مسئلہ۲۵۹: از محکمہ پیمائش ضلع گور کھپور مرسلہ منشی فریداحمداہلکار پیشی کرنیل ۹ربیع الاوّل۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مریم دس۱۰ برس کی تھی اور زید پندرہ برس۱۵ کا کہ ان کے والدین نے برضا ورغبت خود ان کانکاح کردیا جب مریم بالغہ ہوئی تو اسے ظاہر ہواکہ شوہر نامرد ہے اس صورت میں وُہ نکاح ہوا یا نہیں، اور مریم بے طلاقِ زید کے دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں، اور شوہر طلاق نہ دے تو صورتِ خلاص کیا ہے، دعوی مہرپہنچتا ہے یانہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب
صورت مستفسرہ میں نکاح قطعاً صحیح ہے لصدررھا عن اھلہ فی محلہ (کیونکہ یہ نکاح اپنے محل میں اپنے اہل سے صادر ہوا ہے۔ت) اور جب تک زید کی طرف سے طلا ق نہ ہو اس کی زوجہ ہے، اور دوسرے سے نکاح ہرگز جائز نہیں،
قال اﷲتعالٰی والمحصنٰت من النسا۳؎
(اﷲتعالٰی نے فرمایا : عورتوں سے منکوحہ عورتیں حرام ہیں۔ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۴ /۲۴)
عقودالدریہ میں ہے :
سئل فی بکرصغیرۃ زوّجھا ابوھا من رجل ودخل بھا ثم بلغت رشیدۃ وادعت بہ عنۃ وطلبت التفریق فماالحکم، الجواب لایفرق بینھما بمجرد دعواھا انہ عنین۱؎الخ
ان سےسوال کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی باکراہ نابالغہ بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کیا اورخاوند نے جماع کرلیا اس کے بعدہ وہ بیٹی بالغ ہوئی تو اس نے عقل وفہم کے باوجود خاوند کے نامرد ہونے کا دعوٰی کیا جس میں اس نے تفریق(فسخِ نکاح) کا مطالبہ کیا تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے، توجواب دیا کہ لڑکی کے محض اس دعوٰی پرکہ خاوند نامرد ہے تفریق نہ ہوگی الخ(ت)
البتہ جب زید نے غیر قادر اور اس کے ادائے حق سے قاصر ہے تو اس پر بنص قطعی قرآن طلاق دینا واجب، اگر یونہی رکھ چھوڑے گا گنہگار ہوگا۔
قال تعالٰی فامساک بمعروف او تصریح باحسان۲؎۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۹)
اﷲتعالٰی نے فرمایا: ایک یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی کو بھلائی کے ساتھ پاس روک لو یا نیکی کے ساتھ آزاد کردو۔(ت)
پس اگر وہ طلاق نہ دے تو صورتِ خلاص یہ ہے کہ مریم وزید کسی عالم دین فقیہ متین کو پنچ کریں،
فتاوٰی خیریہ میں ہے مصنف خیرالدین رملی سے سوال کیا گیانامرد ہونے کے دعوٰی پرخاوند اور بیوی کے معاملہ میں ثالث بنایا جائے اور وُہ ثالثی والے حضرات خاوند کوایک سال کی مہلت دیں اور مہلت ختم ہوجائے تو کیا ثالث حضرات اس پر تفریق کا فیصلہ کرسکتے ہیں یانہیں، تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ نامرد ہے، حد یا قصاص یا عاقلہ پر دیت کامعاملہ نہیں ہےاس لئے ثالث حضرات کو بیوی کے مطالبہ پر یہ تفریق جائز ہے، واﷲاعلم اھ__
