| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ۲۳۸: ۴ ذیقعدہ ۱۳۰۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے طلاق زید سے دو۲ مہینے بعد بکر سے نکاح کرلیا ۱۸سال تک اس کے یہاں رہی اس مدّت میں چار بیٹے ہوئے زید قیدہوگیا تھا بعد قید بھی ہندہ کا دعوٰی دار نہ ہُوا اب اس قدر مدّتِ کثیر کے بعد ہندہ بے رضائے بکر خانہ بکر سے نکل کر خالد کے ہیں چلی گئی اس صورت میں ہندہ منکوحہ بکر ہے اور اس پر بکر کا دعوٰی اپنے پاس رکھنے کا پہنچتا ہے یانہیں ؟بینواتوجروا الجواب صُورت مسئولہ میں اگر طلاق کے بعد ہندہ کو تین حیض (عہ)کامل گزرچکے تھے اس کے بعد نکاح ہُوا یعنی حیض بعد طلاق شروع ہُوئے ہوں اور قبل نکاحِ ثانی ختم ہوچکے ہوں یا وقتِ طلاق زید ہندہ حاملہ تھی اور بعد طلاق وضعِ حمل ہوگیا اگرچہ اُس دن ہُوا ہواُس کے بعد اس نے بکر سے نکاح کیا تو ان دونوں صورتوں میں تو بیشک نکاح بکر صحیح تھا اور بکر اسے لینے کا دعوٰی کرسکتا ہے عورت جبراً اُسے دلائی جائے گی،
قال اﷲتعالٰی الرّجال قوامون علی النساء۱؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: مردوں کوعورتوں پر غلبہ حاصل ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۳۴)
اور اگر ان دومہینے میں تین حیض کامل بعد طلاق گزرے تھے نہ وضع حمل ہُوا کہ بکر سے نکاح کرلیا تو وُہ نکاح ہر گز صحیح نہ ہوا،
عہ : امام اعظم کے نزدیک تین حیض کم سے کم ساٹھ دن اور صاحبین کے نزدیک اڑتالیس دن میں ہوسکتے ہیں ۱۲ ۔
قال تعالٰی والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروع۱؎ وقال تعالٰی ولاتعزمواعقدۃ النکاح حتی یبلغ الکتاب اجلہ۲؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: مطلّقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض مکمل ہونے تک پابند رکھیں ۔ اور اﷲتعالٰی نے فرمایاعدّت مکمل ہونے تک مطلقہ عورتیں نئے نکاح کا عزم نہ کریں ۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/۲۲۷ ) ( ۲؎ القرآن الکریم ۲/۳۳۵)
اس صورت میں عورت پر بکر کے پاس جانے کاجبر ہونا درکنار ان دونوں پر فرض ہے کہ باہم جُدا ہوجائیں اور ترکِ تعلق کریں ، اور بکر نہ مانے تو عورت بطورِ خود جُدا ہوسکتی ہے ورنہ حاکم بالجبر جُدائی کرادے،
فی الدرالمختار یثبت لکل واحد منھا فسخہ ولو بغیر محضر صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما۳؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
دُرمختار میں ہے: دونوں کو ایک دوسرے کی موجودگی یا غیر موجودگی میں فسخ کا اختیار ہے دخول کر چکاہو یانہ کیا ہو، اصح قول یہی ہے تاکہ گناہ سے اجتناب ہوسکے، لہذا یہ بات وجوبِ فسخ کے منافی نہیں بلکہ اس کے باوجود قاضی پر واجب ہے کہ دونوں میں تفریق کرے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ درمختار باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۱)