| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۲(کتاب النکاح والطلاق) |
مسئلہ ۲۳۳:ازبھدرک ضلع بالسیر ملک اوڑیسہ مسئولہ ضمیر خاں نگھا ۸شوال ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ضمیر خاں نامی ایک شخص نے اپنی حقیقی سالی سے زنا کا مرتکب ہُوا، اُسکے شوہر نے ضمیر پر کچہری میں مقدمہ دائر کیا بعدمقدمہ اس کی سالی کو اُسکے شوہر نے باقاعدہ طلاق دے دی لیکن جس وقت مقدمہ چل رہا تھا ضمیر کی زوجہ کے ضمیر کو سخت سُست کہنے سے غصّہ میں اپنی زوجہ کوتین طلاق دے چکا تھاجب مقدمہ سے ضمیرنے خلاص پایا اُس نے اپنی سالی سے وعدہ کیا تھا،اگرمیں مقدمہ سے خلاص ہُوا تو تجھے اپنے مکان میں رکھوں گا لہذااپنی سالی کی زبان بندی سے مقدمہ سے مخلص پایا اور اپنی سالی کو اپنے مکاں میں لے آیا اُوپر کے بیان کے مطابق ضمیر کو کاروائی کرنے سے بستی والوں نے جبر کیا اور ایک جلسہ کرکے کہا تو چاہے چھوٹی کو نکال دے یا بڑی کو طلاق دے اور چھوٹی سے نکاح کرلے، اُس وقت ضمیر نے اپنی منکوحہ کو طلاق ثلٰثہ دیا اوراپنی سالی سے نکاح کرلیا، ایسی حالت میں کیا حکمِ شرع شریف ہے۔ بینواتوجروا۔ الجواب اس کی پہلی زوجہ کو تین طلاقیں ہوگئی، اسکی عدّت گزرنے کے بعد نکاح کیا ہے نیز سالی کو اس کے شوہر نے جو طلاق دی اس کی عدّت بھی گزرنے کے بعد تو یہ نکاح صحیح ہوگیا اوراگر دونوں عدّتوں میں سے کوئی عدت باقی تھی تو حرام فاسد ہُوا اس پر فرض ہے کہ اُس دوسری کو بھی چھوڑدے جب دونوں بہنوں کی عدتیں گزرجائیں اس دوسری سے نکاح کرسکتا ہے۔
مسئلہ ۲۳۴:ـ از دلیل گنج ڈاک خانہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر یار خان صاحب وحافظ سیّد میر صاحب ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت جوغیر جگہ کی رہنے والی تھی اُس کی ماں ایک عرصہ سے یہاں آباد تھی جب اُس کی ماں بیمار ہُوئی تو اُس کے دیکھنے کی غرض وُہ عورت یعنی اُس کی لڑکی دلیل گنج آئی اُس کی ماں اس عرصہ میں مرگئی اسکی دو۲ بہنیں بھی دلیل گنج میں موجود ہیں جن کی شادی بھی یہیں ہوئے بعد انتقال اُس کی ماں کے اس کے بہنوئی کے بھائی نے اپنے گھر میں رکھ لیا کچھ عرصہ تک وُہ اپنے بہنوئی کے بھائی کے یہاں رہی پھر اُس کے خاوند کو بُلوایا اور چودہ۱۴ روپے دے کر اُس کے خاوند سے طلاق دلوائی اب وُہ بدستور اُس شخص کے یہاں موجود ہے یہ فیصلہ جن پنچوں نے کیا ہے آیا صحیح ہے اور ان شخصوں کی بابت کیا حکم ہ جنہوں نے یہ پنجایت کی اور اس کی نسبت جس کے گھر میں غیر نکاحی عورت موجود ہے اب اس کا نکاح بعد عدّت کرنے کا ارادہ ہے آیا وُہ نکاح صحیح ہوگا یاغلط؟ الجواب طلاق ہوگئی بعد عدّت نکاح صحیح ہوگا اور یہ جس نے بلا نکاح اُسے اپنے یہاں رکھا ہے اگر کسی امرِ ناجائز کا اُس کے ساتھ مرتکب ہوا ہے اگر چہ اسی قدر کہ تنہا مکان میں ایک منٹ کے لئے ساتھ ہونا تو فاسق ہے مستحقِ عذاب ہ اور چودہ۱۴روپے اگر چہ بطور مالکانہ نہ دئے گئے جیسا بعض رذیل جاہلوں میں رواج ہے تو یہ لینا دینا دونوں حرام اور وُہ فیصلہ کرنے والے سب مبتلائے آثام، اور اگر مردوزن میں اتفاق کی کوئی صورت نہ تھی اور عورت نے روپے دے کر طلاق لی یا اس کی طرف سے کسی اور نے دئے تو یہ صورت خلع میں آجائے اور جس کی طرف سے زیادتی ہے اس پر الزام رہے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۳۵: ازموضع آواں ڈاکخانہ بیگووال ریاست کپور تھلہ ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ زید اپنی منکوحہ سے نو یادس ۱۰ سال سے جُدا ہوگیا البتہ خط ارسال کرتا رہا اس کی منکوحہ روزِ نکاح سے اپنے والدین کے گھر میں رہی اب ایک سال سے زید کی منکوحہ نے خود زاپنا دوسرے خاوند بکر سے نکاح کرلیا اس کے نطفہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا لیکن اس کے پہلے خاوند مسمّی زید کی خبر اور خط آتے رہتے ہیں اب عرض یہ ہےکہ نکاح جائز ہے اور اولاد اس عورت سے بکر نے جو حاصل کی طریقہ جائز ہے اور وہ اولاد شرعاً حلال ہے؟اور بکر امام مسجد بھی ہے اور اس نے یہ ناجائز کام کیاتو جو شخص اس کے پیچھے نمازیں ادا کرتے رہے کیا وُہ درست ہیں ؟اور اگر درست نہیں تو انہیں کیا تعزیر ہونی چاہئے؟ الجواب بکر نے جو اس عورت سے نکاح کیا اگر اُسے معلوم نہ تھا کہ یہ دوسرے کی منکوحہ ہے تو یہ نکاح اس کے حق میں گناہ نہ ہُوا اور اس نکاح سے اگر چھ۶مہینے یا زیادہ کے بعد بچّہ پیدا ہُوا تو اسے ولدالزنا نہ کہیں گے اور وُہ اسی بکر کا ہے، علی مارجع الیہ الامام وعلیہ الفتوی تجنیس، خانیہ، سراجیۃ، ھندیۃ وغیرہا۔ امام صاحب نے جس طرف رجوع فرمایا اس کی بناء پر اور اسی پر فتوٰی ہے۔ تجنیس، خانیہ، سراجیہ، ہندیہ وغیرہ۔(ت) پھر اگر اسے اب تک نہیں معلوم تو اس پر الزام نہیں ، نہ اس وجہ سے اس کی امامت میں کوئی حرج، اور اگر بعد کو معلوم ہوگیا اور عورت کو نہیں چھوڑتا تو زانی ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پڑھی تو پھیرنی واجب اور اگر وقت نکاح ہی سے اسے معلوم تھا کہ یہ دوسرے کی منکوحہ ہے اور دانستہ نکاح کیا تو نکاح نہ ہوا زنائے محض ہُوابہ یفتی، ذخیرۃ، بزازیۃ، فتح، بحر(اسی پر فتوٰی ہے ذخیرہ، بزازیہ، فتح، بحر۔ت) اور اس صورت میں لڑگا کا زید کاہے۔ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :الولد للفراش وللعاھر الحجر۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ بچّہ شوہر کا اور زانی کو پھتّر، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ مسند احمد بن حنبل حدیث بن عفان دارالفکر بیروت ۱ /۵۹) (کنز العمال حدیث ۱۲۹۱۷ تراث الاسلامی حلب بیروت ۵ /۲۹۳)