(۳؎ فتاوٰی خیریہ باب التحکیم دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۶)
قلت وھذا نص یقدم علی استظھار العلامۃ امین الدین ابن عابدین امابالتامل مع ان ما استظہر بہ لایفیدہ کما اوضحنا فیما علقناہ علیہ فتبصر۔
قلت (میں کہتا ہوں) ی فقہی نص ہے جو علامہ ابن عابدین کی رائے پر مقدم ہے لیکن بغور معلوم ہورہا ہے کہ ان کی رائے ان کو خود مفید نہیں ہے جیسا کہ ہم نے وہاں حاشیہ میں واضح کیا ہے، تو غور چاہئے۔(ت)
ہندہ اگر اس کے حضور دعوی کرے حکم زید سے جواب لے اگر اپنی نامردی اور مریم پر قدرت نہ پانے کا مقر ہو اسے آج سے سال بھر کامل کی مہلت دے اور منکر ہوتو عورت ثقہ نمازی پرہیز گار مریم کو دیکھے جب وُہ شہادت دے کہ واقعی مریم ہنوز بکر ہے تو زید کو سال بھر کی مہلت دی جائے اگر وُہ دن ختم ماہ قمری ہوتو سال کے بارہ۱۲ مہینے تیرہ ۱۳ ہلالوں سےلئے جائیں ورنہ تین سوساٹھ۳۶۰دن شمار کرلیں اور اس مدّت میں جتنے دنوں مریم باختیارِ خود زید کے مسکن میں نہ رہے یا اُسے خواہ زید کو ایسا مرض ہو جس میں مجامعت نہ ہوسکے وُہ دن شمار میں نہ آئیں گے اور اگر زید ہی اُسے نہ رکھے یا اُس کے پاس نہ آئے تو کُچھ مجرانہ پائے گا یُونہی ایامِ حیض بھی مجرا نہ ہونگے، جب اس طرح سال گزرجائے اور زید مریم پر قدرت نہ پائے مریم پھر حَکم کے پاس تفریق وازالہ نکاح کا دعوٰی کر حَکم پھر زید سے وجاب لے اگر معترف ہو یا بحالت انکار پھر کسی عورت معتمدہ نمازی متقیہ کی شہادت معانیہ سے ثابت ہو کہ اب بھی مریم بدستور بکر ہے تو حکم مریم سے پوچھے تو زید کو اختیار کرتی ہے یا اپنے نفس کو اگر کہے زید کو یا بغیر کُچھ کہے چلی جائے یا کھڑی ہوجائے یا اٹھادی جائے یا حَکم اٹھ کھڑا ہوتو اب اس کا دعوٰی باطل اور نکاح لازم ہوگیااور اگر اسی جلسہ میں کہہ دے میں اپنے نفس کو اختیار کیا تو حَکم زید کو حُکم دے کہ اُسے طلاق دے کہ بحکم شرع تجھ پر طلاق دینی واجب ہے اگر دیدے فبہا ورنہ حَکم کہہ دے میں تم دونوں میں تفریق کردی فوراًمریم اس کے نکاح سے نکل جائے گی جس سے چاہے نکاح کرلے، پس اگر زید ومریم میں خلوت ہوچکی تو مریم پر عدّت اور زید کے ذمّہ پُورا مہر ورنہ عدّت نہیں اور آدھا مہر،
فی تنویرالابصار والدرالمختار وردالمحتار لووجدتہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ بالااھلۃ علی المذہب ولواجل فی اثناء الشھر فبالایام اجماعا (کل شھر ثلثون یوما) ورمضان وایّام حیضھا منھا وکذاحجہ وغیبتہ لامدۃ حجھا وغیبتھاومرضہ ومرضا ویوجل من وقت الخصومۃ فان وطئ مرۃ فبھا والابانت بالتفریق من القاضی ان ابی طلاقھا بطلبھا یتعلق بالجمیع(ای جمیع الافعال وھی فرق واجل وبانت) ولوادعی وانکرتہ فقالت امرأۃ ثقۃ والثنتان احوط ھی بکر خیرت فی مجلسھا(ای یخیرھا القاضی) وان اختارتہ بطل حقھا کما لو وجد منھا دلیل اعراض بان قامت من مجلسھا واقامھا اعوان القاضی او قام القاضی قبل ان تختار شیئا بہ یفتی لامکانہ مع القیام۱؎اھ ملتقطا۔
تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر بیوی اپنے خاوند کو نامرد پائے تو خاوند کو ایک سال کی قمری مہینوں کے حساب سے مہلت دی جائے گی، جیسا کہ مذہب میں ہے، اور اگر مہینہ کے درمیان مہلت دی گئی تو پھر بالاجماع دنوں کی گنتی بحساب ہرماہ تیس دن مہلت شمار ہوگی، اور ماہِ رمضان اور عورت کے حیض کے دن مہلت میں شمار ہوں گے، اور یُونہی خاوند کے حج اور غیر حاضری کے ایّام مہلت میں شمار نہ ہوں گے، اورمہلت کاشمار دعوٰی پیش ہونے کے وقت سے ہوگا، اس دورانِ مہلت اگر خاوندی نے بیوی سے ایک مرتبہ جماع کرلیا تو بہتر ہے ورنہ قاضی کی تفریق سے بیوی بائنہ ہوجائے گی اگرچہ خاوند طلاق دینے سے انکار کردے یہ کاروائی بیوی کے مطالبہ پر ہوگی، عورت کے مطالبہ کا تعلق، تفریق، مہلت اور اس کے بائنہ ہونے تمام امور سے ہے، اگر مہلت کے دوران خاوند وطئ کرنے کا مدعی ہواور بیوی انکار کرتی ہو تو پھر ثقہ ایک عورت یا دو۲ عورتوں نے کہہ دیا کہ بیوی تا حال باکرہ ہے تو بیوی کواسی مجلس میں اختیار ہوگا، اور یہ اختیار قاضی دے گا، اگر بیوی نے اس موقعہ پر خاوند کو اپنایا تو بیوی کا اختیار ختم ہوجائیگا جس طرح مجلسِ اختیار میں بیوی خاوند سے جدائی کو ناپسند کرتے ہوئے اٹھ جائے یا قاضی کے عملہ نے بیوی کواٹھا دیا، یا قاضی خود اٹھ کر چلاگیا اور بیوی نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہ کیا تھا تو ان تمام صورتوں میں بیوی کا اختیار باطل ہوجائے گا، اسی پرفتوٰی ہے کیونکہ بیوی کے اُٹھ جانے میں یہ امکان موجود ہے اھ ملتقطا(ت)
(۱؎ در مختار شرح تنویر الابصار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۴)
(ردالمحتار باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۹۵)
عالمگیری میں ہے :
ان اختارت الفرقۃ امرالقاضی ان یطلقھا بائنۃ فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد رحمہ اﷲتعالٰی فی الاصل کذافی التبیین
والفرقۃ تطلیقہ بائنۃ کذافی الکافی ولھا المھر کاملا وعلیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قدخلابھا وان لم یدخل بھا فلاعدۃ علیھا ولھا نصف المھر ان کان مسمّی والمتعۃ ان لم یکن مسمی کذا فی البدائع اھ۱؎۔
اگر بیوی نے فرقت کو پسند کیا تو قاضی خاوند کوبائنہ طلاق دینے کا حکم دے گا، اگر خاوند انکار کردے تو قاضی خود تفریق کردے۔ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے اصل(مبسوط) میں یونہی فرمایاہے، جیسا کہ تبیین میں مذکور ہے، اور قاضی کی تفریق بائنہ طلاق قرار پائے گی جیسا کہ کافی میں مذکور ہے۔ بیوی کے لئے کامل مہر ہوگا اور اس پر بالاجماع عدت لازم ہوگی بشرطیکہ خاوند نے خلوت پالی ہو، اور اگر اس نے خلوت بیوی سے نہ کی ہو تو عدت نہ ہوگی اور مہر بھی نصف ہوگا، اور اگر مہر مقررہ نہ تھا تو اس صورت میں صرف(متعہ) جوڑا دیا جائے گا، جیسا کہ بدائع میں مذکور ہے اھ(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۲۴)
