Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
98 - 1581
مسئلہ۱۹۸: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ سید شاہ محمد کمال صاحب ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ

حضرت مولانا صاحب قبلہ! اگر کسی مرد نے اپنی رضاعی ساس اور رضاعی سالی کے ساتھ ایک دفعہ یا دودفعہ زنا کیا ہو سہوا یا عمدا تو اس حالت میں بی بی کا نکاح باقی رہے گا یا نہیں؟ اور اگر نکاح نہیں رہا تو پھر اس بی بی سے کسی طرح نکاح یا وہی بی بی اپنے شوہر پر پھر حلال ہوسکتی ہے یا نہیں؟ مگر قبل اس فعل کے اس مرد کوا س مسئلے سے واقفیت نہ تھی۔ بینوا تو جروا
الجواب: سالی اگرچہ خاص نسبتی حقیقی ہو اس سے معاذاللہ زنا اگرچہ بارہا ہو عورت کو اصلاً حرام نہیں کرتا۔
فی الدرالمختار فی الخلاصۃ وطی اخت امرأتہ لاتحرم علیہ امرأتہ ۱؎۔
درمختار میں ہے کہ خلاصہ میں ہے کہ سالی سے وطی بیوی کو حرام نہیں کرتی۔ (ت)
(۱؎ درمختار    فصل فی المحرمات    مجتبائی دہلی            ۱/۲۸۸)
ہاں اگر سالی سے شبہہ اور دھوکے میں وطی ہوجائے تو جب تک سالی اس وطی بالشبہہ کی عدت سے نہ نکلے مرد اپنی منکوحہ کو ہاتھ نہیں لگاسکتا کیلا یلزم الجمع بین المحارم عدۃ (تاکہ عدت میں دو محرم عورتیں ایک کے لیے جمع نہ ہوں۔ ت) یہ حرمت اتنے ہی دنوں کے لیے ہوگی بعد اختتام عدت عورت بدستور حلال ہوجائیگی
فی ردالمحتار قولہ لاتحرم ای لاتثبت حرمۃ المصاھرۃ فالمعنی لاتحرم حرمۃ مؤبدۃ والافتحرم الی انقضاء عدۃ الموطؤۃ لو بشبھۃ قال فی البحر لو وطی اخت امرأۃ بشبھۃ تحرم علیہ امرأتہ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ ۲؎۔
ردالمحتار میں ہے اس کے قول ''حرام نہیں'' کا مطلب مصاہرت کی حرمت ابدی نہیں ہے ورنہ سالی کے ساتھ شبہہ میں وطی سے اس کی بیوی عدت پوری ہونے تک حرام رہتی ہے۔ بحر میں کہاہے اگر سالی سے شبہہ کی بناپر وطی ہوجائے تو بیوی حرام رہتی ہے جب تک شبہہ والی وطی کی عدت پوری نہ گزرجائے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار     فصل فی المحرمات     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۸۱)
اور ساس اگرچہ رضاعی ہو یعنی زوجہ کی رضاعی ماں یا رضاعی نانی دادی عیاذاً باللہ اس سے زنا بلکہ دواعی  وطی بھی یعنی  بشہوت اس کے کسی جز وبدن کو چھوجانا اگرچہ ایسے حائل کے ساتھ کہ اس کے جسم کی گرمی اسے محسوس ہونے سے منع نہ کرے یا بشہوت اس کی فرج داخل پر نظر پڑجانا  جبکہ یہ دواعی دواعی رہیں یعنی ان سے انزال واقع نہ ہو اگرچہ وہ زنا یا داعی زنادانستہ ہو یا بھول کر یا دھوکے سے یا کسی کے جبر واکراہ سے بہرحال زوجہ کو حرام ابدی اور نکاح کو فاسد کردیتا ہے، عورت کو فوراً چھوڑدینا اور اس نکاح فاسد شدہ کو فسخ کرنا واجب ہوجاتا ہے اب زوجہ کبھی اس کے لیے حلال نہ ہوگی نہ کبھی اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ یہی مذہب ہمارے جمیع ائمہ اور امام احمد اورا مام مالک فی احد الروایتین (دو روایتوں میں سے ایک روایت میں۔ ت) اور اکابر صحابہ مثل امیر المومنین عمرفاروق اعظم وحضرت عبداللہ بن مسعود وحضرت عبداللہ بن عباس فی الاصح عنہ (ان سے اصح روایت میں ۔ ت) اور حضرت ام المومنین صدیقہ وابی بن کعب وجابر بن عبداللہ وعمران بن حصین اور جمہور تابعین مثل امام حسن بصری وامام ابراہیم نخعی وامام طاؤس وامام عطا بن ابی رباح وامام مجاہد وامام سعید بن المسیب وامام سلیمٰن بن یسار وامام حماد  بن ابی سلیمن وغیرہم ائمہ دین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا ہے۔
کما ذکر ہ فی الفتح وغیرہ وفی الدرالمختار حرم اصل مزنیۃ وممسوسۃ بشھوۃ ولو بشعر علی الرأس بحائل لایمنع الحرارۃ والمنظور الی فرجھا الداخل وفروعھن مطلقا اذا لم ینزل فلو انزل مع مس اونظر فلاحرمۃ ولافرق فیما ذکربین عمدو نسیان وخطاء واکراہ ۱؎ اھ ملتقطا،
جیساکہ اس کو فتح وغیرہ میں ذکر کیا ہے اور درمختار میں ہے کہ مزنیہ اور وہ عورت جس کو حرارت بدنیہ سے مانع چیز کے بغیر شہوت کے ساتھ مس کیا ہو خواہ سرکے بالوں کو مس کیا ہو اور وہ عورت جس کی فرج داخل پر شہوت سے نظر پڑی ہو تو ان عورتوں کے اصول و فروع اس مرد پر مطلقا حرام ہوجاتے ہیں بشرطیکہ اس وقت اس کو انزال نہ ہوا ہو او رنظر یا مس کے وقت انزال ہوجائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی اس میں فرق نہیں خواہ قصدا ہو یا بھول کر یا خطاء یا جبراً ہو اھ ملتقطا،
 (۱؎ درمختار    فصل فی المحرمات    مجتبائی دہلی            ۱/۱۸۸)
وفی ردالمحتار قال فی البحرار ادبحرمۃ المصاہرۃ الحرمات الاربع حرمۃ المرأۃ علی اصول الزانی وفروعہ نسباورضاعاوحرمۃ اصولھا وفرو عھا علی الزانی نسبا ورضاعا کمافی الوطی الحلال ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اور ردالمحتار میں ہے بحر میں کہا ہے کہ حرمت مصاہرت سے چار حرام مرادہیں۔ مرد پر عورت کے اصول و فرو ع نسبی ورضاعی اور عورت پر مردکے اصول فروع نسبی ورضاعی، جیسا کہ وطی حلال میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار  فصل فی المحرمات       داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۷۹)
Flag Counter