Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
92 - 1581
ھبۃُ النساء فی تحقق المصاھرۃ بالزنا (۱۳۱۵ھ)

(زناسے حرمت مصاہرہ کے ثبوت میں تحقیق جلیل)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۹۵: از بہار محلہ محلی پر مرسلہ سید محمد عبدالسبحان صاحب حنفی دو م شوال مکرم ۱۳۱۵ھ

وبار دوم از ملک بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاکخانہ امیرآباد موضع بیرکاندب مرسلہ محمد زینت علی صاحب ۱۰ شوال مکرم ۱۳۲۵ھ

حضرت اقد س قبلہ وکعبہ دامت برکاتہم، آداب وتسلیم، عرض ہے ایک بات کا جھگڑا بہار شریف میں حضرات حنفیہ سلمہم اللہ ووہابیہ خذلہم اللہ کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ اس کا جواب جلد تر روانہ فرمائیے، زید نے اپنی ساس سے زنا کیا اور اس کی بی بی کواس کا علم تھا توا ب زید پر وہ بی بی حرام ہوئی یا نہیں؟ اورا گر حرام ہوئی تو ضرورت طلاق دینے کی ہے یا نہیں؟ دوسرے وہ بی بی باوجود علم کے اپنے شوہرزید کے ساتھ رہی اور زید بھی وطی حسب دستور کرتارہا اور بی بی سے اولاد بھی ہوئی تو وہ اولاد بعد فوت زید یا بی بی زید کے ترکہ کی مستحق ہیں یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ الذی خلق من الطین بشراوجعل لہ نسبا وصھرا وافضل الصلٰوۃ والسلام علی سیدنا الانام واٰلہ الکرام وصحبہ العظام علی الدوام۔

تما م تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے مٹی سے بشر کو پیدا فرمایا اور اس کے لیے نسب اور رشتہ ازدواج بنایا، بہترین صلوٰۃ وسلام کائنات کے آقا اور اس کی برگزیدہ آل اور اس کے صحابہ عظام پر ، دائمی ہو، (ت)

