Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
95 - 1581
دوم اس کے بھائی کے پوتے اسحق بن محمد بن اسمعیل بن عبداللہ بن ابی فروہ یہ تبع تابعین سے بھی نہیں، ان کے تلامذہ سے ہیں، رجال بخاری وترمذی وابن ماجہ سے ، امام بخاری کے استاذ ہیں، ۳۲۶ھ میں انتقال کیایہ ہرگز متروک نہیں، امام بخاری نے خود جامع صحیح میں ان سے روایت کی تووہ ان کی نسبت "ترکوہ" کیونکر فرماتے ، ابن حبان نے انھیں ثقات میں ذکرکیا، اور ابو حاتم وغیرہ نے صدوق کہا، البتہ کلام سے خالی یہ بھی نہیں، امام نسائی نے کہا ثقہ نہیں، امام دارقطنی نے کہا ضعیف ہیں، ائمہ مجتہدین امام بخاری پر ان سے روایت کرنے میں معترض ہیں، امام ابو حاتم نے کہا مضطرب الحدیث ہیں آنکھیں جانے کے بعد بارہا ہوتا کہ جیساکوئی سکھادیتا  ویسے ہی روایت کرنے لگتے۔ عقیلی نے کہا امام مالک سے بکثرت وہ حدیثیں روایت کیں جن پر ان کا کوئی متابع نہیں، امام ابوداؤد نے سخت ضعیف کہا، امام الشان نے فرمایا آنکھیں جاکر حفظ خراب ہوگیاتھا،
امام حافظ عبدالعظیم منذری کی ترغیب میں ہے:
اسحق بن محمد بن اسمعیل بن ابی فروہ الفروی صدوق روی عنہ البخاری فی صحیحہ، وقال ابوحاتم وغیرہ صدوق ، وذکرہ ابن حبان فی الثقات و وھاہ ابوداؤد وقال النسائی لیس بثقۃ ۱؎۔
اسحق بن محمد بن اسمعیل بن ابی فروہ الفروی صدوق ہے، اس سے بخاری نے اپنی صٰحیح میں روایت کیا ہے، اور ابوحاتم وغیرہ نے کہا یہ صدوق ہے، اس کو ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے،اور ابوداؤد نے اس کو کمزور بتایا ہے اور نسائی نے کہا یہ ثقہ نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ الترغیب والترھیب  باب ذکر الرواۃ المختلف فیہم الخ  مصطفی البابی مصر    ۴/۵۶۷)
میزان الاعتدال میں ہے:
ھو صدوق فی الجملۃ، صاحب حدیث، قال ا بوحاتم صدوق ذھب بصرہ فربما لقن وکتبہ صحیحۃ، وقال مرۃ مضطرب، وقال العقیلی جاء عن مالک باحادیث کثیرۃ لایتابع عن مالک باحادیث کثیرۃ لایتابع علیھا، وذکرہ ابن حبان فی الثقات، وقال النسائی لیس بثقہ، وقال الدارقطنی لایترک، وقال ایضا ضعیف قدروی عنہ البخاری ویوبّخونہ علی ھذا، وکذا ذکرہ ابوداؤد ووھاہ جدا۱؎۔
وہ مجموعی طور پر صدوق ہے اور صاحب حدیث ہے، ابوحاتم نے کہا یہ صدوق ہے اور اس کی نظر ضائع ہوگئی تھی اور بعض اوقات دوسرے کی بات مان لیتا تھا اور اس کی کتب حدیث صحیح ہیں، اور انھوں نے کبھی ا س کو مضطرب قرار دیا ہے، اور عقیلی نے کہا کہ اس نے امام مالک سے کثیر روایات ذکرکیں لیکن ان کی تائیدنہ ہوئی، اور اس کو ابن حبان نے ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے، اور نسائی نے کہا کہ ثقہ نہیں ہے، اور دارقطنی نے کہا کہ یہ متروک نہیں، اور ضعیف بھی کہا ہے، اور بخاری نے اس سے روایت کیا ہے اس وجہ سے امام بخاری پر طعن بھی ہوا ہے، ابوداؤد نے یوں ہی کہا اور اس کو بہت کمزور قرار دیا۔ (ت)
 (۱؎ میزان الاعتدال    حرف الالف ترجمہ ۷۸۵            دارالمعرفۃ بیروت        ۱/۱۹۹)
تقریب میں ہے: صدوق ، کف فساء حفظہ ۲؎ ( صدوق ہے۔ اس کا حفظ کمزور ہوگیا تھا۔ ت)
