفور عورت کا اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو( عہ بیان ہُوئے)

عہ:  یہاں اصل میں بیاض ہے۔
ہندیہ میں ہے :
اذاکان بالزوج جنون او برص او جذام فلاخیار لھا کذا فی الکافی قال محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ان کان الجنون حادثا یؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ وان کان مطبقا فھو کالجب وبہ ناخذ کذافی الحاوی القدسی ۱؎۔
جب خاوند میں جنون، برص یا جذام جیسی امراض کا عیب ہوتو بھی بیوی کو فسخ کااختیار نہیں ہے جیسا کہ کافی میں ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا: اگر خاوند کو نکاح کے بعد جنون لاحق ہُوا تو نامرد کی طرح اس کو بھی قاضی ایک سال کی مہلت دے گا، پھر سال کے بعدتندرست نہ ہونے پر عورت کو نکاح کے فسخ کا اختیار دیا جائے گا، اور اگر جنون شروع سے چلا آرہا ہوتو اس کا حکم ذکر کٹے کی طرح ہوگا، اور اسی پر ہمارا عمل ہے جیسا کہ حاوی قدسی میں بیان کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     الباب الثانی عشر فی العنین  نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۲۶)
بہر حال یہ تفریق بے حکم شرع نہیں، جہاں قاضیِ شرع نہ ہو وہاں جو عالمِ دین سچا تمام اہلِ شہر میں فقہ کا اعلم ہوایسے امورمیں حاکمِ شرعی ہے:
کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ۔
جیسا کہ اس پر فتاوٰی امام عتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے حدیقۃ الندیہ میں نص کی گئی ہے(ت)

مگر یہ لحاظ لازم ہے کہ ایسا فیصلہ اس کے لئے کسی قانونی دقّت کا موجب نہ ہو ورنہ عالم اس سے ضرور احتراز کرے اور یہ لوگ رامپور وغیرہ ریاست اسلامیہ میں چارہ جوئی کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter