Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
106 - 155
مسئلہ ۲۴۷: ازموضع گھورنی ڈاک خانہ کرشن گڑھ ضلع ندیا ۳جمادی الاولٰی  ۱۳۳۶ھ 

فسخ نکاح بہروجہیکہ بود بلا تفرقہ قاضی شرع وبشرط بنودن قاضی شرع بلا حکم حاکم وقت میتواند شدیانہ، ودریں  بلادِما کہ قاضی  شرع عدیم الوجودست حکم حاکم غیر مسلم مناسب تفرقہ قاضی میواند شد یا نہ بتقدیر جواز نیابت اذن اولا بدیست یانہ؟

نکاح کا فسخ جیسے بھی ہو، قاضی کو تفریق کے بغیر اور قاضیِ شرع نہ ہونے کی وجہ سے وقت کے حاکم کے بغیر ہوسکے گا یانہیں ،اور ہمارے ملک میں  شرعی قاضی موجود نہیں  تو کیا غیر مسلم حکمران قاضی کے قائم مقام ہوکر نکاح کو فسخ کرسکتے ہیں  یانہیں اور اگر یہ فسخ کرسکتے ہیں  تو کیانیابت کیلئے ان کو اجازت حاصل کرنا ضروری ہے یانہیں ؟ (ت)
الجواب

فسخ نکاح بردوگونہ است یکے آنکہ حقا للشرع باشد مقارن ہمچونکاح زنے برخواہرش یا اصول وفروع ممسوسہ یا آنکہ حرمت رضاعت داشتہ باشدالٰی غیرذٰلکخواہ طاری چوں  آنکہ رضاع یا مصاہرت بعد نکاح حرمت آرد یا شوہر مرتد شود والعیاذباﷲ تعالٰی درہمچوصور ہیچ حاجت قضانیست برہریک زن وشوہر واجب ست فسخ کردنش اعظا ماللشریعۃ واعد اما للمعصیۃ نص علیہ فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار،
نکاح کا فسخ دو۲قسم ہے، ایک شرع کی پاسداری کےلئے، اور یہ شرعی حق کوابتداء سے عارض ہو، جیسے بیوی کی موجودگی میں  اس کی بہن سے نکاح، یا بیوی کے اصول(ماں ،دادی) وغیرہ یا فروع(بیوی کی پہلی بیٹی) کو شہوت سے چُھواہو، یابیوی رضاعت کی وجہ سے حرام ہو وغیرہ ذالک، یا شرعی حق نکاح کے بعد لاحق ہُوا، مثلاً رضاعت یا مصاہرت کی حرمت نکاح کے بعد عارض ہوئی ہو یا والعیاذباﷲتعالٰی ، خاوند مرتد ہوگیا ہو تو ان تمام صورتوں  میں فسخ نکاح کےلئے قاضی کی کوئی ضرورت نہیں ، بلکہ مرد وعورت دونوں  پر لازم ہے کہ وُہ فسخ قرار دے کر جدائی اختیار کریں  تاکہ شریعت کی تعظیم اور گناہ سے اجتناب کیا جاسکے، اس پردرمختار وغیرہ معتبر کتب میں تصریح کی گئی ہے،
دوم آنکہ برائے حق زن باشد چوں  خیار بلوغ وعنین وغیرہما  اینجا قضائے قاضی شرط ست تنہا زن یاولی اوباد مستبد تنواں  شد اگر ولی بے تفریق قاضی جُدا کردہ بزنے دیگر دہد حرام باشد زیرا کہ حق زوج باد متعلق ست وشرع حکم بتفریق نہ فرمودہ است واصل ایں  منصب شرع مطہرر است کہ کار کارِدین ست پس ایں  تفریق نہ رسد مگر قاضی راکہ نائب شرع مطہر است چنانکہ امامت درنماز حق حکام ست فاما شرط اسلام ست، واﷲتعالٰی  اعلم۔
فسخ کی دوسری قسم یہ ہے کہ بیوی کے حق کی وجہ سے فسخ کیاجائے مثلاً بیوی کوبالغ ہونے پر فسخ کا اختیار حاصل ہو یا خاوند نامرد ہو وغیرہ،تو اس قسم میں  فسخ کے لئے قاضی شرط ہے، بیوی یا اس کے ولی کو مستقل اختیار نہیں  کہ وُہ قاضی کے بغیر جُدائی کا فیصلہ کریں ، اگر اس صورت میں ولی نے قاضی کے بغیر ہ عورت کا دوسرے سے نکاح کردیاتو یہ نکاح حرام ہوگاکیونکہ ابھی پہلےخاوند کا حق اس عورت پر باقی ہے، اور شرعاً یہ تفریق نہ ہوگی کیونکہ یہ دینی معاملہ ہے جس میں شرع کو ہی حق ہے، لہذا یہ کاروائی قاضی کے بغیر نہ ہو سکے گی۔کیونکہ وہی شرع کا نائب ہے، جیسا کہ نماز میں  حقِ امامت حاکم کو ہی حاصل ہے، ہاں  مسلمان ہونا شرط ہے۔واﷲتعالٰی  اعلم(ت)
مسئلہ ۲۴۸: سائل مذکوررالصد(سائل وہی پہلے مذکور ہے۔ت)

