Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
91 - 1581
مسئلہ ۱۹۲: از ضلع صاحب گنج گیا موضع کہرا ڈاکخانہ مخدوم پور مرسلہ شیخ نجم الدین حیدر صاحب ۳ ذیقعدہ ۱۳۱۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اس زوجہ سے دو بیٹے حسن وحسین پیداہوئے، بعد وفات ہندہ کے زید نے حفصہ سے نکاح کیا اس زوجہ سے چند اولاد پیدا ہوئی اور حفصہ نے اپنی بیٹی زبیدہ کے ساتھ حسین کے بیٹے بکر کو دودھ پلایا، پس اس صورت میں بکر کا نکاح حسن کی بیٹی زاہد ہ سے موافق  شرع محمدی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یحرم من الرضاعۃ مایحرم من الولادۃ ۱؎۔ رواہ الجماعۃ الا ابن ماجۃ عن ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
رضاعت سے سب رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو پیدائش (نسب) سے حرام ہیں، اس کو ابن ماجہ کے بغیر محدثین نے ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ صحیح مسلم        کتاب الرضاع    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۴۶۶)
عالمگیری میں ہے: یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما وفروعھما من النسب والرضاع جمیعا حتی ان المرضعۃ لو ولدت من ھذا الرجل اوغیرہ قبل ھذہ الارضاع اوبعدہ اوارضعت رضیعا او ولد الرجل من غیر ھذہ المرأۃ قبل ھذہ الارضاع او بعدہ اوارضعت امرأۃ من لبنہ رضیعا فالکل اخوۃ الرضیع واخواتہ واولادھم اولاد اخوتہ واخواتہ کذافی التھذیب ۲؎۔
دودھ پینے والے بچے رضاعی ماں باپ اور ان کے اصول وفروع نسبی ہوں یا رضاعی سب حرام ہوجاتے ہیں ، حتی کہ دودھ پلانے والی عورت کا موجود ہ خاوند سے یا کسی دوسرے سے،دودھ پلانے سے پہلے یا بعد کا بچہ ہو یا اس نے کسی بچے کو دودھ پلایا ہو، یا اس عورت کے خاوند کی کوئی اولاد اس عورت سے ہو یا کسی اور سے ہو۔ دودھ پلانے سے پہلے کی ہو یا بعد کی ہو، یا کسی عورت نے اس مرد سے اتر ے ہوئے دودھ کوکسی بچے کو پلایا ہو، تویہ تمام ، دودھ پینے والے بچے کے بہن بھائی ہوں گے، _______ اور ان کی اولاد اس  بچے کے بھتیجے اور بھانجے ہوں گے تہذیب میں یوں ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الرضاع           نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۳۴۳)
تفسیر نیشاپوری میں ہے:
بنات الاخوۃ من الرضاع کل انثی ولدھا ابن الفحل الذی منہ اللبن ۱؎ اھ ملخصاً
رضاعی بھتیجیاں یہ تمام وہ لڑکیاں ہیں جو دودھ پلانے والی عورت کے اس خاوند کے بیٹے کی اولاد ہوں جس سے اس عورت کو دودھ اتر ا ہے۔ اھ ملخصا (ت)
 ( ۱؎ غرائب القرآن (تفیسر نیشاپوری)     بیان ان نکاح الامہات والبنات الخ    مصطفی البابی مصر    ۵/۸)
ہاں اگر حفصہ کے یہ دودھ زید سے نہ ہوتا توبکر کی یہ رضاعت زاہدہ کو اس پر حرام نہ کرتی۔
لان الحسن وبکرا ح لم یشتر کافی ام ولااب فلم یکن الحسن الاعمہ وبنت العم یحل مالم یوجد مایمنع الحل۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
کیونکہ حسن اور بکر اس صورت میں ماں میں اور نہ ہی باپ میں شریک ہوئے، تو حسن بکر کے لیے صرف چچا ہوا۔ اور چچا کی لڑکی  اگرکوئی اور  مانع نہ ہو تو حلال ہوتی ہے۔ (ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۳: ا زشہر کہنہ مسئولہ امیر حیدر صاحب ۹ رجب ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ متعہ کی حرمت کس آیت وحدیث سے اہل سنت کے یہاں ثابت ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:  اللہ عزوجل فرماتا ہے:
والذین ھم لفروجھم حٰفظونo الا علی ازوجھم اوما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومینo فمن ابتغٰی وراء ذٰلک فاولئک ھم العادونo۲؎
وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کو بچائے ہوئے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا اپنی شرعی کنیزوں پر کہ ان پر کچھ ملامت نہیں تو جو اس کے سواکوئی اور راہ طلب کرے تو وہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔
 (۲؎ القرآن       ۲۳ /۷۔ ۶۔ ۵)
ظاہر ہے کہ زن ممتوعہ نہ اس کی بی بی ہے نہ کنیز شرعی، تویہ وہی تیسری راہ ہے جو خدا کی باندھی ہوئی حد سے جدا اور حرام وگناہ ہے۔
رب تبارک وتعالٰی مردوں سے فرماتا ہے:
محصنین غیر مسافحین ولامتخذی اخدان ۳؎۔
