Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
99 - 1581
ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار (۱۳۱۶ھ)

(معز زخواتین کو جہنم کے کتّوں کے نکاح میں نہ دیتے ہوئے انھیں رسوائی سے بچانا)
مسئلہ ۱۹۹: کیافرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایک عورت سنیہ حنفیہ جس کا باپ بھی سنی حنفی ہے اس کا نکاح ایک غیرمقلد وہابی سے کردینا جائز ہے یا ممنوع؟ اس میں شرعا گناہ ہوگایا نہیں؟ بینوا توجروا

مستفتی محمد خلیل اللہ خاں از ریاست رامپور دولت خانہ حکیم اجمل خاں صاحب
الجواب از دفتر تحفہ حنفیہ پٹنہ محلہ لودی کٹرہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

نکاح مذکورہ ممنوع وناجائز وگناہ ہے۔ غیر مقلدین زماں کے بہت عقائدکفر یہ وضلالیہ کتاب ''جامع الشواہد فی اخراج الوہابین عن المساجد'' میں ان کی تصانیف سے نقل کئے اور ان کا گمراہ وبد مذہب ہونا بروجہ احسن ثابت کیا اور حدیث ذکرکی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بد مذہبوں کی نسبت فرمایا:
ولاتؤاکلوھم ولاتشاربوھم ولاتناکحوھم ۱؎۔
یعنی ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو اور بیاہ شادی نہ کرو۔
 (۱؎ الضعفاء الکبیر        ترجمہ ۱۵۳ احمد بن عمران            دارالکتب العلمیہ بیروت        ۱/۱۲۶)

(کنزالعمال         حدیث نمبر ۳۲۴۶۸            موسستہ الرسالۃ بیروت        ۱۱/۵۲۹)
او رمولانا شاہ عبدالعزیز صاحب کی تفسیر سے نقل کیا ہے کہ:
ہر کہ با بدعتیان انس ودوستی پیدا کند نورایمان و حلاوت آں ازوے برگیرند ۲؎۔
جو شخص بد عقیدہ لوگوں سے دوستی اورپیار کرتاہے اس سے نورایمان سلب ہوجاتا ہے۔ (ت)
 (۲؎ تفسیرعزیزی         پارہ ۲۹ آیۃ ودوالوتد ھن فید ھنون کے تحت     افغانی دارالکتب لال کنواں دہلی    ص۵۶)
اور طحطاوی حاشیہ درمختار سے نقل کیا:
من کان خارجا من ھذہ المذاھب الاربعۃ فی ذٰلک الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۳؎۔
جو اس زمانے میں ان چاروں مذہب سے خارج ہو وہ بدعتی اور دوزخی ہے۔
 (۳؎ طحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الذبائح            دارالمعرفۃ بیروت        ۴/۱۵۳)
کثرت سے علمائے مشاہیر کی اس پر مہریں ہیں، بالجملہ اگر غیر مقلد عقیدہ کفریہ رکھتا ہو تو اس سے نکاح محض باطل وزنا ہے کہ مسلمان عورت کا کافر سے نکاح اصلاً صحیح نہیں اور اگر عقیدیہ کفریہ نہ بھی رکھتا ہو تو بدمذہب سے مناکحت بحکم آیت وحدیث منع ہے، حدیث اوپر گزری ، اور آیت یہ ہے قال اللہ تعالٰی:
ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۴؎۔
نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمھیں چھوئے گی آگ دوزخ کی۔
 (۴؎ القرآن    ۱۱/۱۱۳)
ناظم ندوہ نے اپنے فتوی عدم جواز نکاح سنیہ وشیعہ مطبوعہ مطبع نظامی میں اسی آیت سے استدلال کیا ہے واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔
الساطر الوازر المعتصم بذیل سیدہ ومولاہ امیر المومنین سیدن الصدیق العتیق التقی عبدالوحید غلام صدیق الحنفی الفردوسی العظیم آبادی عفاعنہ ربہ ذوالایادی۔
فتوائے علمائے پٹنہ

(۱) اصاب من اجاب (جو جواب دیا گیا ہے درست ہے۔ ت)

حافظ محمد فتح الدین پنجابی (صدر مجلس اہلسنت پٹنہ، مقیم مرشد آباد)

(۲) ھذا ھوالحق الصریح وماسواہ باطل قبیح (یہ جواب صریح ہے اور اس کے سوا باطل قبیح ہے۔ ت) 

