| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۴۹: ازاعظم گڈھ ڈاکخانہ مبارکپور محلہ پرانی بستی متصل مکان ناظر جی مرسلہ حبیب اﷲ ولدبابو ۱۴جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی کا نابالغی میں نکاح ہُوا اور وُہ بی بی میکے سے اب تک رخصت ہوکرسسرال نہیں گئی عرصہ تین برس کا ہوا کہ شوہر بیمارہوگیا ہے اور برابر علاج بھی ہورہا ہے مگرکوئی دوا فائدہ نہیں کرتی اور نہ کوئی حکیم مرض کا پتا بتائے کہ کون سامرض ہے اب شوہر کی یہ حالت ہے کہ کوئی عضو کام کرنے کے لائق نہیں ہے ہر عضو سے معذور ہے، نہ چل سکتا ہے نہ کھڑاہوسکتا ہے اور پاخانہ پیشاب سے بالکل معذور ہے اور زبان بھی درست نہیں ہے کہ زبان سے کوئی بات صاف نکلے کہ جو کوئی سمجھ سکے بلکہ پاخانہ پھرتا ہے تو دوسرا آبدست لے دیتا ہے یہی حالت آج تین برس سے ہے اور وُہ باولے کی شکل ہوگیا ہے اپنے کپڑے کا کچھ خیال نہیں کرتا ننگا مادر زاد بھی ہوجاتا ہے اپنا خرچ بھی نہیں چلاسکتا اور نہ عورت کاچلاسکتا اورنہ شوہر کے والدین نے اس عورت کے نان نفقہ کا ابھی تک خیال کیا، لڑکی کے والدین عاجز ہوکر کے آپ کے پاس یہ سوال حبیب اﷲ ولد بابو نے روانہ کیا ہے، ان سب حالتوں میں لڑکی کا نکاح فسخ ہوسکتا ہے یا نہیں ؟یہ سب حالت اور واقعہ سچّاتحریر ہے۔ الجواب ان وجوہ سے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا، درمختار میں ہے :
لایتخیراحدالزوجین بعیب الاخرولوفاحشاکجنون وجذام وبرص ورتق وقرن۱؎۔
خاوند بیوی سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناپر فسخ کا اختیار نہیں ہے اگر وہ عیب واضح ہو مثلاً جنون، جذام، برص یاعورت کی شرمگاہ میں تنگی یا اس میں ہڈی یا غدود پیداہوگئی ہو۔(ت)
(۱؎ دُرمختار باب العنین مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۴)
اس میں ہے :
لایفرق بینھما بعجزہ عنھاای عن النفقۃ ولوقضی بہ حنفی لم ینفذ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
خاوند اگر نفقہ دینے سے عاجز ہوتو بھی تفریق جائز نہیں ، اگر حنفی قاضی نے ایسا فیصلہ دیا تو نافذ نہ ہوگا۔(ت)
(۱؎ درمختار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۹)
مسئلہ۲۵۰تا۲۵۴: ازم بمبئی پوسٹ ۹پیرولین مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب مینجر طلسمی پریس ۲۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی شادی ہندہ سے ہوئی ۷سال ہوئے اور اس تمام زمانہ کا خرچہ والدین پر رہا زید کوئی کام کرنا نہیں چاہتا اپنے چھوٹے بھائی کی معمولی آمدنی پر اپنا بار ڈالے ہوئے ہے اسی وجہ سے زید کے والد بھی ناخوش ہیں کہ باوجود ان کے بہت سمجھانے کے بھی کچھ کام نہیں چاہتا، ہندہ کے والد کے انتقال کے بعد زید کو اس کی خوشدامن نے بُلا کر سمجھایا مگر وُہ نہ مانا اور اپنے مکان جاکر یہ خط بھیج دیابعدہ ہندہ کی والدہ نے انتقال کے بعد ہندہ کے ایک رشتہ دار بھائی نے خط کتابت کی اس لئے کہ حقیقی کوئی بھائی بھی نہیں ہے لہذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ مندرجہ ذیل عبارات پر فسخ نکاح یا تفویض طلاق کا حکم ہوسکتا ہے یا نہیں اور بفتوائے امام شافعی رحمۃ اﷲتعالٰی بحالت عدم وصولی نان نفقہ کیا حکم ہے؟