| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۵۵: از رامپور محلہ گھیر یُوسف الدین خاں دیوار جنوبی انگوری باغ متصل مسجد پاکھر مطب نمبر ۳۴ مسئولہ سید مختار احمد یتمٰی ڈاکٹر ۱۷جمادی الاولٰی ایک مرد مسلمان کا پاک عورت مسلمان کے ساتھ عقدِ شرعی ہُوا، لیکن اب منکوحہ سے شوہر مذکورکوئی تعلق ظاہری وباطنی نہیں رکھتا اور ہرطرح منکوحہ سے بے پروا ہے ابتدائے نکاح سے ہنوز کوئی بات تخلیہ شوہریت کا بھی نہیں ہُوا معلوم ہوا کہ شوہر دائرہ مردانیت سے بالکل بعید ہے یعنی نامرد ہے لہذا اس قسم سے یا ایسے نامرد سے منکوحہ نکاح جائز ہے یا ناجائز، اس عورت کو کیا عمل کرنے کی ضرورت ہے، اور موافق حدیث شریف کیا حکم ہے؟ الجواب نکاح صحیح ہوگیا، عورت بےموت یا طلاق جُدانہیں ہوسکتی اگرچہ مردنامرد ہو۔ ہاں چارہ کارحاکمِ شرعی کے یہاں دعوٰی ہے وہ اس ثبوت لینے کے بعد کہ مرد اس پر قادر نہ ہوا، مرد کو ایک سال کی کامل مہلت دے کہ اپنا علاج کرے، اس سال میں عورت مرد سے جُدا نہ رہے اگر سال گزر جائے، اور اب بھی قادر نہ ہو عورت پھر دعوٰی کرے اور حاکم پھر ثبوت لینے کے بعد عورت پُوچھے کہ تُو اپنے اس شوہر کے پاس رہناچاہتی ہے یا اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے،اگر عورت فوراً بلاتاخیر کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا، تو حاکم اُن میں تفریق وجُدائی کردے، یہ تفریق طلاق ہوئی، اور اب بعد عدّت عورت دوسرے سے نکاح کرسکے گی ورنہ نہیں، یہ حکم عورت کی جانب ہے، رہامرد، اُسے حکمِ شریعت ہے کہ جب وُہ عورت کا حق ادا نہیں کرسکتا تو اُس پر فرض ہے کہ عورت کو طلاق دے دے نہ دے گا تو گنہگار ومستحقِ عذاب ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ مسئلہ ۲۵۶:مرسلہ مولوی رحیم بخش صاحب مدرس ساکن شیر کوٹ تاجر الموڑہ ۶ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ یہاں کوہِ الموڑہ پر ایک شخص امان اﷲ نے اپنی دختر کا نکاح سیّد فضل حسین شاہ باشندہ ٹھاکردوارہ سے دیا، رخصت ہوگئی، سال بھر تک عورت اپنے شوہر کے پاس رہی اور ہم بستری ہوئی، پھرباپ کے یہاں آئی، امان اﷲ وسیّد فضل حسین میں کوئی رنجش پیدا ہُوئی، فضل حسین اپنی منکوحہ کوٹھاکردوارہ لے جانا چاہا، امان اﷲنے لے جانے نہ دیا بلکہ قسم قسم کے تنازع ہوگئے یہاں تک کہ نوبت نالش کی آئی۔ امان اﷲ نے جُھوٹا طلاق کا دعوٰی کیا کہ بوجہ ظہوِ دروغ حاکم نے خارج کردیا۔ ثانیاً مقدمہ اجازت فعل مختاری قائم کیاوُہ بھی خارج ہُوا، بعد ازاں سیّد فضل حسین اپنے مکان پر تھا، یہاں کے تھانہ دار سے کچھ مخاصمت تھی تھانہ دار نے عناداً سیّد مذکور کو بریلی کے پاگل خانے میں بھیج دیا، اس اثناء میاں امان اﷲ موقع پاکر بربناءِ پاگل ہونے کے مقدمہ دائر کرکے حاکم سے اجازت نکاح ثانی کی چاہی، حاکم ہندو نے وجہ پاگل ہونے کی قائم کرکے نکاحِ ثانی کی اجازت دے دی، امان اﷲ نے اجازت سے دس۱۰ دن بعد نکاحِ ثانی کردیا جسے اب کئی سال گزرے، جب سیّد فضل حسین رہائی یاب ہُوا تو آکر داد خواہ ہُوا اور مقدمہ دائر کردیا۔ لہذا علمائے دین ومفتیانِ شرع متین سے اس صورت میں استفسار مطلوب ہے کہ نکاحِ ثانی دختر امان اﷲ کا بنائے مجنونیت پر جائزہُوا یا نہیں، اگر ناجائز ہوتو بوجہ مرورِ مدّت چند سال فضل حسین کا دعوٰی ساقط ہُوا یا نہیں؟ بینواتوجروا۔ الجواب صورتِ مستفسرہ میں ہندہ کا یہ نکاح ثانی کہ اس نے زندگیِ شوہر میں بے وقوع طلاق دوسرے شخص سے کرلیا بالاتفاق محض ناجائز مردود ہے اور حاکم کی اجازت باطل ومطرود۔ ہمارے امام مذہب سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ نے جن کے ہم پیروہیں اور اُن کے اعظم اصحاب حضرت امام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کے مذہب پر تو اس بیہودہ نکاح کے عدمِ جوازاور عورت کا اب تک بدوستور زوجیّت شوہر اوّل میں ہونا آفتابِ نیمروز سے زیادہ روشن کہ ہمارے امام کے مذہب میں جنون شوہر کے باعث عورت کو ہرگز کسی وقت تفریق کرانے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، اور یہی مذہب اعظم ارکان مذہب امام ابویوسف کا ہے اور اسی کو بوجوہِ کثیرہ ترجیح حاصل، اسی کو تمام متونِ مذہب مثل کنز و وافی و وقایہ ونقایہ ومختارواصلاح وتنویروملتقی وغیرہا میں اختیار فرمایا، اسی دلیل کو عامہ شروح معتمدہ مثل ہدایہ وکافی وتبیین واختیار وفتح القدیر وغیرہ میں مرجح کیا، اسی پر اکثر فتاوٰی کا اطباق ہُوا، اسی کو امام اجل قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی میں مقدم رکھا اور وُہ اسی قول کو مقدم رکھتے ہیں جو راجح ومعتمد ہو، اسی کو علامہ ابراہیم حلبی نے ملتقی الابحر میں تقدیم دی اور وُہ اسی کو تقدیم دیتے ہیں جو مؤیدہو، اسی کو خانیہ پھر خزانۃ المفتین میں ہمارا مذہب کہا ا مام علامہ فخرالدین زیلعی نے شرح کنزالدقائق پھر امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام نے شرح ہدایہ میں اس عظیم وجلیل تحقیق کے ساتھ ہمارے اس مذہب کی تائید وتوصیف اورقول خلاف کی تضعیف وتزییف فرمائی کہ اصلاً گنجائش کلام باقی نہ رکھی من شاء فلیشرف بمطالعتھما(جو چاہے ان کے مطالعہ مشرف ہو۔ت) او راکثر کتبِ مذہب میں تواس پر ایسا جزمِ قطعی فرمایا کہ قولِ خلاف کا نام تک نہ لیا، میں یہاں صرف چند کتابوں کی عبارتیں نقل کرتا ہُوں، وقایہ (۲) ونقایہ( ۳) تینوں کتابوں میں ہے : لایتخیر احد ھما بعیب الاٰخر۱؎۔ دونوں میں سے کسی کے عیب کی وجہ سے دوسرے کو فسخ کا اختیار نہیں ہے۔(ت)
(۱؎ مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایۃ کتاب الطلاق نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۷۱۔۷۰)
کنز(۴) میں ہے :
لم یتخیر احدھما بعیب۲؎۔
ایک کے عیب کی وجہ سے دُوسرا فسخ کو اختیار نہیں کرسکتا۔(ت)
(۲ ؎ کنز الدقائق باب العنین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۷)
ملتقی الابحر(۵) اور اس کی شرح مجمع الانہر(۶) میں ہے :
لاخیار لھا ان وجدت(المرأۃ) بہ (ای بالزوج) جنوبا۳؎الخ۔
بیوی کو اختیار نہ ہوگا اگر وُہ خاوند میں جنون پائے الخ(ت)
(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب العنین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۶۳)
اختیار شرح مختار(۷)میں ہے :
