| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۴۵: ازبلرامپورمحلہ پورنیا تالاب ضلع گونڈہ مرسلہ تیغ بہادر خاں ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت ہندہ نے اپنے شوہر زید پر بحالتِ نزاع کچہری دیوانی میں دعوٰی طلاق دائرکیا۔ شہادت وغیرہ پیش کرکے عورت نے اپنی طلاق کی ڈگری حاصل کرلی اب یہ عورت ازرُوئے شرع شریف دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں ، اور اگر بعد طلاق حاصل کردو شوہر اوّل اس سے بعد چار پانچ ماہ کے رجعت کرے تو جائز ہے یا نہیں ؟بینواتوجروا الجواب اگرواقع میں زید نے طلاق دی تھی اور ہندہ نے سچّا دعوٰی رکے ڈگری لی تو اگر طلاق بائن تھی تو بعد عدّت مطلقا اور اگر رجعی تھی تو اس شرط پر کہ زید نے عدّت میں رجعت نہ کی ہو نکاح کرسکتی ہ، اور اگر زید نے واقع میں طلاق نہ دی تھی ہندہ نے جُھوٹے گواہ پیش کرکے ڈگری لے لی یا طلاق وجعی دی تھی اور ختم عدّت سے پہلے زید نے رجعت کرلی تو ہندہ کو دُوسری جگہ نکاح حرام قطعی ہےاگر کرے گی زناہوگاقال اﷲتعالٰی والمحصنٰت من النساء۱؎(اﷲتعالٰی نے فرمایا: اور منکوحہ عورتیں حرام ہیں ۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۲۴ )
حیض والی عورت کی عدّت تین حیض ہیں جو طلاق کے بعدشروع ہوکر ختم ہوں ،
والمطلّقت یتربصن ثلثۃ قروء۲؎۔
طلاق دی ہوئی عورت اپنے آپ کو تین حیض تک پابند کریں (ت)
( ۲؎القرآن الکریم ۲ /۲۲۸)
اگر اس چار پانچ مہینے یں تین حیض شروع ہوکر ختم نہ ہوئے ہوں تو شوہر رجعت کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ مسئلہ ۲۴۶: ازبریلی محلہ بہاری پور مرسلہ غلام مرتضٰی صاحب ۱۶شعبان ۱۳۲۶ھ ہندہ صالحہ ہے اور اس کا شوہر فاسق فاجر موذی معلن سود خوار ہ اور شرابی وعیاش ہے، ہندہ کو مار پیٹ کرتا تھا بلکہ چاقو چھری سے آمادہ رہتا تھا اور ایک بار چاقُو مارا کہ جس سے گھائی دہنے ہاتھ کی کٹ گئی، دوسری مرتبہ ایک چاقو مارا جس بائی ہاتھ کی کلائی میں زخم پہنچا جس کے ہر نشان اب تک موجود ہیں ، اکثر عورت کو شراب پینے پر بحالت نشہ مجبورکرتا تھا، چنانچہ ایک بار اس کے جبر پر ہندہ نے شراب سے نفرت ظاہر کی تو اس کے وہی گلاس ماراجس سے اس کو چوٹ لگ گئی اور آنکھوں میں شراچ پڑی جس سے آنکھیں دکھ آئیں اور عرصہ تک تکلیف رہی اور شخص مذکورتعلق ناجائز کئی عورتیں سے رکھتا تھا ان میں سے ایک عورت سے نکاح کرلیاتھا چند روز بعد اُسے مارپیٹ کر نکال دیا شوہر کی ان حرکاتِ ناشائستہ سے ہندہ نہایت پریشان رہتی تھی ار ان بدچلن عورتوں کو اکثر گھر میں رکھتاتھا آخر کارمجبوراً ہندہ کے والدین نے عرصہ سات۴ سال کا ہُوابٹھالیا اس مدّت میں شوہر ہندہ نے نان ونفقہ کی کُچھ خبر نہ لی اور بدچلنی اس کی اب تک برابر اسی روش پر ہے عرصہ ڈھائی سال کے قریب ہُوا کہ ایک عورت اور کرلی ہے اسی دوران میں شوہر نے نالش دلاپانے زوجہ کے دائر کی کہ وُہ بوجہ ثبوت بدچلنی کے خارج ہوگئی پر شوہر نے اپیل بھی کی وُہ بھی خارج ہوگئی ہندہ کی یہ خواہش ہرگز نہیں ہے کہ میں اس موذی کے گھر جاؤں کیونکہ علاوہ دیگر تکالیف کے اب اندیشہ ئجان بھی غالب ہے اس لئے کہ نالش مذکور خارج ہوجانے سے مخالفت باہمی بہت کچھ بڑھ گئی ہے پس اس صُورت میں علمائے دین سے استفسار ہے کہ شوہر سے طلاق یا دست برداری ہوسکتی ہے یانہیں ، اور شرعاً فسخ نکاح بھی رسکتا ہے یانہیں ؟ الجواب صُورتِ مستفسرہ میں عورت پر ہرگز جبرنہ ہوگا کہ شوہر کے یہاں جائے کہ اس میں دینی دُنیوی وجانی وجسمانی اُس کا ہر طرح کا ضررہے، جان جانے کا اندیشہ باقی وموجود اور ضرر شرعاً واجب الدفع ہے اﷲعزوجل فرماتا ہے :