بینواتوجروا (۱) خط خوشدامن کے نام، ماسوا اس کے میں تمہارا کوئی مزاحم نہیں اور نہ میں تمہارے کسی کام میں دخل دے سکتا ہُوں مجھے تمہاری خیریت اور خبر کی ضرورت نہیں ہے صرف اپنی لونڈیا کی وجہ سے خط بھیجتا ہوں تمہارے ہر کام کا تم کو اختیار ہے ہم کوئی نہیں ہیں کیوں دخل دیں گے جو تمہارے لوگوں کے مزاج میں آوے وہ کرو، بعد انتقال والدین عمرورشتہ کے بھائی نے خط بھیجا کہ اب تو خبرگیری کرواب نہایت نازک وقت ہے، اس کا جواب ذیل ہے۔ (۲) ذرا قرآن اور حدیث کو سامنے رکھئے اور پھر تصفیہ کیجئے گا کہ مرد پر کون سی عورت کا حق ہے اور کس وجوہات سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے بہت معاملات اور عادات ایسے کہ اگر مرد ان عادات کو عورت کی گوارہ کرے تو جہنمی ہوجائے وہ میری نیک بخت بیوی میں سب موجود ہیں، بعدہ یہ لکھنے پر کہ خبر گیری کرو اور خبرگیری اپنے ذمّہ واجب نہیں سمجھتے تو صاف صاف علیحدگی کے الفاظ لکھ دو اگر کوئی صورت بھی منظور کرتے ہوتو میں یہ رعایت کروں گا کہ بحالت یکجائی اب تک کے حقوق ہند ہ سے معاف کرادوں گا اور بحالت علیحدگی مہر بھی، تاکہ عنداﷲ بھی آپ ماخوذ نہ ہیں۔ (۳) جواب: آپ کا تو اب یہ خیال ہے جناب قبلہ خواشد امن صاحبہ نے بعد انتقال خسر صاحب مجھ کو یہاں سے بُلایا اور مُجھ سے بجائے اسکے ککہ وُہ رکھنے پر مجبور کرتیں یہ کہا کہ تم طلاق دیدو تو بہتر ہے میں خاموش ہورہا اگرمیں طرح نہ دے دیتا تو جب ہی معاملہ طے تھا مگر مجھے خالوتوں سے واقفیت ہوگئی اور میں نے پھر وہاں رہ کر انتظار کیاکہ شاید مزاج عالی درست ہوجائے مگر ماشاء اﷲاُس مزاج مبارک نے وہ عروج حاصل کیا کہ ہمیشہ سے چہار چند سوار نگرد کھلایااور خیر مجھے شکایت نہیں ہے میں ایسے نافرمان متکبر لوگوں کی صحبت میں کبھی رہنا پسندنہیں کرتا اس واسطے کہ میں خود بدطینت ہُوں اس وجہ سے بہتر ہے کہ وُہ بھی آزادانہ زندگی بسرکریں میری بھی یہی رائے ہے لیکن یہ لکھ دیجئے کہ زہرہ کا کیا حشر ہوگا یہ فیصلہ آپ کے سر ہے جو آپ کردیں اگر زہرہ کو بھی دے دیں تو آپ کو مرضی، میں تیار ہوں، اگر آپ نہ دیں تو بھی راضی ہوں، بہر حال جو تصفیہ آپ کریں اس خط کے جواب پر آپ جو چاہیں گے میں لکھ دُوں گا (بعدہ، دوسرا خط آیا) (۴) برائے کرم جواب سے خط ہذا کے مطلع فرمائیے تاکہ جو رائے ہو اس پر عمل در آمد کیا جائے، اس پر عمرو کے یہ کہنے پر کہ زہرہ ابھی صغیر سَن ہے اور تم لوگوں کی صورت سے ناآشنا ایسی حالت میں اس کو علیحدہ کرنا گویا زندہ درگور کرنا ہے، لہذا یہ معاملہ آئندہ پر رکھو اور اپنی علیحدگی کی تحریر دوچار دستخط کرکے بھیج دو تمہارے اطمینان کو یہ لکھے دیتے ہیں کو ہندہ کے تمام حقوق بشرطیکہ تم اپنی تحریر ایسی بھیجد ومعاف ہیں (اس کو جواب یہ آیا) (۵) میں یہ نہیں چاہتا کہ فی الحال، زہرہ آپ لوگوں سے علیحدگی کی جائے کیونکہ ابھی وُہ صغیرہ ہے جب تک وہ ہوشیار نہ ہوجائے تب تک میں اس کو وہاں رکھنا پسند رکتا ہوں جس وقت وہ مجھ تک نہ آجائیگی جب تک یہ امر دشوار ہے، فقط۔ الجواب پہلا خط خوشدامن کے نام ہے اُس میںنہ زوجہ سے خطاب نہ اس کا ذکر۔ اگر خود زوجہ سے کہتا تم کو اختیار ہے اور تفویضِ طلاق چاہتا تو اختیار بھی اُسی مجلس پر موقوف رہتا نہ کہ اب تک مستمر۔
درمختارمیں ہے :
قال لہا اختاری اوامرک بیدک ینوی تفویض الطلاق فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ مالم تقم او تعمل مایقطعہ۔۱؎