 (۲؂تقریب التہذیب    حرف الالف   ترجمہ ۳۸۱            دارالکتب العلمیہ بیروت        ۱/۸۴)
تہذیب التہذیب میں ہے:قال البخاری مات ۲۳۶ ؁ ۳؂(امام بخاری رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: وہ ۲۳۶ میں فوت ہوا۔ ت)
 (۳؎ تہذیب التہذیب    حرف الالف  ترجمہ ۴۶۶            دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد بھارت    ۱/۲۴۸)
پر ظاہر کہ اس حدیث کے راوی یہی اسحق بن محمد فروی متکلم فیہ ہیں نہ کہ وہ اسحق بن عبداللہ فروی متروک ، بہر حال ایک موضع کلام تو ا س کی سند میں یہ ہے۔
ثانیا اقول دوسرا محل کلام اسحق مذکور کے شیخ عبداللہ میں ہے ائمہ محدثین کا ان میں کلام معروف ہے، امام ترمذی نے باب فیمن یستیقظ بللاولایذکر ا حتلاما (با ب جو نیند سے بیدار ہوکر کپڑے پر رطوبت پائے مگر احتلام یاد نہ ہو۔ ت) میں ایک حدیث ان سے روایت کرکے فرمایا:
عبداﷲ ضعفہ یحٰیی بن سعید من قبل حفظہ فی الحدیث ۴؎۔
عبداللہ کو امام یحیٰی بن سعید قطان نے نقصانِ حافظہ کی رو سے حدیث میں ضعیف بتایا۔
 (۴؎ جامع الترمذی    ابواب الطہارۃ باب فیمن یستیقظ ویری بللاالخ    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱/۱۶)
اسی کے ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی الوقت الاول من الفضل (ابواب الصلوٰۃ، باب اول وقت کی فضیلت کے بیان میں ۔ ت) میں ہے:
عبداﷲ بن عمرالعمری لیس ھو بالقوی عنداھل الحدیث ۵؎۔
عبداللہ بن عمر العمری محدثین کے نزدیک چنداں قوی نہیں۔
 (۵؎ جامع الترمذی   باب ماجاء فی الوقت الاول الخ         امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/۲۴)
امام نسائی نے کہا قوی نہیں، امام علی بن مدینی نے کہا ضعیف ہیں، ابن حبان نے کہا:
کان ممن غلب علیہ الصلاح والعبادۃ حتی غفل عن حفظ الاخبار وجودۃ الحفظ للآثار فلما فحش خطؤہ استحق الترک۱؎۔
صلاح وعبادت نے ان پر یہاں تک غلبہ کیا کہ حفظِ احادیث سے غافل ہوئے حدیثیں خوب یاد نہ رہیں جب خطا بکثرت واقع ہوئی ترک کے مستحق ہوگئے۔
 (۱؎ میزان الاعتدال    حرف العین ترجمہ ۴۴۷۲    دارالمعرفہ بیروت    ۲/۴۶۵)
امام احمد ویحیٰی سے ان کی توثیق کے اقوال بھی ہیں مگر قول فیصل یہ قرارپایا کہ حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا: ضعیف عابد ۲؎ (کمزور عابد ہے۔ ت)
 (۲؎ تقریب التہذیب   حرف العین ترجمہ ۳۵۰۰    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱/۵۱۶)
ثالثا اقول اس حدیث سے جواب کو وہی آیہ کریمہ ومسئلہ زن مظاہرہ کافی ظہار میں جماع حرام تھا پھر اس نے مظاہرہ کی دختر حلال کو کیونکر حرام کردیا۔
رابعاً یہ حدیث جس طرح ابن ماجہ نے روایت کی کہ اگرکچھ قابل ذکر ہے تو یہی۔ اگر اس کے ضعف سند سے قطع نظر بھی کی جائے تو اس میں کوئی قصہ سوال اس حدیث متروک وساقط کی طرح نہیں صرف اتنا بیان ہے کہ حرام حلال کو حرام نہیں کرتا ، یہ اپنے ظاہر پر تویقینا صحیح نہیں، کیا اگر قلیل پانی یا گلاب میں شراب یا پیشاب ڈال دیں تو اسے حرام نہ کردیں گے!