اصل حکم یہ ہے پھر زید براہِ شرارت واضرار زوجہ کسی کو پنچ کرنے پر راضی نہ ہوتو چارہ کاریہ ہے کہ اس شہر میں جو عالمِ دین وہاں کے سب اہلِ علم فقہ وعلوم دینیہ میں زائد ہو مریم اُس کے یہاں بطورِ خود دعوٰی مذکور کرے عالم موصوف زید کو بلا کرکاروائی بروجہ مذکور کرے۔
فان اعلم البلد لایحتاج فی زماننا فی امثال ھذاالی التحکیم کما نص علیہ المولی الفاضل سیدی عبدالغنی النابلسی فی الحدیقۃ الندیۃ عن الامام العتابی وعن السید السمہودی ثم عن المناوی رحمھم اﷲتعالٰی علیہم اجمعین۔
کیونکہ علاقہ کابڑا عالم ہمارے زمانہ میں کسی پنچایت کا پابند نہیں یعنی ثالثی کا محتاج نہیں، جیسا کہ فاضل محترم مولانا عبد الغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں اس پر تصریح فرماتے ہوئے امام عتابی اور سیّد سمہودی اور پھر علّامہ مناوی رحمہم اﷲتعالٰی علیہم اجمعین سے نقل کیا ہے۔(ت)
پھر اگر زید کو آنے میں بھی انکار ہو تو عالم ممدوح خود اس کے پاس تکلیف کرے،
فی الھندیۃ یذھب بنفسہ اویبعث من یحضرہ ورسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہم فعل کلاالنوعین۲؎اھ ملخصاً۔
ہندیہ میں ہے خود جائے یا کسی کو بھیج کر طلب کرے، رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے دونوں طریقے اپنائے ہیں اھ ملخصاً(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۳۵)
اور غالباً ہنوز حکم مسئلہ سے ناواقفی کے باعث اسے عالم موصوف سے ملنے اور گفتگو کرنے میں باک نہ ہوگا بس صرف اتنا اس سے دریافت کرلے کہ مریم تیری نامردی کی شاکی ہے آیا واقعی ایسا ہی نہیں اگراقرارکرے سال بھر کی مہلت دے د اور بحالتِ انکار زنانِ ثقات کو دکھا کر بقائے بکارت کا ثبوت لے کر زید کو مہلت ایک سال کی اطلاع کودے جب بعد مرورمدّت عورت پھر جُدائی چاہے عالم دوبارہ زید کے پاس جائے،بن پڑے توکاروائی مذکور کرے مگر جب زید کوخواہی نخواہی ایذاوضررِ مریم ہی منظور ہے تو بعد سماع مہلت عجب نہیں کہ دوبارہ عالم سے نہ ملے کہ آخر جبر شرعی کی طرف تو کوئی راہ ہی نہیں، اگر ایسی صورت واقع ہوتو مریم اس بار دوم کی کاروائی میں اپنے آپ کو اعانت عالم سے غنی سمجھے اور صرف اُس قدر امداد پر جو اوّل بار بحکم عالم نامردیِ زید ثابت ہوکر مہلت یکساں دی گئی تھی قناعت کرے اب کہ زید عالم سے نہ ملے اور کاروائی آئندہ نہ ہونے دے ہندہ خود کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور زیدکے نکاح سے باہر آئی مذہبِ صاحبین پراس قدربھی کافی ہوجائے گا اور مریم اس کے ظلم سے نجات پائے گی،
فی ردالمحتار تحت قولہ والابانت بالتفریق من القاضی وقیل یکفی اختیارھا نفسھا ولایحتاج الی القضاء کخیار العتق قیل وھو الاصح کذا فی غایۃ البیان وجعل فی المجمع الاوّل قول الامام والثانی قولھما نھر، وفی البدائع عن شرح مختصر الطحاوی ان الثانی ظاہرالروایۃ ثم قال وزکر فی بعض المواضع ان ماذکر فی ظاہرالروایۃ قولھما۱؎انتہی۔
