Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق)
103 - 155
مسئلہ ۲۴۰تا۲۴۱: مرسلہ محمد عبدالرحمن جلشانی شافعی از بنارس محلہ مدنپورہ مدرسہ امداد العلوم مسجد کلاں  ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ 

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں  ازرُوئے مذہب شافعی رحمۃ اﷲتعالٰی  علیہ کے:

(۱) ایک شخص شافعی المذہب زوجین باہم رہتے تھے شوہرکو جذام کا عارضہ ہوگیا جس کے خوف کی وجہ سے اُس کی زوجہ اپنے ماں  کے یہاں  چلی گئی، شوہر اس کو بُلاتا رہا مگر اس کے لاحقہ عارضہ کے خوف سے اس کی زوجہ نہ آئی یہاں  تک کہ شوہر اُس کا  اُسی عارضہ میں  فوت ہُوا، اس صورت میں مہرو ورثہ ونان نفقہ زوج کے ترکہ سے زوجہ کو پہنچ سکتا ہے یانہیں ؟از رُوئے شرع الطیف بحوالہ کتبِ معتبرہ تحریر فرمایا جاوے۔

(۲) بعض اشخاس زوجہ مذکورہ بالا کو زوج مرحوم کے ترکہ سے ورثہ ونان نفقہ دینے میں  انکار کرتے ہیں  اور کہتے ہیں  کہ زوجہ کوکُچھ پہنچتا ہی نہیں ورثہ زوجہ قرآن مجید سے ثابت یا نہیں  اور منکر اُ س کا دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا یا نہیں فقط، بینواتوجروا

الجواب

زوجہ متوفی کو صورت مستفسرہ میں باتفاق ائمہ حنیفہ وشافعیہ رحمہم اﷲتعالٰی  مہر ورترکہ قطعاً ملے گا، ائمہ حنیفہ کے نزدیک تو جَبَّ وعِنّت یعنی آلت بریدگی یا نامردی کے سوا کوئی مرض شوہر مطلقاً سببِ فسخِ نکاح نہیں ،
درمختار میں ہے :
لایتخیر احد الزوجین بعیب الاخرولو فاحشا کجنون وجذام وبرص۱؎الخ۔
خاوند بیوی میں کسی کو دوسرے کے عیب جسمانی مثلاً جنون، جذام اور برص کے امراض کی وجہ سے فسخ کا اختیار نہیں ہے الخ (ت)
 (۱؎ درمختار     باب العنین    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۵۴)
اور ائمہ شافعیہ کے یہاں  اگرچہ جنون و جذام مستحکم وبرص مستحکم سے خیارِ فسخ حاصل ہوتا ہے مگراس کے یہ معنی نہیں کہ ان امراض کے سبب آپ ہی نکاح زائل یا عورت کو بطورِ خود فسخِ نکاح کااختیار حاصل ہوجائے بلکہ یہ معنی کہ فی الفور بلاتاخیر قاضی شرع کے حضور مطالبہ فسخ پیش کرنے کا اختیار ملتا ہے، جب وُہ حکمِ فسخ دے اس وقت نکاح فسخ ہوتا ہے، بغیر اس کے وُہ بدستور زوج وزوجہ ہیں ۔ امام علامہ یوسف اردبیلی رحمہ اﷲتعالٰی  علیہ کہ اجلّہ شافعیہ سے ہیں  کتاب الانوار میں فرماتے ہیں  : لایثبت بالبرص والجذام قبل الاستحکام خیار العیب علی الفور ولاینفردان بالفسخ بل لابدمن الرفع الی القاضی۱؎اھ ملتقطا۔

برص اور جذام کے مستحکم ہونے سے قبل فوری طور پر خیار عیب ثابت نہیں ہوتا، اور خاوند بیوی خود فسخ نہیں  کرسکتے بلکہ قاضی کے ہاں  مرافعت ضروری ہے اھ ملتقطا(ت)
 (۱؎ الانوار لاعمال الابرار    الطرف العاشرفی العیوب     مطبعۃ جمالیۃ مصر    ۲ /۷۳)
یہاں  جبکہ نہ حاکمِ شرع کی طرف مرافعہ ہُوا، نہ اس نے فسخِ نکاح کا حکم دیا بلکہ عورت بطورِ خود اپنی ماں  کے یہاں  چلی گئی تو باتفاقِ ائمہ نکاح قائم رہا پس بنص قطعی قرآن عظیم وہ اس کے ترکہ میں  مستحق فریضۃاﷲ ہے۔

قال اﷲتعالٰی : ولھن الربع مماترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بھا اودین۲؎۔

