اقول نیز اس کے مؤید ہے وہ حدیث کہ غایہ سمعانیہ میں حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من نظر الٰی فرج امرأۃ بشھوۃ حرمت علیہ امھا وبنتھا ۲؎۔
جو کسی عورت کی فرج کو شہوت سے دیکھے اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہوجائیں،
(۲؎ البنایہ شرح الہدایہ فصل فی نکاح المحرمات مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ ۲/۴۱)
دوسری حدیث میں ہے:
ملعون من نظر الی فرج امرأۃ وبنتھا ۳؎۔
ملعون ہے وہ جوکسی عورت اور اس کی بیٹی دونوں کی فرج دیکھے۔
(۳؎ البنایہ شرح الہدایہ فصل فی نکاح المحرمات مکتبہ امدادیہ مکہ مکرمہ 41 /2)
عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
من نظر الٰی فرج امرأۃ وبنتھا لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیامۃ ۴؎۔
جو کسی عورت اور اس کی دختر دونوں کی فرج دیکھے اللہ تعالٰی روز قیامت اس پر نظر رحمت نہ کرے۔
اس حرمت کے پیدا ہونے سے مرد وزن کو جدا ہوجانااورا س نکاح فاسد شدہ کا فسخ کردینا فرض ہوجاتا ہے مگرخود بخود نکاح زائل نہیں ہوجاتا، یہاں تک کہ شوہر جب تک متارکہ نہ کرے اور بعد متارکہ عدت نہ گزرے عورت کو روا نہیں کہ دوسرے سے نکاح کرے، اور قبل متارکہ شوہر کا اس سے وطی کرنا حرام ہوتا ہے مگر زنا نہیں کہ نکاح باقی ہے، ولہٰذا اس وطی سے جو اولاد پیدا ہو صحیح النسب ہے ایسے نکاح کے ازالہ کو جو الفاظ کہے جائیں طلاق نہیں بلکہ متارکہ کہلاتے ہیں اگرچہ بلفط طلاق ہوں یہاں تک کہ ان سے عدد طلاق کم نہیں ہوتا،
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا لہذا دوسرے شخص سے نکاح نہیں کرسکتی جب تک خاوند متارکہ نہ کرے اور عدت نہ گزر جائے، اس دوران اگر خاوند نے وطی کی تو وہ زنا نہیں ہوگا۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی الذخیرۃ ذکر محمد فی نکاح الاصل ان النکاح لایرفع بحرمۃ المصاہرۃ والرضاع بل یفسد حتی لووطئھا الزوج قبل التفریق لایجب علیہ الحد اشتبہ علیہ اولم یشتبہ ۳؎۔
ذخیرہ میں ہے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے اصل یعنی مبسوط کی بحث نکاح میں ذکر فرمایا کہ حرمت مصاہرت اور حرمت رضاعت کی بنا پر نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ فاسد ہوتاہے لہذا اگر خاوند نے تفریق سے قبل وطی کرلی تو اس پر زنا کی حد نہیں ہوگی۔ اس کو کوئی اشتباہ ہویا نہ ہو۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۳)
اسی میں ہے:
قال فی الحاوی والوطئی فیھا لایکون زنا لانہ مختلف فیہ وعلیہ مھرالمثل بوطئھا بعدالحرمۃ ولاحد علیہ ویثبت النسب ۱؎۔
حاوی میں ہے کہ اس مدت میں وطی کو زنا نہ کہا جائےگاکیونکہ یہ بات مختلف فیہ ہے جبکہ بیوی کے حرام ہونے کے بعد وطی کرنے سے مہر مثل لازم ہوگا اور بچہ ہو تو اس کا نسب ثابت ہوگا اور اس پر حد زنا نہ ہوگی۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۳)
اسی میں ہے:
فی البزازیہ المتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الابقول کخلیت سبیلک اوترکتک ومجرد انکار النکاح لایکون متارکۃ اما لو انکر وقال ایضا اذھبی وتزوجی کان متارکۃ والطلاق فیہ متارکۃ لکن لاینقص بہ عدد الطلاق ۲؎۔
بزازیہ میں ہے کہ فاسد نکاح میں دخول کے بعد متارکہ صرف زبانی ہوسکتا ہے، مثلا یہ کہے میں نے تجھے نکاح سے آزاد کیا، یا یوں کہے میں نے تجھے چھوڑدیا، اور صرف سابقہ نکاح سے انکار کو متارکہ نہ کہا جائے گا، ہاں اگر نکاح کے ساتھ یہ بھی کہے کہ جا نکاح کر، تو متارکہ ہوجائے گا۔ اور اس موقعہ پر طلاق دینے سے متارکہ ہوجائے گا لیکن اس سے عدد طلاق کم نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۲۔ ۲۵۱)
اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ اس حالت میں اگر شوہر نے نہ چھوڑا اور ناجائز طور پر ہندہ سے وطی کرتا رہا اور اولاد ہوئی تو وہ اولاد اپنے ماں باپ دونوں کی وارث ہے، ماں کی وراثت تو ظاہر کہ اولاد زنا بھی اپنی ماں کی میراث پاتی ہے کما نصوا علیہ والمسألۃ فی الدر وغیرہ (جیسا کہ فقہاء کرام نے اس پر نص کی ہے اور یہ مسئلہ در وغیرہ میں ہے۔ ت) او رباپ کی وراثت یوں کہ ابھی منقول ہوچکا کہ ایسی حالت کی اولاد ولدالزنا نہیں صحیح النسب ہے، ہاں زن وشوہر ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔ وا ﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