| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
سادساً اس کر مرجح ومختار رکھنے والوں کی جلالت وعظمت جن میں مثل برہان الدین صاحب ہدایہ وامام قاضی خاں وامام محقق علی الاطلاق وغیرہم اجلہئ ائمہ اعلامہ ہیں، علماء فرماتے ہیں امام قاضی خان کی ترجیح اوروں کی ترجیح پر مقدم ہے اور فرماتے ہیں اُس سے عدول نہ کیا جائے کہ وہ فقیہ النفس ہیں کما فی ردالمحتار وغیرہ(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت) سابعاًقوّتِ دلیل کہ بعد ملاحظہ تبیین الحقائق وفتح القدیر آفتاب کی طرح واضح ہوجاتی ہے۔
اقول فثبت بحمد اﷲ نقول الحاوی القدسی بقول محمد ھنا بہ ناخذ کما نقلہ عنہ فی الھندیۃ انما ھو کقولہ ایضالروایۃ شاذۃ عن ابی یوسف مخالفۃ للمذہب المعتمدالمجمع علیہ بین المتون والشروح والفتاوی وھی عدم کراھیۃ النفل یوم الجمعۃ عند الاستواء لان النار لاتسعرفیہ ان علیہ الفتوی کما نقلہ فی الاشباہ عن الحلیۃ عن الحاوی قلت والمراد ھوھذا اعنی حاوی القدسی فقد رأیت التصریح بہ فی الحلیۃ قال العلامۃ السید الحموی فی غمزالعیون مجردد عوی الحاوی ان الفتوی علیہ لایقتضی انہ المصحح المعتمد فی المذہب کیف واصحاب المتون قاطبۃ والشروح ماشون علی قولھما(یعنی الطرفین رضی اﷲعنھما) ومشی اصحاب المتون تصحیح التزامی علی ان مافی المنون والشروح مقدم علی مافی الفتاوی۱؎اھ۔
اقول(میں کہتا ہوں) الحمد اﷲ یہ ثابت ہوگیا کہ حاوی قدسی کایہاں کہنا کہ امام محمد کے قول کو ہم لیں گے، جیسا کہ ہندیہ میں ان سے منقول ہے، تو یہ ایسے ہے جیسے انہوں نے امام ابویوسف سے ایک شاذ روایت جو کہ معتمد مذہب اور تمام متون وشروح وفتاوٰی کے خلاف ہے کہ جمعہ کے روز استواء شمس کے وقت نفل پڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ اس دن آگ شعلہ زن نہیں ہوتی، کے متعلق علیہ الفتوٰی(اس پر فتوٰی ہے) کہہ دیا، جیسا کہ اس کو اشباہ میں حلیہ سے انہوں نے حاوی سے نقل کیا ہے قلت(میں کہتاہوں) وہاں حاوی سے یہی حاوی قدسی مراد ہے کیونکہ میں نے اس کی تصریح حلیہ میں دیکھی ہے، علامہ سید حموی نے غمز العیون میں فرمایا کہ حاوی کاصرف یہ دعوی کرنا کہ''اس پر فتوٰی ہے'' سے لازم نہیں آتا کہ یہ تصحیح شدہ ہو اور مذہب معتمد علیہ ہو یہ کیونکر ہوسکتا جبکہ تمام اصحاب متون وشروح، طرفین کے قول پر قائم ہیں، اور اصحابِ متون کی طرف سے یہ التزامی تصریح موجود ہے کہ متون وشروح کا بیان فتوٰی کے بیان پر مقدم ہے اھ(ت)
(۱؎ غمزعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر القول احکام الجمعۃ ادارۃ القرآن کراچی ۳/ ۲۳۸)
خیر یہاں تک ہمارے اصلا مذہب پر بنائے سخن تھی مگر مجھے یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ نکاح مذکور کو روایت خلاف سے بھی اصلاً تعلق نہیں بلکہ وُہ باتفاق ہمارے تمام ائمہ کے محض ناجائز واقع ہُوا۔ میں اگرچہ اسے متعدد دلائل سے ثابت کرسکتا ہوں مگر یہاں صرف چند واضح امور پر اقتضاد کافی، روایت خلاف کا ہرگز یہ حکم نہیں کہ جنونِ شوہر میں مطلقاً حاکم فوراً اجازتِ نکاحِ ثانی دے بلکہ جب جنون پیدا ہوتو لازم کہ روزمرافعہ سے مردکو سال بھر کامل کی مہلت دے اگر اس میں اچھا ہوگیا تو اب ہرگزتفریق جائز نہیں، اور نہ اچھا ہُوا تو عورت جب تک پھر دعوٰی نہ کرے حاکم ہرگز حکم نہ دے وُہ بدستور زوج زوجہ رہیں گے ہاں اگر اب عورت پھر دوبارہ خواستگاری تفریق کو آئے تو قاضی اسے اختیار دے کہ چاہے تو اپنے نفس کو اختیار کریاشوہرکو، اگر اس نے شوہر کو اختیار کیا یا بغیر کُچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا قاضی سپاہیوں نے اسے اُٹھادیا قاضی فوراً اٹھ کر کھڑا ہوا تو اب اسے اصلاً اختیار نہ رہا ہمیشہ کے لئے اس کی زوجہ ہے کہ کبھی دعوٰی تفریق نہیں کرسکتی، اور اگراسی جلسہ میں اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اب قاضی تفریق کردے، یہ تفریق طلاقِ بائن گنی جائے گی، اس کے بعد عورت ایّامِ عدّت پورے کرکے جس سے چاہے نکاح کرلے، اور ضرور ہے کہ عورت درخواست قاضی مصر یا مدینہ کے حضور پیش کرے وُہ سال بھر کی مدّت دے، اس کے سوادُنیا میں کسی کی تاجیل کی معتبرنہیں۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
قال محمد ان کان الجنون حادثایؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ۔اھ۲؎
امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا: اگر خاوند کو جنون نیا عارض ہوا تو اس کو نامردی کی طرح ایک سال کی مہلت دی جائے گی، پھر سال کے بعد بیوی کو فسخ کا اختیار دیاجائیگا بشرطیکہ تندرست ہوا ہواھ(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۲۶)
اسی میں ہے:
جاءت المرأۃ الی القاضی بعد مضی الاجل والزوج لم یصل الیھا خیرھا القاضی فی الفرقۃ کذا فی شرح الجامع الصغیرلقاضی خان فان اختارت زوجہا اوقامت عن مجلسھا اواقامھا اعوان القاضی اوقام القاضی قبل ان تختار بطل خیارھا کذافی المحیط، وھکذا روی عن محمد رحمہ اﷲتعالٰی عنہ وعلیہ الفتوی کذافی التاتارخانیہ ناقلا عن الواقعات، ان اختارات الفرقۃ امرالقاضی ان یطلقھا بائنۃ، فان ابی فرق بینھما ھکذا ذکر محمد فی الاصل کذافی التبیین ۱؎ اھ ملخصا۔
مذکورہ صورت میں عورت سال کے بعد آکر کہے میرا خاوند تندرست نہیں ہُوا، خاوند اس دوران جماع نہ کرسکا ہوتو قاضی بیوی کو اس وقت اختیار دے گا، شرح جامع صغیرہ قاضی خاں میں ایسے ہی ذکر کیا ہے تو قاضی کے اس اختیار پر عورت نے اپنے خاوند کو ترجیح دی یا اس مجلس اختیار سے اُٹھ گئی، یا قاضی کے اہلکاروں نے اسے وہاں سے اٹھادیا یا قاضی عورت کے فیصلہ بتانے سے قبل چلاگیا، تو عورت کا اختیار ختم ہوجائے گا، محیط میں ایسے ہی بیان ہے، اور یونہی امام محمد امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی سے مروی ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ تاتارخانیہ میں واقعات سے یونہی منقول ہے، اور اگر مذکور صورتوں کو خلاف عورت نے خاوند سے فرقت کو ترجیح دی تو قاضی خاوند کو بائنہ طلاق دینے کا حکم صادر کرے گا، اگر خاوند نے طلاق سے انکار کردیا تو پھر قاضی خود دونوں میں تفریق کردے گا، امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے اصل (مبسوط) میں یُوں ذکر فرمایا، جیسا کہ تبیین میں ہے اھ ملخصاً (ت)
اُسی میں ہے :
