مسئلہ ۱۹۶: از ریاست رامپور مرسلہ جناب نوشہ میاں صاحب ۲۰ محرم ۱۳۱۶ھ
جناب کا یہ فتوی جس کی نقل حاضرکی جاتی ہے علمائے رامپور کے حضور بغرض مہر پیش ہوا جناب مفتی محمد لطف اللہ صاحب نے فرمایا یہ نقل ہے اورا س میں جو لکھا ہے کہ جو عورت ایسے عقیدہ کی ہو وہ مرتدہ ہے اس کا نکاح نہ کسی مسلمان سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتدسے نہ اس کی ہم مذہب سے مجھے اس میں تامل ہے اس کے ہم مذہب سے نہ ہونے کی سند کیا ہے، مولوی صاحب ( یعنی جناب) اس کی سند لکھ کر مہر فرمادیں تو مجھے مہر کرنے میں عذر نہیں لہذا نقل فتوی مرسل خدمت ہے۔ یہ فتوی جناب کا تحریر فرمایا ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس حکم کی سند کیا ہے؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: فی الواقع یہ فتوٰی فقیر ہی کا لکھا ہوا ہے اور دربارہ مرتد ومرتدہ حکم شرعی یہی ہے کہ ان کا نکاح نہ کسی مسلم و مسلمہ سے ہوسکتا ہے نہ کافر وکافرہ سے۔ نہ مرتد ومرتدہ سے ان کے ہم مذہب خواہ مخالف مذہب سے، ٖغرض تمام جہاں میں کہیں نہیں ہوسکتا۔
مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی پھرفتاوٰی ہندیہ میں ہے: لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدہ ولامسلمۃ لاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المر تدۃ مع احد ۱؎۔
مرتد شخص کو مرتدہ، مسلمان ہو یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں، یوں ہی مرتدہ عورت کسی مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں۔ (ت)
( ۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح القسم السابع المحرمات بالشرک نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۲)
مرتدہ کا نکاح کسی کے ساتھ جائز نہیں۔ مجوسیہ مسلمان کو حلال نہیں وہ ہر اصلی کافر کے لیے حلال ہے اور مرتد کے لیے حلال نہیں۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب فی المحرمات نولکشور لکھنؤ ۱/۱۶۷)
اسی میں ہے:
المبیض اذاتزوج مبیضۃ بشھود و ولی ان کانا یظھران الکفر اواحدھما کانا بمنزلۃ المرتدین لم یصح نکاحھما ۳؎ مختصرا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
منافق نے اگر منافقہ عورت سے اس کے ولی اورگواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا اور اپنے کفر کو ان دونوں نے یا ان میں سے ایک نے ظاہر کردیا تو ان کا حکم بھی مرتدوں والاہوگا اور ان کا نکاح صحیح نہ ہوگا اھ مختصرا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب فی المحرمات نولکشور لکھنؤ ۱/۱۶۷)
مسئلہ ۱۹۷: از گلگت چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب ۷ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ وغیرہ بد مذہبوں کے ساتھ شادی کرنا کیسا ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب: جو ان میں کوئی عقید ہ کفر رکھتا ہے جیسے آج کل کے عام رافضی، اس کے ساتھ کسی کا نکاح ہوہی نہیں سکتا یہاں تک کہ خود اس کے ہم مذہب کابھی ، اور جو بد مذہب عقائد کفر سے بچا ہو اس کے ساتھ نکاح اگر چہ بایں معنی درست کہ کرلیں تو درست ہوجائے گا زنا نہ ہوگا مگر بد مذہبوں کے ساتھ ایسا بڑا علاقہ پیدا کرنے سے دور بھاگنا لازم، زوجیت وہ عظیم رشتہ ہے کہ خواہی نخواہی باہم انس ومحبت والفت پیدا کرتا ہے،
قال اللہ تعالٰی:
ومن اٰیتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ان فی ذٰلک لاٰیت لقوم یتفکرون ۱؎۔
(۱؎ القرآن ۳۰/۲۱)
اللہ کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے بنائیں تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جو روئیں کہ تم ان کی طرف رغبت کرو ان سے مل کر چین پاؤ اور تمھارے آپس میں دوستی اور مہر رکھی، بیشک اس میں ٹھیک نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے، اور بد مذہب سے دوستی پیدا ہونی اس کی محبت دل میں آنی دین کو سخت نقصان دیتی ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المرء مع من احب ۲؎