محمد امیر علی (مرحوم) سابق ہیڈ مولوی نارمل اسکول پٹنہ
فتوائے علمائے بہار
 (۱) مبسلا ومحمد او مصلیا اما بعد ماقالہ العلامہ وافادہ الفھامہ حق صریح ومحقق صحیح جدیر بالاعتماد و حقیق بالاستناد ودونہ خرط القتاد ولاینکرہ الااھل الغیّ والعناد والبغی والفساد۔
بسملہ، تحمید اور حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود کے بعد، جو کچھ حضرت علامہ وفہامہ نے کہا وہ واضح حق، مثبت وصحیح، لائق اعتماد واستناد ہے اور اس کا خلاف مشکل ہے، اور سوائے گمراہ، ہٹ دھرم ، باغی اور فسادی کے کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ (ت)
کتبہ خویدم الطلبہ ابوالاصفیا محمد عبدالواحدخاں رامپوری بہاری عفاعنہ

(۲) من کان من  زمرۃ محمد بن عبدالوھاب ممن یتھمون عامۃ امۃ مرحومۃ با لشرک والکفر علی زعمھم الفاسد وفھمھم الکاسد فھو من الزنادقۃ والملاحدۃ ولایجوز بہ المناکحۃ والمخالطۃ وکذٰلک من کان من الغیر المقلدین من یرکن الی المجسمیۃ والمشبھیۃ والرافضیۃ فی السوء۔
تمام امت مرحومہ کو اپنے زعم فاسد اور فہم کا سد کی بناء پر شرک وکفر کے ساتھ متہم کرنے والے محمد بن عبدالوہاب کے گروہ سے تعلق رکھنے والاشخص زندیق وملحد ہے اور اس کے ساتھ نکاح اور میل جول ناجائز ہے، اور یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جو غیر مقلدین میں سے اور مجسمیہ، مشبہیہ اور روافض کی طرف میلان رکھتا ہو۔ (ت)

حررہ محمد یوسف بہاری
 (۳) اصاب من اجاب جزی اﷲ المحقق المدقق وحامی السنۃ وماحی البدعۃ مولانا متنظم التحفۃ خیر الجزاء۔ واﷲ اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔
مجیب نے درست جواب دیا ، محقق، مدقق، سنت کے حامی، بدعت کو مٹانے والے، ہمارے سردار اور تحفہ حنفیہ کے منتظمہ کو اللہ تعالٰی بہترین جز ا عطا فرمائے، اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اورا س کی طرف ہی لوٹنا ہے۔ (ت)

جنا ب مولانا حکیم (ابوالبرکات) استھانوی بہاری
 (۴) حامدا ومصلیا قد صح ما فی ھذہ الفتوی کیف لاوھی مملوۃ من الروایات الفقھیۃ المعتبرۃ والاحادیث الصحیحۃ فالمجیب مصیب بلاامتراء جزاہ اﷲ سبحٰنہ بفضلہ الاوفی خیر الجزاء حیث صرف ھمۃ العلیا و بذل جھدہ بالنھج الاعلی فی رد الکلمات السفلی من اجاب فقد اصاب ودونہ خرط القتاد، واﷲ اعلم بالصواب فقط
اللہ تعالٰی کی حمدکرتے اور نبی کریم پر درود بھیجتے ہوئے کہتاہوں کہ جوکچھ اس فتوٰی میں ہے درست ہے، کیسے نہ ہو جبکہ یہ فتوٰی معتبر فقہی روایات اور صحیح احادیث سے لبریز ہے اور مجیب بلاشبہ مصیب ہے۔ اللہ تعالٰی اپنے بے انتہا فضل سے مجیب کو جزائے خیر عطا فرمائے جس نے کلمات سفلی کے رد میں اپنی بلند ہمتی اور سعی بلیغ کو کامل طریقے سے بروئے کار لایا۔ مجیب نے درست کہا جس کے خلاف کہنا مشکل وناممکن ہے واللہ تعالٰی اعلم بالصواب فقط (ت)
حررہ خویدم الطلبۃ الراجی الٰی رحمۃ ربہ المنان السید محمد سلیمان اشرف البہاری المرداوی عفی عنہ۔

(۵) حامد اومصلیا، الجواب حق فما ذا بعد الحق الاالضلال۔
اللہ تعالٰی کی حمد کرتے ہوئے اور نبی اقدس پر درود بھیجتے ہوئے کہتا ہوں کہ جواب حق ہے اور حق کے بعد سوائے گمراہی کے کچھ نہیں۔ (ت)

کتبہ خادم الطلبہ خاکسار سید ناظر حسین بہاری المرداوی
فتوائے علمائے بدایوں
 (۱) المجیب مصیب
(جواب درست ہے۔ ت)

محب الرسول عبدالقادر قادری
 (۲) لاریب فیہ
(اس میں کوئی شک نہیں۔ ت)

مطیع الرسول محمد بن عبدالمقتدر قادری
 (۳) الجواب صحیحٌ
(جواب صحیح ہے۔ ت)

محمد عبدالقیوم قادری
Flag Counter