اقول کیا کونی اگر زنا سے جنب ہو تو اسے نمازوقرأت ودخول مسجد وطواف کعبہ کہ حلال تھے حرام نہ ہوجائیں گے! کیا اگر کوئی ظالم کسی مظلوم کی بکری کا گلا گھونٹ کر مار ڈالے تو اس کا یہ فعل کہ اگر اپنے مال کے ساتھ ہوتا جب بھی بوجہ اضاعت مال حرام تھا اور مال غیر کے ساتھ ظلما حرام د رحرام اس حلال جانور کو حرام نہ کردے گا! کیا اگر کوئی شخص اپنی عورت کو ایک ہفتہ میں تین طلاقیں دے خصوصاً ایام حیض میں تو اس فعل حرام درحرام سے وہ زن حلال اس پر حرام نہ ہوجائے گی! صدہا صورتیں ہیں جن میں حرام حلال کو حرام کردیتا ہے، تویہ اطلاق کیونکرمراد ہوسکتا ہے، لاجرم تاویل سے چارہ نہیں کہ حرام من حیث ہو حرام ، حلال کو حرام نہیں کرتا۔
اقول یعنی بول وشراب نے جو آب وگلاب کو حرام کیا نہ بوجہ اپنی حرمت کے بلکہ اس جہت سے کہ یہ نجس تھے اس سے مل کر اسے بھی نجس کر دیا ،اب اس کی نجاست باعث حرمت ہوئی اور اگر کوئی شئی طاہر حرام کسی حلال میں ایسی مل  جائے کہ تمیز ناممکن ہو تو ہم تسلیم نہیں کرتے کہ وہ حلال خود حرام ہوگیا بلکہ حلال اپنی حلت پر باقی ہے اور مخلوط کا تناول اس لیے ناجائز کہ بوجہ اختلاط اس کا تناول تناول حرام سے خالی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اگر جدا ہوسکے اور جدا کرلیں تو حلال بدستور اپنی حلت پر ہو کما لایخفی (جیساکہ مخفی نہیں۔ ت) یونہی زنا سے نماز وغیرہ کو اس حیثیت سے حرام نہ کیا کہ وہ زنا ہے کہ خصوصیت زنا کو اس میں کیا دخل، بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ فرج مشتہی میں ایلاج مشتہی ہے وقس علی ذلک البواقی (باقی کو اس پر قیاس کرو۔ ت)اب ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اور حدیث ہم پر وارد نہیں، یہاں بھی عورت سے زنا کرنے  نے دختر زن کو اس بنا پر حرام نہ کیا کہ وہ زنا ہے کہ خصوصیت زنا کو اس میں  بھی دخل نہیں بلکہ اسی حیثیت سے حرام کیا کہ وہ وطی وادخال ہے تو "دخلتم بھن" صادق آیا اور دختر موطوہ کی حرمت لایاتو اس حدیث ضعیف میں بھی مخالف کے لیے اصلا حجت نہیں وللہ الحمد۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں یہاں بعض احادیث اپنے مذہب کی مؤیدات ذکر فرمائیں، ازانجملہ،
قال رجل یا رسول اﷲ انی زنیت بامرأۃ  فی الجاھلیۃ افانکح ابنتھا قال لااری ذٰلک ولایصح ان تنکح امرأۃ تطلع من ابنتھا علی ماتطلع علیہ منھا ۱؎۔
ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک عورت سے زنا کیاتھا اس کی بیٹی سے نکاح کرلوں، فرمایا: میری رائے نہیں اور نہ ایسا نکاح جائز ہے کہ تو بیٹی کی اس چیز پر مطلع ہو جس چیز پر اس کی ماں کی مطلع تھا۔
 (۱؎ فتح القدیر            فصل فی بیان المحرمات    نوریہ رضویہ سکھر    ۳/۱۲۹)
Flag Counter