ولاتضاروھن۱؎
عورتوں کوضرر نہ پہنچاؤ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶۵/۶)
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاضرر ولاضرارفی السلام۲؎۔
اسلام میں نہ ضرر ہے نہ کسی کو ضرر دینا۔
(۲؎ معجم اوسط حدیث ۵۱۸۹ مکتبۃ المعارف الریاض ۶ /۹۱)
پس اگر کچھ لوگ صالحین واہلِ دین میسر ہوسکتے جن کی حمایت میں عورت کا رہنا شرعاً بھی جائز ہو اور وہ اس کی نگہداشت کافی طور پر کرسکیں اور شوہر کو اس کے دین جسم وجاں پر تعدّی نہ کرنے دیں جب تو عورت وہاں اپنے آپ کو سپردِ شوہر کرتی کہ اس میں دونوں کے حق مراعات رہتے۔
ردالمحتار میں ہے:
فی البحر لوقالت انہ بضربنی ویوذینی فمرو ان یسکننی بین قوم صالحین فان علم القاضی ذٰلک زجرہ ومنعہ عن التعدی فی حقھا والایسأل عن صنیعہ فان صدقوھا منعہ عن التعدی فی حقھا ولایترکھا ثمہ وان لم یکن فی جوارھا من یوثق بہ او کانوا یمیلون الی الزوج امرہ باسکانھا بین قوم صالحین۱؎۔
بحر میں ہے اگر بیوی نے قاضی کو درخواست دی کہ خاوند مجھے مارتا اور اذیّت دیتا ہے تو اس حکم دیجئے کہ مجھے نیک لوگوں میں سکونت دے، اگر قاضی خود اس معاملہ سے آگاہ ہوتو خاوند کو ڈانٹے اور مارنے اور زیادتی سے منع کرے، ورنہ پڑوسیوں سے خاوند کے رویے کے متعلق معلوم کرے اگر وہ بیوی کی تصدیق کریں تو قاضی خاوند کو زیادتی سے منع کرے ورنہ اسی مسکن میں رہنے دے، او اگر اس کے پڑوس میں کوئی ثقہ آدمی نہ ہو یا پڑوسی خاوند کی طرفداری کریں تو خاوند کو پابند کرے کہ وہ بیوی کو نیک لوگوں میں رہائش دے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۶۴)
مگر غیر لوگوں سے اس زمانے میں نہ ایسی اُمید نہ ایسے لوگو ملیں گے پر نان نفقہ لازم کای جائے لانھا لیست بناشزۃ لان امتناعھا بحق(کیونکہ وُہ نافرمان نہیں کیونک اپنے حق کےلئے وُہ خاوند کو جماع سے روکتی ہے۔ت) پھر اگر اُس کے ساتھ خولت میں اندیشہ ہوتو اس سے منع کریں اور یہی صورت معتبر ہے، اور اگر اب اندیشہ صحیحہ ہواور بندوبست کافی کی اُمید نہ ہو اور فی الواقع شرابی کا بندوبست ناممکن سا ہے تو حاکم شوہر پر جبر کرے کہ عورت کوطلاق دے۔ اﷲتعالٰی فرماتا ہے :
فامسکوھن بمعروف اوسرحوھن بمعروف۔۲؎
ان کو پاس روکے رکھو بھلائی کے ساتھ، یا ان کو فارغ کردو بھلائی کے ساتھ۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۱)
عورتوں کو تو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو، جب اچھی طرح رکھنا نہیں تو اچھی طرح چھوڑنا اس پر واجب ہُوا اور ترکِ واجب گناہ ہے اس گناہ پر حاکم سزادے سکتا ہے،
کمافی البحر والدروغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھا فیھاالتعزیر۳؎۔
جیسا کہ بحر میں ہے کہ وُہ گناہ جس پر حد نہ ہو اس پرتعزیر ہوتی ہے۔(ت) بغیر اس کے بطور خود فسخ نکاح کی صورت ہمارے یہاں مذہب میں نہیں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳ ؎ درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۷)