خاوند نے بیوی کو کہا تجھے اختیار ہ، یا ترا معاملہ تیرے ہاتھ میںہے۔ اور یہ الفاظ بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کی نیت سے کہے تو بیوی کو اسی مجلس میں جس میں اس کو اس اختیار کے ملنے کی اطلاع ملی اپنے کو طلاق دینے کا اختیار ہوگا بشرطیکہ وہ سُن کر وہاں سے اٹھ نہ گئی ہو یا ایسا عمل نہ کیا ہو جس سے اس کا اختیار باطل ہوتا ہو۔(ت)
(۱؎ درمختار ۤتفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۶)
اور ''اگر ہم کوئی نہیں'' کی جگہ خود زوجہ سے کہتا ''نہ تُومیری زو جہ میں نہ میں تیرا شوہر'' جب بھی طلاق صاحبین کے نزدیک مطلقاًنہ ہوتی،
وفی جواہر الاخلاطی والخلاصۃ وخزانۃ المفتین ھوالمختار وان نوی۱؎۔
جواہر اخلاطی، خلاصہ، خزانۃ المفتین میں ہے کہ اگرچہ نیت کی ہو یہی مختار قول ہے(ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطلاق مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ /۹۷)
اور امام کے نزدیک کی نیت پر موقوف رہتی، قدمہ فی الخانیۃ واقتصر علیہ فی البدائع والکنز والملتقی وکان ھوالاوجہ۔ خانیہ میں اس کو پہلے ذکر کیا۔ بدائع اور کنز اور ملتقٰی میں اسی پر اکتفاء کیا، لہذا یہی راجح ہے(ت)
درمختار میں ہے :
لست لک بزوج ولست لی بامرأۃ طلاق ان نواہ خلافا لھما۲؎۔(ملخصاً)
خاوند نے اگر بیوی کو کہا''میں تیرا خاوند نہیں تُومیری بیوی نہیں'' طلاق کی نیت سے کہا تو ہوگی۔اس میں صاحبین کا قول مخالف ہے(ملخصاً)۔(ت)
(۲؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۲)
ردالمحتار میں ہے :
قید بالنیۃ لانہ لایقع بدونھا اتفاقا لکونہ من الکنایات واشار الی انہ لایقوم مقامھا دلالۃ الحال لان ذٰلک فیما یصلح جوابا فقط وھو الفاظ لیس ھذا منھا۳؎۔
نیّت سے مقید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر نیت طلاق نہ ہوگی بالاتفاق، کیونکہ یہ کنایات میں سے ہے۔ اس میں یہ اشارہ دیا کہ دلالتِ حال نیت کے قائم مقام نہیں بن سکتا کیونکہ دلالتِ حال وہاں معتبر ہوتاہے جہاں وہ فقط جواب بن سکے اور وُہ خاص الفاظ ہیں یہ ان میں سے نہیں ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الصریح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۵۳)
خط دوم میں یہ پوچھا ہے کہ کن وجوہ سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے اسے انشائے طلاق سے کُچھ علاقہ نہیں اگرچہ اس کے د ل میں یہی کہ ہندہ میں بعض وجوہ ایسی ہوئیں جن کے سبب وہ نکاح سے باہرہوگئی کہ طلاق لفظ سے ہوئی ہے دل کا تصور کچھ نہیں، اسی خط میں اس میں اس نے کہا ہے کہ میری بی بی الخ خط سوم میں فیصلہ دوسرے کے سر رکھا ہے اور یہ کہ جو آپ چاہیں گے میں لکھ دوں گا، یہ ایک وعدہ ہے اور وہ ایک رائے ہے کہ بہتر ہے کہ وُہ بھی آزادانہ ذندگی بسر کریں یہ کہ اُسے آزاد کیا۔ خط چہارم میں طلب مشورہ ہے۔ خط پنجم میں جب تک زہرہ نہ مل جائے طلاق دینے سے انکار ہے۔ غرض ان خطوط میں کوئی حرف صورتِ طلاق کانہیں چارہئ کار معززین کے دباؤ خواہ نالش سے مجبور کرتا ہے کہ نان نفقہ دے یا طلاق، بغیر اس کے کوئی صورتِ خالص نہیں۔ امام شافعی رضی اﷲتعالٰی عنہ بھی نفقہ نہ دےنے پر تفریق نہیں کراتے بلکہ عاجز محتاج ہونے پر جوادائے نفقہ پر قادر نہ ہو اوراگر ہو بھی تو حنفی کو اپنے امام کا اتباع واجب ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