مسئلہ۲۳۶: ازرائے پور ممالک متوسط محلہ بیجناتھ بارہ مرسلہ منشی محمد اسحٰق صاحب ۲۹جمادی الآخرہ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو عورت مطلقہ بطلاق بائن غیر مغلظہ ہے تو اس کانکاح بعد عدّت اس کے زوج سے تو ہوسکتا ہے لیکن جس صورت میں کہ وُہ اپنے زوج سے راضی نہ ہو بعد عدت بائن کسی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے عند الشرع یا نہیں ؟بینواتوجروا(بیان کرواجرپاؤ۔ت) الجواب شوہرسے تو اسی وقت نکاح ہوسکتا ہے کچھ عدّت گزرنے کی حاجت نہیں ، ہاں دوسرے شخص سے بعد عدّت گزرنے کے کرسکتی ہے، جس عورت پر طلاق بائن ہو وُہ فوراً طلاق پڑتے ہیں خود مختار ہوجاتی ہے بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے، شوہر اوّل سے نکاح کرنے پر مجبور نہیں ہوسکتی،
فی الھندیۃ عن الھدایۃ اذاکان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ ان یتزوجھا فی العدّۃ وبعد انقضائھا۱؎الخ وفیھا عن الفتح حکمہ وقوع الفرقۃ بانقضاء العدّۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن۲؎اھ وفی الدرالمختارا لانھا لاتملک نفسھاالابالبائن۳؎اھ وفی العقود الدریۃ وقع علیہ طلقۃ بائنۃ ملکت بھا نفسہا وحیث انقضت عدتھا صارت اجنبیۃ۴؎اھ ملخصاً والمسائل کلھا واضحۃ شھیرۃ معلومۃ۔ وا ﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ہدایہ سے منقول ہے کہ جب طلاق بائنہ ہو اور تین سے کم ہوں تو خاوند کو عدت کے اندر اور ختم ہونے پر دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگاالخ اور ہندیہ میں فتح سے منقول ہے کہ طلاق کا حکم یہ ہے کہ رجعی ہوتوعدّت ختم ہوجانے پر اور بائنہ ہوتو عدّت ختم ہُوئے بغیر بھی جُدائی ہوجائے گی اھ، درمختار میں ہے کہ بائنہ طلاق سے بیوی نکاح کے لئے خود مختار ہوجاتی ہے اھ، عقوددریہ میں ہے کہ بائنہ طلاق واقع ہوجانے پر اپنے آپ کی مالک ہوجاتی ہے اور عدّت ختم ہوجانے پر وہ خاوندکیلئے اجنبی بن جاتی ہے، ملخصاً، یہ تمام مسائل مشہور اور واضح طور پر معلوم ہیں ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ومایتصل بہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۷۳۔۴۷۲) (۲؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الطلاق الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۴۸) (۳؎ درمختار باب الصریح مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲۲) (۴؎ العقودالدریۃ فی تنقیح فتاوی الحامدیۃ کتاب الطلاق تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۳۵)
مسئلہ ۲۳۷: ازموضع لال پور ڈاکخانہ موہن پور بنگال مرسلہ منیر الدین احمد لالپوری کمر لوی ۸شوال ۱۳۳۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو لوگ شرک پر عین اعتقادرکھے اور بتخانے میں سجدہ وغیرہ کرنے سے اپنی بی بی کے نکاح سے خارج ہوگیا وُہ اگر توبہ کرکے مسلمان ہوجائے بی بی مذکورہ سے نکاح کرے تو حلالہ کرے یابغیر حلالہ کے نکاح درست ہے؟ الجواب جوتین طلاق دے چکا ہو وُہ یا جورویا دونوں اگر قہار کی لعنت اپنے سرلینے کو مرتد، مشرک، بت پرست کُچھ بھی ہوجائیں و ہ تین طلاقیں رہیں گی مسلمان ہوجانے کے بعد پھر حلالہ کی ضرورت ہوگی بے حلالہ ہرگز ہر گز درست نہ ہوگا۔ وھوتعالٰی اعلم۔