اﷲتعالٰی  نے فرمایا: اگر تم نے ترکہ چھوڑا اور تمہاری اولاد نہ ہوتو بیویوں  کو ترکہ کا چوتھائی حصّہ، اور اگر تمہاری اولاد ہوتو پھر بیویوں  کو تمہارے ترکہ میں  سے آٹھواں  حصّہ ملے گا، یہ تقسیمِ وراثت تمہاری وصیت اور قرضہ ادا کرنے کے بعد ہے۔(ت)
 (۲؎القرآن الکریم       ۴ /۱۲)
وراثتِ زوجہ بلاشبہہ ضروریات دین سے ہے جس پر تمام فرقِ اسلام کااجماع اور ہر خاص وعام کو اس کی اطلاع، تو مطلقاً اس کا انکار یعنی یہ کہنا کہ زوجیت شرع میں  ذریعہ وراثت ہی نہیں  صریح کلمہ کفر ہے، ہاں  اگر براہِ ناواقفی عروضِ جذام کو خود مزیلِ نکاح سمجھ کر اس عورت کے استحقاقِ وراثت سے انکار کیا تو جہل وسفاہت باتفاق اور شرع مطہر پر بے باکانہ جرأت ہے کُفر نہیں ، بالجملہ صورتِ مسئولہ میں عورت یقینا مستحق ترکہ ہے، یونہی باتفاق مہر مسمّی تمام وکمال واجب الاداہے، حنفیہ کے طور پر تو ظاہر ہے، شافعیہ کے نزدیک یُوں  کہ شوہر قبل انفساخ نکاح مرگیا،
انوارمیں ہے :
لومات المعیب قبل الفسخ تقرر المھر ولافسخ۱؎۔
عیب والا خاوند اگر فسخ سے قبل فوت ہوجائے تو مہر لازم ہوگا، فسخ نہ ہوگا۔(ت)
 (۱؎ الانوار الاعمال الابرار        الطرف العاشرفی العیوب         مطبعۃ جمالیۃ مصر     ۲ /۷۳)
بلکہ یہاں  تو بالفرض اگر نکاح فسخ بھی کردیاجاتا جب بھی مہرمثل ساقط نہ ہوتا۔ عبارتِ سوال سے ظاہر کہ شوہرکو اس مرض کا حدوث بعد زفاف ہوا تو بحالتِ فسخ بھی پورا مہر لازم الادا۔
انوارمیں ہے :
اذافسخ فان کان قبل الدخول سقط المہر ولامتعۃ، فسخ ھواوھی وان کان بعدہ فان کان بعیب مقارن او حادث قبل الدخول وجب مھر المثل وان کان بحادث بعدہ وجب المسمی۲؎۔
مردیا عورت نے نکاح فسخ کیا تو اگریہ فسخ دخول سے قبل ہُوا تو مہر ساقط ہوجائےگا،اور جوڑا ساقط نہ ہوگا، اور اگر فسخِ نکاح دخول کے بعد ہُوا تو اگر دخول کے ساتھ یا دخول سے قبل، عیب پیداہُوا تو مہر مثل واجب ہوگا، اور دخول کے بعد عیب پیدا ہواتو پھر مقررہ مہر واجب ہوگا۔(ت)
 (۲؎الانوار الاعمال الابرار        الطرف العاشرفی العیوب         مطبعۃ جمالیۃ مصر     ۲ /۷۳)
رہا نان ونفقہ وُہ بعد موتِ شوہر زمانہ عدّت یا اس کے بعد کا باتفاقِ مذہب صحیح حنفی وشافعی اصلاً واجب نہیں ، اس کے دینے سے ورثہ انکار کرتے ہوں  تو بیشک بجا ہے ۔
درمختار میں  ہے :
لاتجب النفقۃ بانواعھا لمعتد ۃ موت مطلقا ولوحاملا۳؎۔
کسی قسم کا نفقہ موت کی عدّت والی کے لئے مطلقاً واجب نہ ہوگا اگرچہ حاملہ ہو۔(ت)
 (۳؎ درمختار             باب النفقہ            مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۷۳)
انوارِ شافعی میں ہے :
المعتدۃ عن النکاح الفاسد لانفقۃ لھا حاملاکانت او حائلا وکذاالممتدۃ عن الوفاۃ۴؎۔
نکاح فاسد کی عدّت والی کے لئے کوئی نفقہ نہیں ،حاملہ ہو یا غیر حاملہ ہو، اور یہی حکم موت کی عدت والی کا ہے۔ (ت)
 (۴؎ الانوار   لاعمال الابرار         کتاب النفقات الطرف الثالث فی موانع النفقۃ مطبعۃ جمالیۃ مصر     ۲ /۲۲۸)
حاشیۃ الکمثری علی الانوار میں ہے : المعتدۃ عن الوفاۃ لاتستحق النفقۃ والمؤنۃ لصحۃالخبربذلک۱؎۔
موت کی عدت والی نفقہ اور خرچہ کی مستحق نہیں ہے،کیونکہ اس معاملہ میں  صحیح حدیث ہے۔(ت)
 (۱؎ الکمثری علی الانوار     الطرف الثالث فی موانع النفقۃ     مطبعۃ جمالیۃ مصر    ۲ /۲۲۸)
