اولا ا س میں اسحق بن ابی فروہ متکلم فیہ ہیں، اما م عبدالحق نے احکام میں حدیث کو ذکر کرکے فرمایا: فی اسنادہ اسحق بن ابی فروہ وھو متروک ۳؎ (اس کی سند میں اسحاق بن ابی فروہ ہے اور وہ متروک ہے، نقلہ عنہ المحقق فی الفتح (اسے فتح میں شیخ محقق نے اس سے نقل کیا ہے۔ ت)
(۳؎ فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۲۸)
امام ابو الفرج نے علل متناہیہ میں فرمایا:
قد رواہ اسحق بن محمد الفروی عن عبداﷲ بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحرم الحرام الحلال قال یحٰیی الفروی کذاب وقال البخاری ترکوہ ۱؎۔ انتہی۔
یعنی یہ حدیث اسحٰق بن محمد فروی نے بسند خود حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: حرام حلال کو حرام نہیں کرتا، امام یحیٰی بن معین نے فرمایا: فروی کذاب ہے۔ امام بخاری نے فرمایا محدثین کے نزدیک متروک ہے۔ انتہی
وانا اقول وباﷲ التوفیق سبحٰن من لاینسی (اور میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی سے ہی توفیق ہے پاک ہے وہ ذات جو بھولتی نہیں۔ ت) حافظین جلیلین عبدالحق وابی الفرج کو التباس واقع ہوا اسحق بن ابی فروہ خواہ اسحق فروی ۔ دو ہیں: ایک اسحق بن عبداللہ بن ابی فروہ تابعی معاصر وتلمیذ امام زہری رجال ابوداؤد ، و ترمذی وابن ماجہ ہے۔ یہی متروک ہے، اسی کو امام بخاری نے ترکوہ فرمایا
کما فی تھذیب التھذیب و میزان الاعتدال وغیرھما
(جیسا کہ تہذیب التہذیب اور میزان الاعتدال وغیرہما میں ہے۔ ت) تہذیب التہذیب میں ہے: قال ابو زرعۃ وجماعۃ متروک۲؎ ابو زرعہ اور ایک جماعتِ ائمہ نے فرمایا: متروک ہے۔ ت)
(۲؎ تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ مجلس دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن ۱/۲۴۱)
میزان میں ہے؛
لم اراحدامشاہ وقال ابن معین وغیرہ لایکتب حدیثہ ۳؎۔
میں نے کسی کو نہ دیکھا کہ اسے رواں کیا یعنی ا س کی روایت کو کچھ بھی معتبر سمجھاہو۔ امام ابن معین وغیرہ نے فرمایا اس کی حدیث لکھی تک نہ جا ئے۔
(۳؎ میزان الاعتدال حرف الالف ترجمہ ۷۶۸ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۹۳)
دونوں کتابوں میں ہے:
نھی احمد بن حنبل عن حدیثہ وقال ابراھیم الجوزجانی سمعت احمد بن حنبل یقول لاتحل الروایۃ عندی عن اسحٰق بن ابی فروہ ۱؎۔
امام احمد بن حنبل نے اس کی حدیث نقل کرنے سے منع فرمایا: ابراہیم جوزجانی نے کہا میں نے امام احمدبن حنبل کو فرماتے سنا کہ میرے نزدیک اسحق بن ابی فروہ سے روایت حلال نہیں۔
امام ترمذی نے ابواب الفرائض باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل میں حدیث:
القاتل لایرث۲؎ بطریق اسحق بن عبداﷲ عن الزھری عن حمید بن عبدالرحمن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، روایت کرکے فرمایا ھذا حدیث لا یصح واسحق بن عبداﷲ بن ابی فروۃ قد ترکہ بعض اھل العلم منھم احمد بن حنبل ۳؎۔
قاتل وارث نہیں ہوگا، اس حدیث کو اسحق بن عبداللہ ، انھوں نے زہری انھوں نے حمید بن عبدالرحمن انھوں نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرکے فرمایا یہ حدیث صحیح نہیں کہ اسحق بن عبداللہ بن ابو فروہ کو بہت سے اہل علم نے متروک قرار دیا ہے ان میں سے امام احمد بن حنبل ہیں۔ (ت)
(۲؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/۳۲)
(۳؎ جامع ترمذی ابواب الفرائض باب ماجاء فی ابطال میراث القاتل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/۳۲)
ابوالفرج نے موضوعات میں حدیث: الصبحۃ تمنع الزرق ۴؎ بطریق اسمعیل بن ابی عیاش عن ابی فروۃ عن محمد بن یوسف عن عمر وبن عثمن بن عفان عن ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ روایت کرکے کہا ھذا حدیث لایصح وابن ابی فروۃ متروک ۵؎ (ملخصا)
الصبحۃ تمنع الزرق (صبح کو سونا زرق کی (برکت) کے لیے مانع ہے) والی حدیث کو اسماعیل بن عیاش انھوں نے ابن ابی فروہ انھوں نے محمد بن یوسف انھوں نے عمرو بن عثمان بن عفان انھوں نے اپنے والد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرکے کہا یہ صحیح نہیں کیونکہ ابن ابی فروہ متروک ہے ملخصا (ت)
(۴؎ موضوعات ابن جوزی کتاب النوم نوم الصبحۃ دارالفکر بیروت ۳/۶۸)
(۵؎ موضوعات ابن جوزی کتاب النوم نوم الصبحۃ دارالفکر بیروت ۳/۶۸)
امام خاتم الحفاظ نے لآلی میں اس پر تقریر فرمائی اورتعقبات میں بھی اس جرح پر جرح کی، غرض یہ بالاتفاق متروک ہے مگریہ قدیم ہے ۱۳۶ھ میں ا نتقال کیا قالہ ابن ابی فدیک ۶؎ (یہ ابن ابی فدیک نے کہا ہے۔ ت)
(۶؎ تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ دارئرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد بھارت ۱/۲۴۲)
یا ۱۴۴ھ میں کماقالہ ابن سعد وغیرہ واحمد وھذا ھوالصحیح ۷؎ کمافی تہذیب التہذیب (جیسا کہ اس کو ابن سعداور بہت سے حضرات نے بیا ن کیا ہے یہی صحیح ہے جیساکہ تہذیب التہذیب میں ہے۔ ت) یحیٰی بن معلی نے کہ طبقہ حادیہ عشرہ سے ہیں ا سے کہاں پایا۔
( ۷؎ تہذیب التہذیب حرف الالف ترجمہ ۴۴۹ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد بھارت ۱/۲۴۲)