Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
93 - 1581
اقول معہذا نکاح معنی وطی میں حقیقت ہے یا مجاز متعارف قال قائلہم (شاعر نے کہا) ؎
التارکین علی طھر نساء ھم        والناکحین بشطے دجلۃ البقرا
 ( بیویوں کو طہر کی حالت میں چھوڑنے والے دجلہ کے کنارے گائے سے وطی کرتے ہیں۔ ت)
وقال آخر (ایک دوسرے شاعر نے کہا) ؎
کبکر تحب لذیذ النکاح    وتھرب من صولۃ الناکح
 (باکرہ کی طرح کہ وہ جماع کی لذت کو پسند کرتی ہے اور خاوند کے حملہ سے فرار کرتی ہے۔ ت)
تو کریمہ "لاتنکحوا مانکح آباؤکم" (اپنے باپوں کی منکوحہ عورتوں سے نکاح نہ کرو۔ ت) میں لااقل محتمل تو ضرور اور امرفرج میں احتیاط وا جب ، تو جانب تحریم ہی غالب، بلکہ اصل فرج میں حرمت ہے۔ تو جب تک حل ثابت نہ ہو حرمت ہی پر حکم ہو گا پھر مصاہرت مصاہرت میں فرق نہیں تو نفس جماع ہی اگرچہ بروجہ حرام بلانکاح ہو علت تحریم رہے گا۔
ولعلک ان رجعت کلما تھم دریت ان تقریر الدلیل علی ھذا الوجہ احسن مماقیل اذلایرد علیہ ماافادہ فی الفتح بل ھو اصح عندی من کلام الاول ایضا کما یرشدک الیہ ماذکرتہ ھٰھنا علی ھامشہ وباﷲ التوفیق۔
ہوسکتا ہے کہ جب آپ فقہاء کرام کے کلام کی طرف رجوع کریں تو سمجھ جائیں کہ دوسرے قول کے مقابلہ میں دلیل کی یہ تقریر زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس پر فتح کا بیان کردہ اعتراض نہ ہوگا۔ بلکہ میرے نزدیک یہ پہلے کلام سے بھی اصح ہے جیسا کہ اس کے حاشیہ پر یہاں میرا ذکر کردہ بیان تیری رہنمائی کرے گا۔ اللہ تعالٰی سے ہی توفیق ہے۔ (ت)

مخالف کے پاس اس کی حلت پر کوئی دلیل نہیں  مگر حدیث لایحرم الحرام الحلال ۱؎ حرام حلال کو حرام نہیں کرتامگر یہ حدیث کس طرح مخالف کی دلیل  ہوسکے جبکہ سخت ضعیف وساقط وناقابل احتجاج ہے۔ بیہقی بآنکہ انتصار شافعیت میں اہتمام شدید رکھتے ہیں اسے حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کرکے تضعیف کردی کما فی التیسیر شرح الجامع الصغیر ۱؎ (جیسا کہ جامع صغیر کی شرح تیسیر میں ہے۔ ت)
 (۱؎ سنن الکبرٰی للبیہقی    باب الزنا لایحرم الحلال    دارصادر بیروت    ۷/۱۶۹) 

( ۱؎ التیسیرشرح الجامع الصغیر    حرف لا    مکتبہ امام شافعی ریاض سعودیہ    ۲/۵۰۴)
اقول دلیل ضعف کو یہی کافی کہ ام المومنین خود قائل حرمت کما تقدم (جیسا کہ گزرا۔ ت) اگر اس با ب میں خود ارشاد اقدس حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سنے ہوتے تو خلاف کے کیا معنی تھے لاجرم امام احمد نے فرمایا نہ وہ ارشاد اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے نہ اثرام المومنین ، بلکہ عراق کے کسی قاضی کا قول ہے کما فی الفتح۲؎ (جیسا کہ فتح میں ہے۔ ت)
(۲؎ فتح القدیر    فصل فی بیان المحرمات    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/۱۲۸)
روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما میں عثمٰن بن عبدالرحمن وقاصی ہے جو سید نا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قاتل عمرو بن سعد کا پوتا ہے۔ امام بخاری نے فرمایا ترکوہ ۳؎ محدثین نے اسے متروک کردیا۔
(۳؎ کتاب الضعفاء الصغیر مع التاریخ الصغیر    باب العین    مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل    ص۲۷۰)