الحاصل اذا کان باحد الزوجین عیب فلاخیار للاٰخرالّافی الجب والعنۃ والخصی۴؎۔
اگر زوجین میں سے کسی میں عیب ہوتو دوسرے کے اختیار نہ ہوگا مگر جب شوہر مقطوع الذکر یا نامرد یا خصی ہوتو عورت کا اختیار ہوگا۔(ت)
(۴؎ الاختیار لتعلیل المختار فصل فی العیوب التی یثبت بہ الخیار الخ دارفراس للنشر والتوزیع ۳ /۱۱۵)
خزانۃالمفتین(۸) وفتاوی(۹) امام قاضی میں ہے :
حق الفسخ بسبب العیب عندنا لایثبت فی النکاح فلاترد المرأۃ بعیب ما وان وجدت المرأۃ زوجہا جنوبا وجذاماوبرصا لیس لھا حق الفرقۃ،۱؎ملخصاً۔
ہمارے نزدیک عیب کی وجہ سے نکاح کے فسخ کا حق نہ ہوگا، لہذا بیوی کسی عیب کی وجہ سے رَد نہیں کیا جاسکے گا، اور عورت اگر خاوند میں جنون، جذام یابرص کامرض پائے تو اس کو جدائی کا حق نہ ہوگا، ملخصاً۔(ت)
(۱؎ قاضی خاں فصل الخیارات التی تتعلق بالنکاح نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۸۷)
تنویرالابصار (۱۰) اور اس کی شرح درمختار میں ہے :
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاٰخرولو فاحشا کجنون۲؎الخ۔
خاوند او ربیوی سے کسی کے عیب اگرچہ فحش ہو، پر دوسرے کو اختیارِ فسخ نہیں مثلاً جنون الخ(ت)
(۲؎ درمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۴)
فقیر کی اس اجمالی تقریر سے واضح ہوگیا کہ ہمارا یہ مذہب کتنی وجوہِ کثیر سے ترجیح رکھتا ہے : اوّلاً خود یہی کہ وُہ مذہبِ امام ہے اور مذہبِ امام ، امامِ مذاہب جس سے عدول ہرگز جائز نہیں۔ الّالضرورۃ ضعف دلیلہ اوتعامل بخلافہ کما نصواعلیہ وقد او ضحناہ فی فتاوٰنا۔ مگر ضعفِ دلیل یا تعامل کے خلاف ہونے پر، جیسا کہ فقہا نے اس پر تصریح کی ہے جس کی وضاحت ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے۔(ت)
(۳؎ درمختار شرح تنویرالابصار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۲)
ثانیاً یہی امام ابویوسف اعظم ارکان مذہب کا قول ہے، علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بعد ارشاد امام اعظم قول امام ابویوسف مرجح ومقدم ہے۔
درمختار میں ہے :
یأخذالقاضی کا لمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ثم بقول ابی یوسف ثم بقولِ محمد۳؎الخ
قاضی بھی مفتی کی طرح مطلقا ًامام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کے قول کو اپنائے گا، پھر امام ابویوسف پھرامام محمد کے قول کو الخ۔(ت)
ثالثاً اس پر اجماع متون جن کی جلالتِ شان کو کئی کتاب نہیں پہنچ سکتی کما نصو علیہ قاطبۃ وحققناہ فی کتاب النکاح من فتاوٰنا(جیسا کہ تمام فقہاء نے اس پر تصریح کی ہے اورہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی کی کتاب النکاح میں کی ہے۔ت) رابعاً تظافرشروحکہ بتصریح علماء فتاوٰی پر مقدم ہیں و سیاٰتی عن الغمر( غمز سے عنقریب منقول ہوگا۔ت) خامساً اس پر جزم واعتماد کرنے والوں کی کثرت۔ امداد الفتاح وردالمحتار وعقوالدریہ میں ہے: القاعدۃ ان العمل بما علیہ الاکثر۱؎(قاعدہ یہ ہے کہ اکثریت کے قول پر عمل ہوگا۔ت)
(۱؎ العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحادیۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ۲ /۲۵۶)