| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۳۹: از کانپور محلہ فیل خانہ بازار کہنہ مکان مولوی سیّد محمد اشرف صاحب وکیل مرسلہ مولوی سید محمد آصف صاحب ۱۴ رمضان ۱۳۱۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فتاوٰی شمس الدین وفتاوٰی تمرتاشی میں ہے کہ اگر کسی عورت سے نکاح کیا لیکن نیّت میں ہے کہ بعد اتنے دنوں کے طلاق دُوں تو یہ نکاح درست ہے پس جو شخص دوچار روز یا دوچار مہینے میں طلاق دے دیاکرے اور اس قسم نکاح پر مدادمت کرے اور لوگوں کو بھی اس جانب مائل کرے تا کہ وُہ لوگ زناسے محفوظ رہیں تو آیا ایسے شخص کوثواب ملے گا یانہیں ، اور مدادمت کی صورت میں متعہ تو نہ ہوگا؟بینواتوجروا الجواب متعہ تو ہرگز نہ ہوگا جب تک نفسِ عقد میں مدّت معیّنہ خوا غیر معیّنہ کی حد نہ مقرر کی جائیگی،
فی الدرالمختار بطل نکاح متعۃ مؤقت وان جھلت المدۃ اوطالت فی الاصح ولیس منہ مالو نکحھا علٰی ان یطلقھا بعد شھر اونوی مکثہ معھامدۃ معینۃ۱؎۔
درمختار میں ہے: متعہ اور مقررہ مدت تک کانکاح باطل ہے اگر ہو مدّتِ مقررہ مجہول ہو یا دراز ہو اصح قول میں ، اور اگر ایک ماہ بعد طلاق دینے کی شرط پر نکاح کیا یاصرف نیت میں معیّنہ مدّت تک پاس رکھنا مقصود ہوتو یہ دونوں صُورتیں از قبیل باطل نہ ہوں گے۔(ت)
(۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۰)
بحرالرائق میں ہے :
التوقیت انما یکون باللفظ۲؎۔
مدّتِ مقررہ تک نکاح کے لئے زبانی مدّت کا تعیّن ضروری ہے(جو کہ باطل ہے)۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۱۰۸)
مگر ایسے کی طرف لوگوں کو ترغیب نہ کی جائے اور خود بھی اس سے احتراز چاہئے جب تک کوئی حاجت صحیحہ شرعیہ ہر بار طلاق زوجہ کی طرف داعی نہ ہو کہ بے حاجتِ شرعیہ عورت کو طلاق دینا ثواب درکنار شرعاً ممنوع، علی ماصححہ فی الفتح وحققہ فی ردالمحتار وفیہ وعنہ عن مشائخ المذھب ان الاصل فیہ الحظر لمافیہ من کفران نعمۃ النکاح والاباحۃ للحاجۃ الی الخلاص۳؎۔ شرعی ضرورت کے بغیر طلاق دینا ممنوع ہے جس کی تصحیح فتح میں ہے اور اس کی تحقیق ردالمحتارمیں ہے،اور اسی میں فتح سےمنقول کہ مشائخ سے مروی ہے کہ طلاق میں اصل ممانعت ہے کیونکہ اس میں نکاح جیسی نعمت کی ناشکری ہے، اورطلاق کا مباح ہونا خلاصی کے لئے حاجت کی وجہ سے ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۶)
حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
تزوجواولاتطلقوا۴؎ فان اﷲلایحب الذواقین ولاالذواقات۵؎وفی لفظ لاتطلقو النّساء الّامن ریبۃفان اﷲتعالٰی لایحب الذاوقین ولاالذواقات۱؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
نکاح کرو اور جب تک عورت کی طرف سے کوئی شک نہ پیدا ہو (یعنی بے حاجت صحیحہ) طلاق نہ دو کہ اﷲ بہت چکھنے والے مردوں اور بہت چکھنے والی عورتوں کودوست نہیں رکھتا یعنی جو چکھ چکھ کر چھوڑدینے کے لئے نکاح کرتے ہیں (اس کو طبرانی نے کبیر میں ابوموسٰی اشعری رضی ا ﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۴؎ تاریخ بغداد ترجمہ نمبر۶۶۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۱۲ /۱۹۱) (۵؎ مجمع الزوائد باب فیمن یکثر الطلاق دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۳۳۵) (۱؎ المعجم الاوسط حدیث نمبر ۷۸۴۴ المکتبۃ المعارف الریاض ۸ /۴۱۳)
غور کیجئے تو آیہ کریمہ محسین غیر مصافحین۲؎میں بھی اسی سے ممانعت کی طرف اشارہ ہے یعنی نکاح کروعورتوں کو قید میں رکھنے، نہ مستی نکالنے ، پانی گرانے۔ بعض صحابہ کرام مثل سیّدنا امام حسن مجتبٰی ومغیرہ بن شعبہ وغیرہما رضی اﷲتعالٰی عنہم سے جو کثرتِ نکاح وطلاق منقول ہے اسی حالت حاجت شرعیہ پر محمول ہے،
(۲؎ القرآن الکریم ۴ /۲۴)
فی ردالمحتار اذا وجدت الحاجۃ المذکورۃ ابیح وعلیہا یحمل ماوقع منہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ومن اصحابہ وغیرہم من الائمۃ صونالھم عن العبث والایذاء بلاسبب۳؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ جب حاجت مذکورہ پائی جائے تو طلاق مباح ہے، اور اسی معنٰی پر محمول ہیں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور دیگر ائمہ کرام سے متعدد نکاح کے واقعات ہُوئے، تاکہ ان حضرات کی طرف عبث اور ایذاء رسانی کی نسبت نہ ہونے پائے۔(ت)
(۳ ؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۱۶)
محفوظ زنا کاعذر بے معنی ہے ایک وقت میں چار۴ تک شرعی اجازت ہے اور اس سے زائد کبھی جمع نہیں ہوسکتیں ، اور عقل ونقل وتجربہ شاہد ہیں کہ نفسِ امّارہ کی باگ جتنی کھینچئے دبتا ہے اور جس قدر ڈھیل دیجئے زیادہ پاؤں پھیلاتا ہے ؎
والنفس کالطفل ان تمھلہ شبّ علی حب الرّضاع وان تفطمہ ینفطم
(نفس بچّے کی طرح ہے اگر آپ اسے موقعہ دیں گے تو وہ ماں کا دودھ پینے میں دلیر رہے گا، اور آپ دُودھ چھڑادیں تو وُہ چھوڑدے گا۔ت) جب ہمیشہ خواہشِ نو کی عادت ڈالی گئی اور پُرظاہر کہ چند روزرکھ کر چھوڑنے کےلئے دو اماً تازہ عورت کا ملنا خصوصاً ہندوستان میں سخت مشکل ہے تو جب اس میں کمی ہوگی نفس بدخو جسے صبرکاخوگر کیا ہی نہ تھا وُہ رنگ لائے گا کہ ایک پرقناعت کرنے والے اس کی ہوا سے آگاہ نہیں ۔والعیاذباﷲتعالٰی، واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