اسی طرح اگر ان دنوں  کا نفقہ مانگتی ہے جن میں  وُہ بے اجازتِ شوہر اپنی ماں  کے یہاں  چلی گئی اور شوہر بلاتا رہا،نہ آئی، تو ان ایّام کا نفقہ بھی بالاتفاق نہ پائے گی کہ اس چلے جانے سے وُہ ناشزہ ونافرمان ہے اور ناشزہ کےلئے جب تک ناشزہ رہے بالاجماع نفقہ نہیں ۔ قرۃ العین علامہ زین شافعی میں ہے :
تسقط بنشوزولو ساعۃ کامتناع من تمتع لالعذر وخروج من مسکن بلااذن۲؎۔
بیوی کی نافرمانی اگرچہ ایک دفعہ ہو جیسا کہ بلاعذر جماع سے انکار، یابغیر اجازت گھرسے نکلنا نفقہ کو ساقط کردیتا ہے۔(ت)
 (۲؎ قرۃ العین فی شرح فتح المعین فصل فی النفقۃ         عامر الاسلام پور پریس اتروانگاری کبیرص۲۲۰تا۲۲۲)
انوارمیں ہے :
لانفقۃ للناشزۃ وان قدر علی ردھا الی الطاعۃ قھراولوھربت منہ او خرجت بلااذنہ من بیتہ فناشزۃ۳؎ اھ ملخصاً۔
نافرمان بیوی کےلئے نفقہ کا استحقاق نہیں  اگرچہ جبراً خاوند اسے اطاعت پر مجبور کرسکتا ہو، اور اگر بیوی بھاگ جائے یا گھر سے بلااجازت نکل جائے تو وُہ نافرمان قرار پائے گی اھ ملخصاً(ت)
 (۳؎ الانوار لاعمال الابرار     الطرف الثالث فی موانع النفقہ      مطبعۃ جمالیۃ مصر    ۲ /۲۲۸)
ہاں  اس سے پہلے ایّام تسلیم نفس وعدمِ نشوز میں اگر کسی دن کا نفقہ نہ ملا تھا تو ہمارے ائمہ کے نزدیک تو اس کا بھی دعوٰی  نہیں  کرسکتی کہ نفقہ اگر مفروضہ بحکم حاکم ہو موتِ احدالزّجین سے ساقط ہوجاتا ہے مگرجبکہ نفقہ مفروضہ شوہر سے نہ ملا اور بحکم قاضی شرع عورت نے قرض لے لے کر خرچ کیا ہو کہ اس صورت میں  ذمہ شوہر پر دین قرار پاکر موت سے ساقط نہیں ہوتا،
تنویر حنفی میں ہے :
بموت احدھما وطلاقھا یسقط المفروض الااذا استدانت بامرالقاضی۴؎۔
بیوی اور خاوند میں  سے کسی ایک کے فوت ہوجانے یا طلاق ہوجانے سابقہ مقررہ نفقہ ساقط ہوجائےگا لیکن اگرقاضی کے حکم پر بیوی قرض لے کر خرچ کرتی رہی تو وُہ قرض ساقط نہ ہوگا۔(ت)
 (۴؎ درمختار شرح تنویرالابصار      باب النفقۃ      مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۷۰)
البتہ ائمہ شافعیہ کے نزدیک جب ایام مذکورہ کا نفقہ نہ ملا شوہر پر مطلقاً دین ہے کہ کسی کی موت سے ساقط نہ ہوگا اتنے دعوٰی  کے نزدیک کرسکتی ہے۔
ہدایہ حنفیہ میں ہے :
قال الشافعی رحمہ اﷲتعالٰی تصیر دینا قبل القضاء ولاتسقط بالموت لانہ عوض عندہ فصارکسائر الدیون۱؎۔
امام شافعی رحمہ اﷲتعالٰی  نے فرمایا: قاضی کے حکم کے بغیر بھی بیوی کا لیا ہُوا قرض برائے نفقہ، موت کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا، کیونکہ ان کے نزدیک نفقہ معاوضہ ہے لہذا دوسرے واجب الادا امور کی طرح ہوگا۔(ت)
 (۱؎ الہدایۃ     باب النفقۃ      المکتبۃ العربیۃ کراچی         ۲ /۴۲۰)
انوارِ شافعیہ میں  ہے :
لولم یکسھامدۃ صارۃ علیہ دینا۲؎۔
اگر کُچھ مدّت بیوی کو لباس نہ دیا تو وُہ خاوند کے ذمّہ قرض ہوگا۔(ت)
 (۲؎ الانوار لاعمال الابرار    کتاب النفقات     الطرف الثانی فی کیفیۃ الانفاق مطبعۃ جمالیۃ مصر   ۲ /۲۲۵)
اسی میں  ہے :
لوماتت فی اثنائہ بلاقبض فدین فی ذمتہ۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر بیوی اسی اثناء میں  فوت ہوجائے تب بھی خاوند کے ذمّہ واجب الادا ہوگا۔ واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)
 (۳؎الانوار  لاعمال الابرار    کتاب النفقات     الطرف الثانی فی کیفیۃ الانفاق مطبعۃ جمالیۃ مصر     ۲ /۲۲۵)
Flag Counter