ردالمحتار میں ماتن کے قول(ورنہ قاضی کی تفریق سے بائنہ ہوجائے گا) کے تحت بیان کیا کہ بعض نے کہا قاضی کی تفریق کے بجائے بیوی خود اپنے کو علیحدہ قرار دے تو کافی ہے اور قاضی کی ضرورت نہیں، جیسا کہ عتق میں خیار کی صورت میں عورت کو خودکاروائی کا اختیار ہے، بعض نے اس قول کو اصح قرار دیا، جیساکہ غایۃ البیان میں ہے۔ اور مجمع میں پہلے قول (قاضی کی تفریق) کو امام صاحب رضی اﷲتعالٰی عنہ کا قول اوردوسرے کو صاحبین کا قول قرار دیاہے،نہر۔ اور بدائع میں مختصر الطحاوی کی شرح سے منقول ہے کہ دُوسراقول ظاہر روایۃ ہے، اور پھر کہا کہ بعض مواقع میں ظاہر روایۃ صاحبین کا قول ہے، اھ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۹۵)
اقول وقد نص علمائنا ان تقلید الغیریجوز فی مواقع الضرورۃ قال اﷲتعالٰی ماجعل علیکم فی الدین من حرج۱؎فماظنک بالعمل بقول صاحبی الامام المثبت فی ظاہرالروایۃ المذیل بترجیح مافقد صرحوا انہ لیس فی المذہب قول لاحد غیرالامام الھمام رضی اﷲتعالٰی عنہ،وامّاماینسب الی الصاحبین او الی احدھما فما ھوالاروایۃ عنہ مال الیھا بعض الاصحاب، فنسبت الیہ کما اقسم علیہ الاصحاب بایمان غلاظ شداد کما ذکرہ فی ردالمحتار وغیرہا من الاسفار واﷲیحب التیسر ولایرضی بالظلم ولاضرر ولاضرار فی الاسلام ۲؎والیہ المشتکی من احوال الزمان، واﷲتعالٰی اعلم۔
اقول(میں کہتا ہوں) ہمارے علماء نے نص فرمائی ہے کہ اپنے امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے علاوہ کی تقلید بوقتِ ضرورت جائز ہے، اور اﷲتعالٰی نے فرمایا:''اﷲتعالٰی نے تمہارےلئے دین میں تنگی نہیں فرمائی۔'' توامام صاحب رحمہ اﷲتعالٰی کے دونوں شاگردوں (صاحبین) کے قول پر عمل کے بارے میں تجھے کیا تردّد ہوسکتا جبکہ وُہ قول ظاہر الروایۃ کے ضمن میں ایک طرح کی ترجیح بھی دامن میں لئے ہوئے ہے، فقہاء میں ایک طرح کی ترجیح بھی دامن میں لئے ہوئے ہے، فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ مذہب میں امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول کے ماسواکوئی قول نہیں اور جوصاحبین یا ان میں کسی ایک کی طرف منسوب ہے تو وُہ بھی امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کا ہی قول ہے جوان سے مروی ہوتا ہے اور بعض شاگرد اس قول کو اپنالیتے ہیں جیسا کہ اس کو آپ کے شاگردوں نے شدید قسموں کے ذریعے ذکر فرمایا ہے کہ جیسا کہ اس کو ردالمحتار وغیرہ کتب میں بیان کیاہے، اور اﷲ تعالٰی آسانی پیدا کرنے کو پسند فرماتا ہے اور ظلم اور ضرر کو اسلام میں پسند نہیں فرماتا، اور اس کے دربار میں ہی زمانہ کے احوال کی شکایت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)