نکاح کرو بی بی بناکر، قیدمیں رکھنے کو نہ پانی گرانے  نہ آشنا بنانے کو۔
 (۳؎ القرآن     ۵/۵)
عورتوں سے فرماتا ہے:
محصنٰت غیر مسافحت ولامتخذات اخدان ۴؎
قید میں آتیاں نہ  مستی نکالتیاں نہ یاربناتیاں
(۴؎ القرآن     ۴/ ۲۵)
ظاہر ہے کہ متعہ بھی  مستی نکالنے پانی گرانے کا صیغہ ہے۔ نہ قید رکھنے بی بی بنانے کا، صحیح مسلم شریف میں حدیث حضرت سبرہ بن معبدہ جہنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
یاایھاالناس انی کنت اذنت لکم فی الاستمتاع من النساء وان اﷲ عزوجل قد حرم ذٰلک الٰی یوم القیامۃ ۱؎۔
اے لوگوں! میں نے پہلے تمھیں اجازت دی تھی عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی، اور اب بیشک اللہ عزوجل نے اسے حرام کردیا قیامت تک۔
(۱؎ صحیح مسلم         باب نکاح المتعۃ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۴۵۱)
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن متعۃ النساء یوم خیبر وعن لحوم الحمر الانسیۃ ۲؎۔
بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور گدھے کا گوشت حرام فرمادیا۔
 (۲؎ صحیح بخاری        باب النہی عن نکاح المتعۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/۷۶۷)
جامع الترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
قال انما کانت فی اول الاسلام کان الرجل یقدم البلدۃ لیس لہ معرفۃ فیتزوج المرأۃ بقدر مایری انہ یقیم فتحفظ لہ متاعہ وتصلح لہ شانہ حتی اذا نزلت الآیۃ الاعلی ازواجھم اوماملکت ایمانھم قال ابن عباس فکل فرج سواھما فھو حرام ۳؎۔
متعہ ابتدائے اسلام میں تھا مرد کسی شہر میں جاتا جہاں کسی سے جان پہچان نہ ہوتی تو کسی عورت سے اتنے دنوں کے لیے عقد کرلیتا جتنے روز اس کے خیال میں وہاں ٹھہرنا ہوتا، وہ عورت اس کے اسباب کی حفاظت اس کے کاموں کی درستی کرتی، جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی کہ سب سے اپنی شرمگاہیں محفوظ رکھو سوا بیبیوں اور کنیزوں کے اس دن سے ان دو کے سوا جو فرج ہے وہ حرام ہوگئی۔
 (۳؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی نکاح المتعہ    نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی    ۱/۱۸۱)
حازمی کتاب الناسخ والمنسوخ میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی غزوہ تبوک میں ہم نے کچھ عورتوں سے متعہ کیا۔
فجاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنظر الیھن وقال من ھؤلاء النسوۃ، قلنا یارسول اﷲ نسوۃ تمتعنا منھن، قال فغضب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حتی احمرت وجنتاہ، وتمعر وجھہ وقام فینا خطیبا، فحمد اﷲ واثنٰی علیہ ثم نھٰی عن المتعۃ ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تشریف لائے انھیں دیکھا اور فرمایا یہ عورتیں کون ہیں؟ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ! ان سے ہم نے متعہ کیا ہے، یہ سن کر حضور اقد س صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غضب فرمایا، یہاں تک کہ دونوں رخسارہ مبارک سرخ ہوگئے اور چہر ہ انور کار نگ بدل گیا، خطبہ فرمایا اللہ تعالٰی کی حمد وثناء بیان کی پھر متعہ کا حرام ہونا بیان فرمایا، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ نصب الرایہ         بحوالہ الحازمی کتاب النکاح        المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض الشیخ    ۳/۱۷۹)
مسئلہ ۱۹۴: ا زملک بنگالہ شہر چاٹگام کاکس بازار مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۳ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ

چہ می فرمایند علمائے دین اند رینکہ نکاح کردن زوجہ برادر حقیقی صغیرخود جائز ست یا نہ؟ بینوا تو جروا۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چھوٹے سگے بھائی کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:  جائز ست بالاتفاق بعد افتراق بموت یا طلاق برادر اصغر باشد یا اکبر۔ قال اللہ عزوجل ، واحل لکم ماوراء ذالکم ۲؎۔ واللہ تعالٰی اعلم
چھوٹے یا بڑے بھائی کے طلاق دینے یافوتیدگی کے سبب جدائی کے بعد بالاتفاق جائز ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا محرمات مذکورہ کے سوا تمہارے لیے حلال ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲ ؎ القرآن         ۴/ ۲۴)
Flag Counter