مسئلہ ۱۲: از بڑودہ گجرات کلاں محلہ بھوتنی کا جھانپہ نظام پورہ مرسلہ امر اؤ مائی بنت غلام حسین ۱۶رجب ۱۳۱۱ھ
عورت کامہر سوادس ہزار روپے کا ہے،مرد نے نان ونفقہ بند کرلیا ہے، عورت نے مہر کا دعوٰی کیا ہے، اس صورت میں مہر اسے دلایاجائے گا یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب
اگر مہر پیشگی یعنی شوہر کے پاس جانے سے پہلے دینا قرار پایا تھا کوئی میعاد معین ٹھری تھی کہ اتنی مدّت کے بعد دیاجائے گا اور وُہ مدّت گزر گئی جب تو عورت ابھی دعوٰی کرسکتی ہے اور مہر فوراً دلایا جائے گا، اور اگر کچھ مدّت مقرر نہ ہُوئی تھی تو وہاں اُس شہر کے عرف وعادت پر عمل ہوگا' اگر وہاں کا عرف یہ ہے کہ ایسی صورت میں عورت جب طلب کرے ادا کیا جاتا ہے تو دعوٰی قابلِ سماعت ہے مہر ابھی دلایا جائے، اور اگر عرف یہ ہے کہ ایسی حالت میں جب مرد وعورت میں کسی کا انتقال ہویا مرد طلاق دے دے اُس وقت مہر کا مطالبہ ہوتا ہے تو اُسی وقت ملے گا اس سے پہلے دعوٰی نہ سُنا جائے گا۔
نقایہ میں ہے :
المعجل والمؤجل ان بینا فذاک والافالمتعارف ۱؎۔
مہر معجل یا مؤجّل کی مدّت بیان کردی گئی ہو تو وہی مراد ہے ورنہ جو عرف میں ہو وہی مراد ہوگا(ت)
(۱؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ فصل اقل المہر نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۶)
ہمارے شہروں کا عرف یہی ہے تو یہاں عورت کو پیش از طلاق یا موت مطالبہ مہر کا اختیار نہیں، ایسے ہی عرف کے سبب ردالمحتار کتاب القضا میں ہے:
حق طلبہ انما ثبت لھا بعدالموت والطلاق۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
بیوی کو مہر کے مطالبہ کا حق طلاق یا موت بعد ثابت ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۴۳)
مسئلہ ۱۳: ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر بوقتِ نکاح تصریح مہر معجل و مؤجل نہیں ہُوئی تو کِس وقت میں مہر ذمہ شوہر واجب الادا ہوگا ؟
الجواب
جب طلاق یا زن و شوہر میں کسی کی موت واقع ہو اس وقت واجب الادا ہوگا اس سے پہلے عورت مطالبہ نہیں کرسکتی ،
ھوالمتعارف فی بلاد فی ردالمحتار حق طلبہ انما ثبت لھا بعد الموت او الطلاق لامن وقت النکاح ۳؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
ہمارے علاقہ میں یہی متعارف ہے، ردالمحتار میں ہے کہ بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق طلاق یا موت کے بعد ہوگا، نکاح کے وقت سے نہیں ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاے التراث العربی بیروت ۴ /۳۴۳)
مسئلہ۱۴: از بڑودو پہلی پلٹن تیسری کمپنی مکان شیخ امام صوبہ دار مرسلہ رحمت بی ۲۲ذوالحجہ ۱۳۱۱ھ شرع محمدی حنفیہ مذاہب کا اس سوال کے جواب میں کیا حکم ہے میرا مہر سات سو روپے کا تھا میں نے اپنے شوہر کو معاف کردیا میں نے نیک کام کیا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب
بیشک نیک کام کیا اور اس میں بڑے ثواب کی امید ہے اِن شاء اﷲتعالٰی۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتےہیں: من نفس عن غریمہ او محی عنہ کان فی ظل العرش یوم القیامۃ۱؎۔جو اپنے مدیون کو مہلت دے یا معاف کردے قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہو۔
رواہ الامام احمد ومسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ والامام البغوی شرح السنۃ عن ابی قتادۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ وقال ھذا حدیث حسن۔
(اسے امام احمداور امام مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے اورامام بغوی نے شرح السنۃ میں ابوقتادہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن ہے۔ت)
(۱؎ مسند امام احمد حدیث ابوقتادہ انصاری مطبع دار الفکر ۵ /۳۰۸)
اگلی اُمتوں میں ایک گنہگار آدمی اہنے مدیونوں سے درگزر کرتا تھا جب وُہ مرا اﷲتعالٰی نے اُس کے گناہوں سے درگزر فرمائی ۲؎
رواہ الشیخان عن حذیفۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ
(اس کوبخاری اور مسلم نے حذیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)اور اُسے جنّت میں جگہ بخشی ۳؎
رویا ہ عنہ و عن ابی مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہما
(انہوں نے اس سے اور ابو مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت) مولٰی تعالٰی نے فرمایا: جب یہ اپنے مدیون سے در گزر کرتا تھا تومجھے زیادہ لائق ہے کہ درگزر فرماؤں۴؎
رواہ مسلم عن ابی مسعود وعن عقبۃ بن عامر رضی اﷲتعالٰی عنھما کلھم عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم
( اس کو مسلم نے ابومسعود اور عقبہ بن عامر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے ان سب نے نبی پاک صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب امساقاۃ والمزارعۃ فصل انظار المعسر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۸)
(۳؎ و ۴؎ صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ فصل انظار المعسر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۸)