| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۴۲: ازکٹگھر مرسلہ شیخ احمد بخش ۵رمضان المبارک ۱۳۲۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ ساتھ بکر کے تیرہ۱۳ ہوئے جب بطور زوجہ اور شوہر بہ تعین مہرصہ عہ ہزار روپے اور دس۱۰دینار سُرخ کے اس کے مکان میں رہی آٹھ برس تک برابر رہی ہندہ کے جانے سے مکان میں بکر کے دو۲ برس کے بعدبکر کو بیماری جذام کی شروع ہوئی جب چھ۶ برس تک ہندہ سے اور بکر سے صحبت مثل زن وشوہر کے نہیں ہوئی اسکے بعد آٹھ برس کے ہندہ کو بکر نے اپنے گھر سے نکال دیا ہندہ اپنی گزرِ اوقات جس طرح ممکن ہُواکرتی رہی مکان سے نکال دینے سے چھ۶ماہ بعد ہندہ پر بکر نے دعوٰی فراری فوجداری میں دائر کیا اس میں ہندہ نے زوجیت سے انکار کیا اور بکر نے بجائے صہ عہ ہزار روپے سَوروپے کے مہر کا اقرار کیا کچہری فوجداری نے زوجہ ہونا قائم رکھا بعد اُس کے سال بھر بعد دلاپانے زوجہ کا دعوٰی دیوانی میں دائر کیا اس وقت حسبِ تصفیہ باہمی یہ طے ہُوا کہ ہندہ جہاں چاہے رہے اس عرصہ پانچ برس نان نفقہ نہیں دیتا ہے اور عرصہ تیرہ برس سے بوجہ بیماری صحبت نہیں ہوئی او ر بکر نے واقعی مہر سے انکار کیا اور نان نفقہ نہیں دیتاہے اور قابل صحبت نہیں ہے تو ایسی صورت میں کیا چارہ ہندہ کے واسطے ہونا چاہئے ہندہ خُلایاطلاق پاسکتی ہے یاکیا ہندہ نان نفقہ اور کرایہ مکان پاسکتی ہے یانہیں کیونکہ بکر اپنی زوجہ کے ساتھ معہ اپنی دختر کے ایک کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں اور ہندہ علیحدہ ایک مکان میں بکر کے مکان سے بفاصلہ ایک جریب کرایہ پر رہتی ہے۔بینواتوجروا الجواب بکر پر نان ونفقہ ومسکنِ ہندہ کا انتظام لازم ہے جبکہ ہندہ اپنے آپ کو اس کی قید میں رکھے،آوارہ گردکانان نفقہ نہیں ہوتا، اگر ہندہ اپنی جانب سے کوئی بات سقط نان ونفقہ نہ کرے اور بکر پھر بھی نفقہ نہ دے تو حاکم بکر کو مجبور کرے کہ نفقہ دے ورنہ طلاق دے، یا بکر راضی ہوتو ہندہ اس سے مہر وغیرہ مال پر خُلع کرلے بغیر اس کے جب تک بکر زندہ ہے اگر چہ بیمار ہے ناقابلِ صحبت ہوگیا ہندہ خود مختار نہیں ہوسکتی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳: ازسنگ پور مرسلہ ابراہیم صاحب کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک شخص بعارضہ جذام مبتلا ہوکر بستی سے نکل گیا مگر اپنی زوجہ کو باوجود علیحدگی بھی طلاق نہں دیتا، عورت مذکورازحدخواہشِ نکاح رکھتی ہے، دیگر ایک شخص مسمی رستم نے اسی عورت مندرجہ بالا سے زنا کیا جس کا مقرہے زیادہ ثبوت کا حاجت نہیں ، بردرانِ اسلام نے اس جُرم پر اس کا حقّہ پانی سلام وکلام ترک کردیا ہے اب وُہ نادم اور توبہ کار ہے لہذااس کو ملانا چاہتے تو آیا وُہ اس طریقہ سے شامل برادرن اسلام ہوسکتا ہے؟فقط والسّلام۔ الجواب اگروُہ شخص عورت سے صحبت کرسکتا ہے اور اس کے ادائے حق پر قادر ہے تو اس پر واجب نہیں کہ عورت کو طلاق دے اور عورت اس سے جدائی نہیں کرسکتی،اور اگر اُس کاحق ادا کرنے پر قادر نہیں تو اس پر واجب ہے کہ عورت کو طلاق دے دے، اگرنہ دے گا گنہگار ہوگا، اس صورت میں کہ صورت اس پر واجب ہو اور نہ دی، اگر جبراً اس سے طلاق لے لی جائے تو ہوجائے گی۔ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : لیس منّا من خبب امرأۃ علی زوجھا۱؎۔ رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ہریرۃ والطبرانی فی الصغیر ونحوہ فی الاوسط عن ابن عمر وفی الاوسط کابی یعلی بسند صحیح عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ ہمارے گروہ سے نہیں جس کسی کی عورت کو اس سے بگاڑدے(اس کو ابوداؤد اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ ابُوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے، اور طبرانی نے صغیر میں اور ایسے ہی اوسط میں عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما اور اوسط میں ابویعلی کی طرح ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ سُنن ابوداؤد کتاب الطلاق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۶) (المستدرک للحاکم باب لیس منّا من جب امرأۃ علٰی زوجہا الخ دارالفکربیروت ۲ /۱۹۶)
مسئلہ۲۴۴: ازبلرام پور ضلع گونڈہ متصل یتیم خانہ مرسلہ نذرمحمد صاحب ۱۳ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے پیر سالگی میں ہندہ نوجوان سے نکاح کیا بعد چند روز کے ہندہ اور زید میں طرح طرح کی مخالفتیں واقع ہُوئیں اور بوجہ بدکرداری زید کے ہندہ نے زید سے طلاق مانگا اس شرط پر کہ میں مہر معاف کردوں اور تم طلاق دے دو زید نے نہ مانا مجبور ہوکر ہندہ نے اپنا معاملہ حاکم تحصیل کی کچہری میں پیش کیا حاکم تحصیل نے ہندہ کو طلاق کی ڈگری دے دی اب ہندہ دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں ، اگر عورت جوان طاقتور ہے اور شوہر بڈھا فرتوت ہے عورت شوہر کے پاس نہیں رہنا چاہتی ہے شوہر چھوڑنا نہیں چاہتا تو شرعاً کیا صورت اختیار کرنی چاہئے؟ الجواب لاالٰہ الّااﷲ بے شوہر کے طلاق دئے طلاق تحصیلدار کے دئے نہیں ہوسکتی قال اﷲتعالٰی بیدہ عقدۃ النکاح۱؎(اﷲتعالٰی نے فرمایا: نکاح کی گرہ صرف خاوند کے ہاتھ میں ہے۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۳۷)
دوسری جگہ نکاح کرے گی تو حرام قطعی وزنا ہوگاقال اﷲتعالٰی والمحصنٰت من النساء۲؎(اﷲتعالٰی نے فرمایا: اور حرام ہیں منکوحہ عورتیں ۔ت)
( ۲؎القرآن الکریم ۴ /۲۴)
ہاں شوہر پر فرض ہے کہ اسے اچھی طرح رکھے اس کے حقوق اداکرے، اگر وُہ اس پر قادر نہیں تو اُس پر فرض ہے کہ اسے طلاق دے دے، قال اﷲتعالٰی فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بھمروف۳؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ اﷲتعالٰی نے فرمایا:ایک یا دوطلاقوں کے بعدبیوی کو حُسنِ سلوک سے پاس رکھو یا اُن کو بھلائی کے ساتھ فارغ کردو۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎القرآن الکریم ۶۵/۲)