زنے راکہ شوہرش دیوانہ شدہ از سہ چہار سال بہسپتال مقید گردیدہ است میرسد کہ بلا تفرقہ قاضی شرعی یا بلاحکمِ حاکم فسخِ نکاح خودکند یا نہ و بلا انقضائے عدّت فسخ بادیگرے نکاح خود میتواند کردیانہ یا ولی اورا میرسد کہ بطلب اویا بلاطلب او تفریق را وبلا تفرقہ قاضی محج بجہت مجنون شدن شوہر نکاح اوبدیگرے کردہ بدہد یانہ وبوقتِ ضرورت مثلاً خوفِ زناواحتیاجِ نفقہ وغیرہ عمل بمذہب دیگر یا بقول غیر مفتی بہ از اقوال کے از ائمہ حنفیہ روا باشد یا نہ وبشرطِ جواز قول کسے دربارہ جواز فسخ نکاح آں  مجنون الزوج رابلا تفرقہ قاضی ہست یا نہ، ودرصورت عدم فسخ نکاح حکم ناکح ومنکوحہ ومنکح چیست۔

جس عورت کاخاوند دیوانہ ہونے کی وجہ سے تین چار سال ہسپتال میں  پابند ہے ایسی عورت کو یہ اختیار ہے کہ وُہ قاضی کی تفریق کے بغیر یا حکمِ حاکم کے بغیرنکاح فسخ کرلے یانہیں ؟اور فسخ کی عدت پوری کئے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں ؟ یا کیا اس کے ولی کو یہ اختیار ہے عورت کے مطالبہ پر یابغیر مطالبہ خود ہی قاضی تفریق کے بغیر صرف خاوند کے مجنون ہونے کی بناپر دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح کردے یانہ ؟ اور کیا بوقت ضرورت مثلاً زنا یا نفقہ کی محتاجی کے خطرہ پر غیرمفتٰی  بہ قول کے مطابق حنفی مذہب کے علاوہ دوسرے کسی مذہب پر عمل جائز ہوگا یانہیں ؟ اگرجائز ہے تو دوسرے کسی امام کے مذہب پر خاوند کے مجنون ہونے پر قاضی کے بغیر فسخِ نکاح کا اختیار ہے یانہیں ؟قاضی کے فسخ کے بغیر عدمِ جواز کی صورت میں  نکاح کرانے والے اور نکاح کرنے والے مرد اور عورت کا کیا حکم ہے؟
الجواب

