مسئلہ۱۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر مسماۃ ہندہ صغیرہ نابالغہ کا نکاح عمروکے ساتھ کرنا چاہا، وقت نکاح کے وکیلِ نکاح نے تعداد مہر کی مبلغ دس ہزار روپے اور دو۲ دینار سُرخ ظاہر کی، اس پر عمرو کی طرف سے لوگوں نے کہاکہ تعداد مہرکی بہت ہے، عمرو کی حیثیت اتنی بھی نہیں کہ دسواں حصّہ اس کا ادا کرسکے، تعداد مہر کی کم کرنا چاہئے، وکیلِ نکاح نے جواب دیا کہ تعدادِ مہر کم کرنے کا مجھ کو اختیار نہیں ہے مگر یہ مہر ایسا نہیں ہے جودونوں کی ذندگی میں لیا دیاجائے، جبکہ اس مہر پر نکاح ہوگیا اور ہندہ باپ کے گہر سے آکر عمرو کے گھر دوتین مہینے رہی مگر بوجہ صغیرہ ونابالغہ ہونے ہندہ کے عمرو کو استمتاع وطی نہیں ہوا بعدہ، زید ہندہ کو بلا مرضی عمرو کے اپنے گھر لے گیا اور اب عمروکے گھر نہیں آنے دیتا ہے اور دعوٰی بعض مہر کا بہ ترک بعض مہر کے منجانب ہندہ کو بولایت پانے بوجہ نا بالغی ہندہ کے کرتا ہے پس اس صورت میں مہر عمرو سے دلایا جائے گا یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب
مہر میں جب نہ یہ شرط کی جائے کُل یا اس قدر پیشگی لیں گے جسے معجل کہتے ہیں، نہ اُس کے ادا کے لئے کوئی میعاد معیّن کی جائے، مثلاً سال دوسال، یا جو قرار پائے، جسے مؤجل کہتے ہیں، تو وہ عرفِ بلد پر رہے گا، جس شہرمیں عام طور پر یہ رواج ہوکہ مثلاً نصف یا ربع یاکسی قدر بغیر تصریح تعجیل کے بھی پیشگی لیتے ہیں وہاں اتنا پیشگی دینا ہوگا، اور جہاں عرف یُوں ہے کہ بے موت یا طلاق لینا دینا نہیں ہوتا وہاں جب تک زوجین میں کسی کا انتقال یا طلاق واقع نہ ہوا اختیارِ مطالبہ نہ دیں گے۔
مختصر الوقایہ میں ہے :
المعجل والمؤجل ان بینا فذاک والافالمتعارف۱ ؎۔
اگر مہر معجل و مؤجّل کی مدّت بیان کی گئی ہوتو بہتر ورنہ متعارف مراد ہوگا۔(ت)
ہمارے بلاد میں عام مہور بیان تعجیل وتاجیل سے خالی ہوتے ہیں اور رواج یہ ہے کہ اُس کے لزوم ادا کو موت یا طلاق پر موقوف رکھا جاتا ہے، پس صورتِ مسئولہ میں اگر وکیلِ نکاح اس مضمون کی تصریح بھی نہ کرتا کہ یہ وُہ مہر نہیں جو زندگی میں لیا دیا جائے تاہم پدرِ ہندہ بحالتِ نابالغی اور خود ہندہ بعد بلوغ تا وقتیکہ موت یا طلاق نہ ہو عمرو سے کسی جزوِ مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتے،
ردالمحتار میں ہے :
حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح۲؎۔
بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق موت یا طلاق کے بعد ہوگا، نکاح کے وقت سے نہیں ہوگا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التر اث العربی بیروت ۴/۳۴۳)
یہاں کہ وکیلِ نکاح نے وقتِ نکاح اس مضمون کی صاف تصریح کردی بدرجہ اولٰی کسی کو اختیارِ مطالبہ نہیں۔
واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت کا کہ زنا سے حاملہ تھی نکاح غیر زانی سے کہ اُسے اس کے حمل سے اطلاع نہ تھی ہوگیا، آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اوریہ عذر مردکا کہ میں نے باکرہ سمجھ کر نکاح کیا تھا نہ حاملہ، اسقاطِ مہر کے لئے کافی ہے یا نہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب
صورت مسئولہ میں نکاح صحیح ہے اب نکاح کرنے کی ضرورت نہیں، مگر جس صورت میں حمل اس مرد سے نہیں رہا تو اُسے قبل از وضعِ حمل مباشرت اور اس کے دواعی اس عورت کے ساتھ جائز نہیں۔
درمختار میں ہے :
وصح نکاح حبلی من زنالاحبلی من غیرہ ای الزنا لثبوت نسبہ ولو من حربی او سیدھا المقربہ وان حرم وطؤھا اور دواعیہ حتی تضع۱ ؎۔
زنا سے حاملہ کا نکاح صحیح ہے غیر زنا سے حاملہ کا نکاح صیحح نہیں کیونکہ اسکی نصب ثابت ہوگی خواہ حربی سے یا مالک سے جب وُہ اقرارکرے اگرچہ زنا کی حاملہ سے نکاح جائز مگر جماع اور دواعی حرام ہیں جب تک وُہ بچّہ کو جنم نہ دے۔(ت)
(۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۸۹)
اوریہ عذر کہ میں نے باکرہ سمجھ کر نکاح کیا تھا نہ کہ حاملہ، مہر کو ساقطنہ کرے گا کہ کفاء ت عورت کی طرف سے معتبر نہیں۔
کتا ب مذکور میں ہے :
لاتعتبر من جانبھا لان الزوج مستفرش فلاتغیظہ دناء ۃ الفراش وھذ اعند الکل فی الصحیح ۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
عورت کی طرف سے کفاءت نہیں کیونکہ خاوند کے لئے بیوی بستر بنتی ہے تو اسے کمتر مفروش سے رنج وغیظ نہیں آتا۔ صحیح مذہب میں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ درمختار باب الکفاء ۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۹۴)
مسئلہ ۱۷ : از ذخیرہ مسئولہ مولوی برکات احمد صاحب وکیل دیوانی
مولانا صاحب دام عنایتکم، سالم مسنون کے بعد عارض ہوں، ایک مسئلہ شرعی بتادیجئے، وُہ یہ ہے
کہ مہر کب واجب ہو تا ہے، اگرمعجل ہو تو کس وقت؟خلوتِ صحیحہ مہرکے واسطے ضروری ہے یانہیں ؟ اور خلوتِ صحیحہ کس کو کہتے ہیں اس کی تعریف کیا ہے؟ بینو اتوجروا
الجواب
مہر معجّل وُہ مہر یا پارہ مہر کا ہے جس کا ادا کرنا فوراً قرار پایا ہو خواہ از رُوئے شرط کہ نفس عقد نکاح میں تعجیل مذکور ہویا عقد کے بعد شرط تعجیل ٹھہری خواہ ازروئے عرف جبکہ وُہ شرط صحیح کے مخالف نہ واقع ہویہ مہر فوراً واجب الادا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے ادا سے پہلے شوہر عورت کو بے اس کی رضا کے ہاتھ نہیں لگا سکتا بلکہ رخصت نہیں کراسکتا، اور مؤجّل وہ جس کے لئے کوئی میعاد معیّن قرار دی گئی ہو مثلاً ایک سال، دس سال، یا جس قدر ٹھہرائیں، یہ اُس وقت واجب الادا ہوگا جب وعدے کا وقت آجائے اس سے پہلے عورت اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔
جامع الرموز میں ہے :
المھر المعجل والمؤجل ان بینا ای بین فی العقد کلہ او بعضہ یکون معجلا او مؤجلا فذاک المبین واجب اداؤہ علی مابین۱ ؎۔
مہر معجل اور مؤجل اگر بوقت عقد بیان ہوچکے ہیں یعنی تمام یا بعض معجل ہوگا یا مؤجّل ہوگا، تو اس بیان کے مطابق ادائیگی واجب ہوگی۔(ت)