زوجہ زید اس پر حرام ہوگئی اگرچہ اسے اس واقعہ شنیعہ کا علم بھی نہ ہوتا
اقول وباللہ التوفیق اس کی دلیل جلیل قول مولٰی عزوجل وتبارک وتعالٰی ہے:
وربائبکم الّٰتی فی حجور کم من نساء کم الّٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم ۱؎۔
تم پر حرام کی گئیں تمھاری گود کی پالیاں ان عورتوں کی بیٹیاں جن سے تم نے صحبت کی پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو توتم پر کچھ گناہ نہیں۔
(۱؎ القرآن        ۴/۲۳)
اس آیہ کریمہ میں زن مدخولہ کی بیٹی حرام فرمائی اور جس طرح وصف "الّٰتی فی حجور کم" یعنی اس کی گود میں پلنا بالاجماع شر ط حرمت نہیں۔ مثلازید کسی پچیس سال والی عورت سے نکاح کرے او راس کے پہلے شوہرسے اس کی ایک بیٹی چار دہ سالہ ہو جسے گود میں پالنا درکنار زیدنے آج سے پہلے کبھی دیکھا بھی نہ ہو تو کیا زیدکو حلال ہوسکتاہے کہ اس کی لڑکی سے بھی نکاح کرلے اور مادر دختر دونوں کو تصرف میں لائے لاالہ الااﷲ یہ ہر گز شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نہیں۔ اسی طرح وصف نسائکم یعنی ان مدخولات کا زوجہ ومنکوحہ ہونا بھی بالاتفاق شرط نہیں، کیا لیلٰی وسلمی ماں بیٹی دونوں جس کی کنیز شرعی ہوں اسے حلال ہے کہ دونوں سے جماع کیا کرے، مادر و دختر دونوں ایک پلنگ پر، عیاذاًباللہ ، یہ شریعت محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کس درجہ بعید ہے۔ حالانکہ ہر گز کنیزیں "نسائکم" میں داخل نہیں نہ ان کی بیٹیوں پر" ربائبکم" صادق ، غالباً ان حراموں کو حلال بتاتے ہوئے غیر مقلد صاحب بھی شرم کریں، توثابت ہواکہ نکاح جس طرح بحکم تتمہ آیت "فان لم تکونوا دخلتم بھن" تحریم دختر کے لیے کافی نہیں، یونہی شرط وضروری بھی نہیں یعنی نہ وہ علت ہے، نہ جزء علت اب آیہ کریمہ میں نہ رہا مگر "الّٰتی دخلتم بھن" یعنی ان عورتوں کی بیٹیاں جن کے ساتھ تم نے صحبت کی، معلوم ہوا صرف اس قدر علت تحریم ہے اور یہ قطعاً مزنیہ میں بھی ثابت کہ وہ ایک عورت ہے جس کے ساتھ اس نے صحبت کی ، لاجرم بحکم آیت ا س کی بیٹی اس پر حرام ہوگئی، نظیر اس کی اسی بیان محرمات میں ہے قولہ عز شانہ ہے۔
" وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم" ۲؎
حرام کی گئیں تم پر تمھارے ان بیٹوں کی جوروئیں جو تمھاری پشت سے ہیں
 (۲؎ القرآن        ۴/۲۳)
کہ جس طرح "الذین من اصلابکم" یعنی بیٹے کا اس کی پشت سے ہونا اخراج متبنی کے لیے ہے نہ  کہ اخراج نبیرہ وبنسہ کے واسطے ، یونہی وصف "حلائل" یعنی بیٹے کی جور وہونا بھی ملحوظ نہیں، بیٹے کی کنیز مدخولہ بھی ضرور حرام ہے اور وہ لفظ حلیلہ میں داخل نہیں ، اور اگر اشتقاقی معنی لیجئے جو بیٹے پر حلال ہے تو اب عموم تحریم صحیح نہ رہے گا کہ بیٹے کی کنیز مطلقاً حرام نہیں جب تک مدخولہ نہ ہو، یہی حال "وامھات نسائکم" ۱؎ کا ہے کہ حرام کی گئیں تم پر تمھاری عورتوں کی مائیں،
 (۱؎ القرآن        ۴/۲۳)
یہاں پر بھی وصف زوجیت قید نہیں کہ کنیز مدخولہ کی ماں بھی بدلیل مذکور بالاتفاق حرام، بعینہٖ اسی دلیل سے
"ولاتنکحوا مانکح اٰباؤکم من النساء" ۲؎
(اپنے باپوں کی منکوحہ بیویوں سے نکاح نہ کرو۔ ت)
  (۲؎ القرآن        ۴/۲۴)
میں اگر نکاح بہ معنی عقد لیجئے تو عقد غیر قیداور بمعنی وطی لیجئےتووہ ہمارا عین مذہب، بالجملہ ان سب مواضع میں مطمع نظر صرف مدخولہ ہونا ہے اگرچہ بلانکاح وبس، اب "دخلتم بھن" میں مولٰی عزوجل نے دخول حلال وحرام کی کوئی قیدذکر نہ فرمائی اور اس کے اطلاق میں دونوں داخل، تو جو مدعی تخصیص ہودلیل پیش کرے اور دلیل کہا ں بلکہ دلیل اس کے خلاف پر قائم، کیا جس نے اپنی منکوحہ سے صرف حالت حیض یا نفاس یا صوم یااعتکاف یا احرام میں صحبت کی، اس کی بیٹی اس پر قطعا اجماعا حرام نہ ہوئی حالانکہ یہ دخول حرام تھا بلکہ علمائے کرام نے بہت وہ صورتیں ذکر فرمائیں جن میں دخول تو دخول، عورت ہی کو اس کے لیے حلال نہیں کہہ سکتے اور اس سے وطی بالاتفاق موجب تحریم دختر موطؤہ ہوجاتی ہے مثلا ایک کنیز دو مولٰی میں مشترک ہے ان میں سے جو اس سے مقاربت کرے گا دختر کنیز ا س پر حرام ہوجائے گی، یونہی اپنے پسر کی کنیز یااپنی کنیز کافرہ غیر کتابیہ یا اپنی اس عورت سے مجامعت جس سے ظہار کیا اور کفارہ نہ دیا، یہ سب بالاتفاق ان عورتوں کی بنات کو حرام کردیتی ہے حالانکہ یہ عورات سرے سے خودہی حلال نہ تھیں۔
اقول ان مسائل سے زن مظاہرہ تو استناد بالاتفاق کا بھی محتاج نہیں کہ اس پر خود قرآن عظیم دلیل شافی، ظہاربنص قرآن مزیل نکاح نہیں تو زن مظاہر بلاشبہہ "نسائکم" میں داخل، اور بعد وطی "دخلتم بھن" بھی حاصل، توقطعا اس کی دخترکو حکم حرمت شامل، زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور قبل صحبت ظہار کرلیا بعدہ مشغول بجماع ہوا اور کفارہ نہ دیا، کیا اس صورت میں اسے روا ہے کہ ہندہ کی بیٹی سے بھی نکاح کرلے، حاش للہ یہ شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نہیں، حالانکہ بعد ظہار عورت بنص قرآن ا س پر حرام ہوگئی اور جب تک کفارہ نہ دے اسے ہاتھ لگانا جائز نہ تھا، تو ثابت ہواکہ نہ نکاح شرط  نہ وطی کا بروجہ حلال ہونا لازم  بلکہ مناط حرمت صرف وطی ہے اور حاصل آیت کریمہ یہ کہ جس عورت سے تم نے کسی طرح صحبت کی اگرچہ بلانکاح اگرچہ بروجہ حرام، اس کی بیٹی تم پر حرام ہوگئی، یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب ، اوریہی اکابر صحابہ کرام مثل حضرت امیر المومنین عمر فاروق وحضرت علامہ صحابہ عبداللہ بن مسعود وحضرت عالم القرآن عبداللہ بن عباس وحضرت اقر ؤ الصحابہ ابی بن کعب وحضرت عمران بن حصین وحضرت جابر بن عبداللہ وحضرت مفتیہ چار خلافت صدیقہ بنت الصدیق محبوبہ رب العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین وجماہیر ائمہ تابعین مثل حضرات امام حسن بصری و افضل التابعین سعید بن المسیب وامام اجل ابراہیم نخعی وامام عامر شعبی وامام طاؤس وامام عطا بن ابی رباح وامام مجاہد وامام سلیمن بن یسار وامام حماداور اکابرمجتہدین مثل امام عبدالرحمن اوزاعی وامام احمد بن حنبل و امام اسحق بن راہویہ اور ایک روایت میں امام مالک بن انس کا ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
Flag Counter