شوہراگرمجنون گردد نزد ماہیچ گاہ فسخِ نکاح نتواں  شد واگرقاضی شرع مقلد حنفی حکم بفسخ کند نیز باطل ست اذلیس للمقدان یخالف مذہبہ درصحیح القدوری علامہ قاسم باز ودرمختار ست الحکم والفتیابالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع۱؎(ومجتہد خود از صدہا سال مفقود است، آرے اگر قاضی شرعی شافعی المذہب باشد یاحنفی مگر سلطان کہ اورا برقضاداشتہ است اذن دادہ باشد مثلاً ہنگام ضرورت بقول مرجوح فی المذہب یا بمذہب دیگر قضاکنی آں  گاہ قضائے اوصحیح ونافذ باشد وپیداست کہ ایں  تفریق اگر باشد بخاطر جااگر بے تفریق قاضی شرع ولی بزنے دیگر دہد یازن خودش بدگرے نکاح کند زنہار جائز نیست ناکح ومنکوحہ ہردوبزہ کار ومنکح نیز اگربریں  حال مطلع باشد بوقتِ ضرورت اگر صادقہ باشد عمل بقول مرجوح یا مذہب امام دیگر درآں  خاص مسئلہ مبتلابرائے نفس خودش عمل میتواں  کرد فامامفتی رانمی رسد کہ باوفتوی دہدیاقاضی مقلد مقید بالقضابالمذہب باوحکم تواں  کرد واگر کند باطل شدکما قد مناوکل ذلک مصرح بہ فی الکتب المعتمدۃ وآنکہ برائے نفس خودش باوعمل کند واجب ست کہ جملہ شرائط آں  قول مرعی دارد مثلاً قول امام محمد در تفریق زن مجنون شرط تفریق قاضی کہ بے روبراں  قول مرجوح ہم عمل بناشد بلکہ بہوائے نفس والعیاذ باﷲتعالٰی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
خاوند اگر مجنون ہوجائے تو کسی طرح بھی ہمارے مذہب حنفی میں نکاح کا فسخ جائز نہیں  ہے۔ اگر قاضی حنفی مذہب کامقلد ہوتو اگر وُہ فسخ کرے گا تو اس کا فسخ باطل ہوگا کیونکہ مقلد اپنے مذہب کی مخالفت نہیں  کرسکتا، قدوری کی تصحیح میں  علامہ قاسم نے اور پھر درمختار میں  فرمایا کہ فتوٰی  اور فیصلہ قولِ مرجوح پر جہالت ہے اور اجماع کےخلاف ہے، اور مستقل مجتہدصدیوں  سے مفقود ہے، ہاں  اگر شافعی یا حنفی قاضی کو سلطان نے عہدہ پر مقرر کرتے ہوئے یہ اجازت دی ہو کہ وُہ ضرورت کی بنا پراپنے مذہب کے مرجوح قول یا دوسرے مذہب پر فیصلہ کرسکتا ہے تو اس قاضی کافیصلہ صحیح ہوگا اور نافذ بھی ہوگا۔اور یہ واضح ہے کہ اگر یہ تفریق ہوگی توعورت کی خاطر ہوگی، شریعت کے حق کے لئے نہ ہوگی جبکہ ہم اُوپر بیان کرچکے ہیں  کہ ایسی صورت میں  اگر ولی نے یاخود عورت نے قاضی کی تفریق کے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کیا تو ہر گز جائز نہ ہوگا، نکاح کے دونوں  فریق اور نکاح کرکے دینے والے زناکاری میں مبتلا ہوں  گے بشرطیکہ نکاح پڑھانے والے کو صورتِ حال کا علم ہو، ضرورت اگر صحیح اور واقعی ہوتو پھر مرجوح قول یا دوسرے مذہب پر مبتلا شخص کو چاہئے کہ وُہ خود عمل کرے لیکن مفتی ہرگز فتوٰی  نہیں  دے سکتا، اور وُہ قاضی بھی جو اپنے مذہب کے مطابق فیصلے کرنے کا پابند ہو، وہ بھی ایسا فیصلہ نہیں  کرسکتا اگر فیصلہ کرے گا تووُہ بھی باطل ہوگا جیسا کہ ہم پہلے بیان کرآئے ہیں  اور قابل اعتمادکُتب میں اس کی تصریح موجود ہے، اور اگر مبتلا شخص خود دوسرے مذہب یامرجوح قول پر عمل کرے تو ضروری ہے کہ وہ ان تمام شرائط کی رعایت کرے، مثلاً امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی  نے مجنون کی بیوی کے متعلق تفریق کے جواز کو قاضی سے مشروط کیا ہے اس کے بغیر مرجوح قول پر بھی تفریق جائز نہ ہوگی بلکہ یہ نفسانی خواہش کی پیروی ہوگی۔ والعیاذ باﷲتعالٰی ۔ واﷲتعالٰی  اعلم۔
 (۱؎ درمختار     مقدمہ کتاب رسم المفتی    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۵)
Flag Counter