| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۵۷: ۲۲محرم الحرام ۱۳۱۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر پیدائشی عنین یعنی نامرد نکلا چنانچہ ڈاکٹر نے اس کا ملاحظہ کیا اور سند نامرد ہونے کی دے دی دریں صورت نکاح اس کا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے آیا زوجہ شوہر سے محتاج طلاق ہے یانہیں اور ایسی حالت میں مستحق کسی جزء مہر کی ہوتی ہے یانہیں اور ڈاکٹری سند ثبوت نامردی کےلئے کافی ہے یانہیں؟بینواتوجروا الجواب زوج کا عنین ہونا مانع صحت نکاح نہیں، زوجہ عنین مثل دیگر زنان بے طلاق شوہر سے جُدائی کا اختیار نہیں رکھتی، خلوتِ صحیحہ اگر ہولی تو مہر تمام وکمال پائے گی،
فی التنویرالخلوۃ بلامانع کا لوطء ولومجبوبا او عنینا اوخصیا فی ثبوت النسب وتاکد المہر۱؎اھ ملتقطا۔
تنویر میں ہے: خلوت میں مانع نہ ہوتو وہ وطی کے حکم میں ہوگی اگرچہ خاوند کا ذکر کٹاہواہو، یانامرد یا خصی ہو، تو یہ خلوت نسب کے ثبوت اور مہر کو لازم کرنے میںوطی کی طرح ہوگی، اھ، ملتقطا(ت)
(۱؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۸)
سندِ ڈاکٹری محض ناکافی ونامعتبر ہے،
قال اﷲتعالٰی یا ایھاالذین اٰمنواان جاءکم فاسق بنبأفتبینوا۲؎الاٰیۃ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! اگرتمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی وضاحت کولوالآیہ۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴۹/۶)
مسئلہ ۲۵۸ : ازشہر بریلی محلہ کوہاڑاپیر مسئولہ نصیر اﷲصاحب ۷جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت اپنے شوہر کی ناقابلیت بیان کرتی ہے کہ چھ۶ برس کا عرصہ شادی کو ہوا اب تک شوہر میں کوئی مردی نہیں۔ مرد کی ایسی حالت اس کے ورثاء کو بھی معلوم ہے مرد خود علاج کراتا رہتا ہے لیکن کوئی علاج مفید نہ ہُوااب عورت چاہتی ہے میرا عقد دوسرا شخص کے ساتھ ہوجائے مرد کواس کے خیال سے تعرض نہیں تو ایسے مرد کے ساتھ نکاح جائز ہوا یا نہیں، اور اپنا ارادہ کس طرح پُورا کرے، آیا طلاق دے یا کوئی ضرورت نہیں؟ الجواب نکاحِ مذکورجائز وصحیح ہے،عورت کو ہرگز روا نہیں کہ بے طلاق یا فُرقتِ شرعیہ کے دُوسرے سے نکاح کرلے، اگر کرے محض حرام ہوگا۔ مردجب ہمبستری میں عورت کا حق ادا کرنے پر قادر نہ ہوتو اس پر فرض ہے کہ عورت کوطلاق دے دے۔
قال اﷲتعالٰی فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف۱؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۱)
اﷲتعالٰی نے فرمایا: ایک یا دو۲ طلاقوں کے بعد بیوی پاس رکھ لویا بھلائی کے ساتھ آزاد کردو۔(ت) بعد طلاق عورت عدّت بیٹھے اگر مرد خلوت کرچکا ہواگرچہ اس پر قادر نہ ہُواہو۔ اُ س کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے، اور اگر اب تک خلوت نہ ہُوئی تو بعد طلاق فوراً جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
فی الھندیۃ من باب العنین علیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قد خلابھا وان لم یخل بھا فلاعدۃ علیھا۲؎الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں "نامردکے احکام" کے باب میں ہے کہ عورت پر بالاجماع عدّت ہوگی جب خاوند نے خلوت کرلی ہو، اور اگر خلوت نہ پائی ہوتو پھر عورت پر عدّت نہیں ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۲۴)