(۱؎ جامع الرموز باب المہر مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۴۸۳)
اور اگر مؤجل کہا اور کائی میعاد اصلاً نہ بیان کی تو وُہ طلاق یا موت تک مؤجل ٹھہرے گا اور بعد فرقت ہی واجب الادا ہوگا اس سے پہلے مطالبہ کا عورت کو اصلاً استحقاق نہیں۔
ردالمحتار میں ہے :
من اول الفروع المذکورۃ فی کتاب القضاء قبل باب التحکیم مسئلۃ عدم سماع الدعوی بعد مرور کذا سنہ، لامات زوج المرأۃ او طلقھا بعد عشرین سنۃ مثلاً من وقت النکاح فلھا طلب موخر المھر لان حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح۲ ؎۔
کتاب القضاء میں تحکیم کے باب سے قبل سب سے پہلا جزئیہ یہ مذکور ہ کہ اتنے سال گزرجانے کے بعد دعوٰی قابلِ سماعت نہیں ہوتا، اس پر تفریع یہ ہے کہ نکاح کے وقت سے مثلاً بیس۲۰ سال بعد خاوند فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو بیوی کو مؤخر شدہ مہر کے مطالبہ کا حق ہے، کیونکہ مہر مؤجل میں بیوی کو مطالبہ کاحق ہے، کیونکہ مہر مؤجل میں بیوی کو مطالبہ کا حق موت یا طلاق کے بعد ہی ہوتا ہے نکاح کے وقت سے مطالبہ کرنے کا حق نہیں۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۴)
اسی طرح جس پارہ مہر یا کل مہر کی نسبت تعجیل وتاجیل کا کچھ ذکر نہ آیا وُہ بھی موت یا طلاق تک مؤجل ٹھہرے گا کہ ایسی صورت میں مدار عرفِ بلد پر ہے اور یہاں عام عرف شائع فی البلاد یہی ہے کہ جس مہر کی تعجیل مشروط نہ ہُوئی اُس کا مطالبہ تا وقت فرقت نہیں کیا جاتا۔
نقایہ میں ہے :
المعجل والمؤجل ان بینا فذاک والافا لمتعارف ۱۔
معجل اور مؤجل کی مدّت بیان ہوچکی تو بہتر ورنہ اس میں عرف کا اعتبار ہوگا کہ کتنا مؤجل ہے یا معجل۔(ت)
اور خلوت صحیحہ یہ ہے کہ زن وشوتنہائی کے مکان میں جہاں کسی کے آنے جانے یا نظر پڑنے سے اطمینان ہو، یُوں متفق ہوں کہ اُن کے ساتھ کوئی تیسرا ایسا نہ ہو جو ان کے افعال کو سمجھ سکے، نہ اُن میں کسی کو مقاربت مانع شرعی یا حِسّی ہومثلاً مرد یا عورت کی ایسی کم سِنی جس میں صلاحیت قربت وقابلیتِ صحبت نہ ہو یا شوہر کی ناسازی طبع یا عورت کا حیض یا نفاس یا ایسے مرض میں ہونا جس کے سبب وقت وقوع فعل قربت سے اسے مضرت پہنچے یا ان میں کسی کا نماز میں فرض یا ماہِ رمضان میں روزہ فرض سے مشغول ہونا
کل ذٰلک فی الخانیۃ والدرالمختار وحواشیۃ
(یہ تمام بحث خانیہ، درمختار اور اس کے حواشی میں ہے۔ت)اور خلوتِ صحیحہ وجوبِ مہر کی شرط نہیں، وجوبِ مہر تو عقدِ نکاح سے ہوتا ہے، ہاں خلوت سے مہر متاکد ہوجاتا ہے بایں معنی کہ اگر پیش ازوطی وخلوتِ صحیحہ طلاق تو نصف مہر لازم آتا، اب کہ خلوت واقع ہوگئی کُل لازم آئے گا۔
نقایہ میں ہے :
یجب نصفہ بطلاق قبلھا ای قبل خلوۃ الصحیحۃ۲؎ اھ ملخصا۔واﷲتعالٰی اعلم۔
نصف مہر ، طلاق قبل از خلوتِ صحیحہ سے واجب ہوتا ہے اھ ملخصاً۔(ت)واﷲتعالٰی اعلم