آدمی کا حشراس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتاہے۔
(۲؎ صحیح مسلم باب المرء مع من قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۳۲)
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل ۳؎۔ رواہ ابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ باسناد حسن۔
آدمی اپنے خاص دوست کے دین پر ہوتا ہے تو غور کرے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔ (ا س کو ابوداؤد اور ترمذی نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
(۳؎ سنن ابو داؤد با ب من یؤمر ان یجالس الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۰۸)
انہی آیات واحادیث سے یہ بھی واضح ہوا کہ بدمذہب عورت کو نکاح میں لاتے وقت یہ خیال کرلینا کہ ہم اس پر غالب ہیں اس کی بدمذہبی ہمیں کیا نقصان دے گی بلکہ اسے سنی کریں گے محض حماقت ہے یہ رشتہ تو دوستی میل رغبت میل محبت مہر پیدا کرتاہے اور محبت میں آدمی اندھا بہرا ہوجاتا ہے، حدیث میں فرمایا:
حبک الشیئ یعمی ویصم ۴؎۔ رواہ احمد والبخاری فی التاریخ وابوداؤد عن ابی الدرداء وابن عساکر بسند حسن عن عبداﷲ بن انیس والخرا ئطی فی الاعتلال عن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
شیئ کی محبت تجھے اندھا اور بہرا کردیتی ہے۔ اس کو احمد، بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابو داؤد نے ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ، اور ابن عساکرنے اس کو عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، اور خرائطی نے اعتلال میں ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔ (ت)
(۴؎ مسند احمد بن حنبل مرویات ابوالدرداء دارالفکر بیروت ۶/۴۵۰)
دل پلٹتے، خیال بدلتے کچھ دیر نہیں لگتی اللہ عزوجل اپنے حفظ وامان ہی میں رکھے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان القلوب بین اصبعین من اصابع اﷲ یقلبھا کیف یشاء ۱؎۔ رواہ احمد و الترمذی والحاکم عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ورجالہ رجال مسلم۔
دل اللہ تعالٰی کے خاص تصرف میں ہیں جس طرح چاہتا ہے ان کو پھیرتا ہے۔ اس کو حاکم نے، احمد اور ترمذی نے انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اس سند کے راوی رجال امام مسلم ہیں۔ (ت)
(۱؎مسند احمد بن حنبل مروی از عبداللہ بن عمر دارالفکربیروت ۲/۱۶۸)
اور اپنی بیٹی دینا تو سخت قہر، قاتل زہر ہے کہ عورتیں مغلوب ومحکوم ہوتی ہیں، قال اللہ تعالٰی:
الرجال قوامون علی النساء ۲؎
(مرد، عورتوں کے منتظم ہیں۔ ت)
(۲؎ القرآن ۴/۳۴)
پھر انھیں شوہر کی محبت بھی ماں سے باپ سے تمام دنیا سے زیادہ ہوتی ہے، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان للزوج من المرأۃ لشعبۃ ماھی لشیئ ۳؎۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
خاوند کے لیے بیوی کو خاص محبت ہوتی ہے جو کسی دوسرے سے نہیں۔ اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
(۳؎ مستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ۴/۶۲)
پھر وہ نرم دل بھی زائد ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رویدک یا انجشۃ بالقواریر ۴؎۔
اے انجشہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نرم ونازک عورتوں کا پاس کر۔ (ت)
(۴؎ صحیح بخاری باب المعاریض، مندوحۃ عن الکرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۱۷)
ناقصات العقل والدین بھی ہیں قالہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کمافی الصحیح یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاا رشاد ہے جیساکہ صحیح حدیث میں ہے۔ ت)
پھر یہ سب اس صورت میں ہے جہاں شوہر کا کفو عورت نہ ہونا مانع صحت نہ ہو ورنہ نکاح محض باطل ہوگا۔ کما فصلناہ فی فتاوٰنا (جیسے ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں مفصل بیان کیا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