لایکون ھذاالتاجیل الاعند قاضی مصر اومدینۃ فان اجلتہ المرأۃ اواجلہ غیر القاضی لایعتبر ذٰلک کذافی فتاوٰی قاضی خاں۔۲؎
یہ مہلت کا حکم قاضیِ شہر کی موجودگی میں دیا جائیگا، اگر خود عورت نے خاوند کو یہ مہلت دی یا کسی غیر قاضی نے دی ہوتو یہ معتبر نہ ہوگی، جیسا کہ فتاوٰی قاضی خاں میں ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۲۴) (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی العنین نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۵۲۳)
اُسی میں ہے :
لاتصح ولایۃ القاضی حتی یجتمع فی المولی شرائط الشہادۃ کذافی الھدایۃ من الاسلام والحریۃ والتکلیف۱؎الخ۔
قاضی کی دی ہُوئی مہلت بھی تب معتبر ہوگی جب اس قاضی میں تقرری کے تمام شرائط موجود ہوں، وہ شہادت والے شرائط ہیں یعنی اسلام، آزاد ہونا اور مکلّف ہونا الخ(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب ادب القاضی الباب الاول فی تفسیر معنی الادب الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۷)
ظاہر ہے صورت مظہرہ سوال میں شوہر کا جنون نَو پیدا تھا کہ بغرضِ ثبوت ہنوز چار ہی مہینے گزرے تھے تو جوز نکاح ثانی وتحصیل فرقت کا یہ طریقہ ہرگز نہ تھا کہ حاکم اسے نکاح ثانی کی اجازت دے دیتا بلکہ اُس پر فرض تھا کہ ثبوتِ کامل کے کر سال بھی کی مہلت دیتا اُس کے بعد کاروائی مذکور کرتا۔ یہاں نہ سال(۱) کی مہلت دی گئی، نہ بعد(۲) مہلت عورت نے دوبارہ دعوٰی کیا، نہ بعد(۳) تخییر عورت نے اُسی جلسہ میں اپنے نفس کر اختیار کرنا ظاہر کیا، طرفہ(۴) یہ کہ حاکم سرے سے مسلمان بھی نہیں، ایسی کاروائی اصلاً قابلِ اعتبار نہیں ہوسکتی، نہ اس کے سبب وُہ زوجیّت شوہر اوّل سے باہر آسکتی ہے، نکاح وطلاق ہم مسلمانوں کے دینی ومذہبی معاملات ہیں جن میں ہماری شریعت تمام احکام کی مراعات بغیر چارہ نہیں، اگر کوئی زنِ شوہر دار کو بے وقوع طلاق وافتراق اجازت نکاح دے دے تو کیا اُسے جائز ہوجائے گا کہ وُہ جس سے چاہے نکاح کرلے، حاشا ہرگز روانہ ہوگا نہ وہ عصمت شوہر سے باہر آئے گی۔یہاں بعینہٖ یہی صورت واقع ہُوئی، طرہ یہ کہ عورت عدت بھی نہ بیٹھی اجازت سے دس۱۰ ہی دن بعد نکاحِ ثانی کرلیا، اس کے حرام ہونے میں کیا شبہہ ہے، ہم ابھی عالمگیری سے نقل کر آئے کہ یہ تفریق بائن ہوتی ہے، اور طلاق میں تین حیض کی عدّت فرض۔
قال اﷲتعالٰی والمطلّقٰت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء۲؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: عدّت والی عورتیں اپنے آپ تین حیض کامل ہونے تک پابند رکھیں(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۸)
بالجملہ یہ دوسرا نکاح بالیقین ناجائز، اور ہمارے سب ائمہ کے نزدیک یہ وہی چیز قانون حال میں ازدواج مکرر کہتے ہیں،اور کوئی سفیہ سافیہ گمان نہیں کرسکتا کہ مرورِ مدّت سے زوجیّت زوجل ہوگئی اور ہوگئی اب شوہر کس بناپر دعوٰی کرسکتا ہے ولاحول ولاقوّۃ الّاباﷲ العلی العظیم،پس عورت پر واجب حتمی ہے کہ اس حرام سے باز آئے اور اپنے شوہر کے سوا دوسرے سے کنارہ کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