(میزان الاعتدال    حرف العین    ترجمہ۵۵۳۱    دارالمعرفۃ بیروت    ۳/۴۳)
امام ابو داؤد نے فرمایا لیس بشیئ ۴؎ کوئی چیز نہیں ۔
 (۴؎ فتح القدیر    فصل فی بیان المحرمات    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/۱۲۸)
امام علی بن مدینی نے سخت ضعیف۵؎ فرمایا۔ نسائی ودارقطنی نے کہا متروک۶؎ ہے۔ حتی کہ امام یحیٰی بن معین نے فرمایا یکذب۷؎ جھوٹ بولتا ہے۔
 (۵؎ میزا ن الاعتدال    حرف العین    ترجمہ ۵۵۳۱    دارالمعرفہ بیروت    ۳/۴۳)

(۶؎ میزا ن الاعتدال    حرف العین    ترجمہ ۵۵۳۱    دارالمعرفہ بیروت    ۳/۴۳)

( ۷؎ میزا ن الاعتدال    حرف العین    ترجمہ ۵۵۳۱    دارالمعرفہ بیروت    ۳/۴۳)
اقول یہی عثمٰن حدیث ام المومنین صدیقہ کا بھی راوی ہے۔ روایت ابن حبان کتاب الضعفاء میں یو ں  ہے:
حدثنا الحسن بن سفٰین نا اسحٰق بن بھلول نا عبداﷲ بن نافع نا المغیرہ بن اسمٰعیل بن ایوب بن سلمۃ عن عثمان بن عبدالرحمٰن عن ابن شہاب الزھری عن عروہ عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت سئل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الرجل یتبع المرأۃ حراما اینکح ابنتھا اویتبع الابنۃ حراما اینکح امھا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحرم الحرام الحلال انما یحرم ماکان بنکاح حلال۔
ہمیں حدیث بیان کی حسن بن سفیان نے انھوں نے اسحاق بن بہلول سے، انھوں نے عبداللہ بن نافع سے، انھوں نے مغیرہ بن اسمٰعیل بن ایوب بن سلمہ سے،انھوں نے عثمان بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے امام ابن شہاب زھری سے، انھوں نے عروہ سے۔ انھوں  نے حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے، انھوں نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص کسی عورت سے حرامکاری کرے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی یا ماں  سےنکاح کرسکتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا حرام، حلال کو حرام نہیں  بناتا۔ حلال نکاح ہی حرام بناتا ہے۔ (ت)
ابن حبان نے اسے روایت کرکے کہا:
عثمان بن عبدالرحمان ھو الوقاصی یروی عن الثقات الاشیاء الموضوعات لایجوز الاحتجاج بہ ۱؎.
عثمان بن عبدالرحمان وہی و قاصی ہے ثقات سے موضوع خبریں روایت کردیتا ہے اس سے سند لانا حلال نہیں۔
 (۱؎ العلل المتناہیہ    بحوالہ ابن حبان حدیث ۱۰۳۱     دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور    ۲/۱۳۶)
ہاں سنن ابن ماجہ میں روایت حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما یوں آئی:
حدثنا یحٰیی بن معلی بن منصور ثنا اسحق بن محمد الفروی ثنا عبداﷲ بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لایحرم الحرام الحلال ۲؎۔
ہمیں حدیث بیان کی یحیٰی بن معلی بن عثمان بن منصور نے انھوں نے اسحق بن محمد فروی سے انھوں نےنافع سے انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: حرام حلال کو حرام  نہیں بناتا (ت)
(۲؎ سنن ابن ماجہ    باب لایحرم الحرام الحلال        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۱۴۶)
Flag Counter