مسئلہ ۱۹۰: از پٹنہ لودی کٹرہ مرسلہ مولانا مولوی عبدالوحید غلام صدیق صاحب بہاری ۱۰ ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ
حضرت مولانا اعزکم اللہ فی الدارین تسلیم، ایک شیعہ عورت سے سنی نے نکاح کیا آیا درست ہوگا یا نہیںـ؟ جلد فتوی مرتب فرماکر روانہ کیجئے ضرورت شدیدہ ہے۔ میری خاص رائے عدم مناکحت پر ہے۔ منکرین ضروریات دین کافر ہیں اورکفر کے سبب نکاح مسلمان سے کب درست ہے، والسلام!
الجواب: شیعہ تین قسم ہیں:
اول غالی کہ منکر ضروریات دین ہوں، مثلا قرآن مجید کوناقص بتائیں، بیاض عثمانی کہیں یا امیر المومنین مولاعلی کرم اللہ وجہہ خواہ دیگر ائمہ اطہار کوانبیائے سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم خواہ کسی ایک نبی سے افضل جانیں یار ب العزت جل وعلا پر بدع یعنی حکم دے کرپشیمان ہونا، پچتا کر بدل دینا، یا پہلے مصلحت کا علم نہ ہونا بعد کو مطلع ہوکر تبدیل کرنا مانیں، یا حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر تبلیغ دین متین میں تقیہ کی تہمت رکھیں الی غیر ذلک من الکفریات (ا س کے علاوہ دیگر کفریات ۔ ت) یہ لوگ یقینا قطعا اجماعا کافر مطلق ہیں اور ان کے احکام مثل مرتد، فتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی ہندیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہا میں ہے: احکامھم احکام المرتدین ۱؎ (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت)
آج کل کے اکثر بلکہ تمام رفاض تبرائی اسی قسم کے ہیں کہ وہ عقیدہ کفریہ سابقہ میں ان کے عالم جاہل مرد عورت سب شریک ہیں الا ماشاء اﷲ (مگر جو اللہ تعالٰی چاہے۔ ت) جوعورت ایسے عقیدہ کی ہو مرتدہ ہے کہ نکاح نہ کسی مسلم سے ہوسکتا ہے نہ کافر سے نہ مرتد سے نہ اس کے ہم مذہب سے۔ جس سے نکاح ہوگازنائے محض ہوگا اور اولاد ولدالزنا۔
دوم تبرائی کہ عقاید کفریہ اجماعیہ سے اجتناب اور صرف سَبّ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا ارتکاب کرتاہو، ان میں سے منکران خلافت شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما اور انھیں برا کہنے والے فقہائے کرام کے نزدیک کافر و مرتد ہیں ۲؎ نص علیہ فی الخلاصۃ والھندیۃ وغیرھما (خلاصہ اور ہندیہ میں اس پر نص ہے۔ ت)
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/۳۸۱)
مگر مسلک محقق قول متکلمین ہے کہ یہ بدعتی ناری جہنمی کلاب النار ہیں مگر کافر نہیں، ایسی عورت سے نکاح اگرچہ صحیح ہے مگر سخت کراہت شدیدہ سے مکروہ ہے۔
لما فی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتناکحوھم ۱؎۔
کیونکہ حدیث شریف میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ ان سے نکاح نہ کرو۔ (ت)
(۱؎ کنز العمال حدیث ۳۲۴۹۸ و ۳۲۵۴۲ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/۵۲۹ و ۵۴۲)
صحیح حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اپنے ناقہ کو لعنت کی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے چھڑوادیا کہ ملعونہ ناقہ پر ہمارے ساتھ نہ رہ۔ پھر کسی نے اس ناقہ کو نہ چھوا،0۲ حالانکہ ناقہ فی نفسہا مستحق لعنت نہیں۔
(۲؎صحیح مسلم باب النہی عن لعن الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۲۳)
حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہماپر لعنت کرنے والے بلاشبہہ لعنت الہٰی کے مورد ہیں:
اولئک یلعنھم اﷲ ویلعنھم اللاعنون ۳؎۔
یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر اللہ تعالٰی لعنت فرماتا ہے اور سب لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ (ت)
(۳؎ القرآن ۲/۱۵۹)
احادیث صحیحہ کثیرہ ا س معنی پر ناطق ہیں توایک ملعونہ سے صحبت رکھنا کیونکر شرع مطہر کو گوارا ہوگا واللہ الہادی۔
سوم تفضیلی کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو خیرسے یادکرتاہو خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم کی امامت بر حق جانتا ہو صرف امیرالمومنین مولٰی علی کو شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہم سے افضل مانتا ہو، انھیں کفر سے کچھ علاقہ نہیں بد مذہب ضرورہیں ایسی عورت سے بالاتفاق نکاح جائز ہے ہاں کراہت سے خالی نہیں کہ مبتدعہ ہے اگرچہ ہلکے درجہ کی بدعت ہے خصوصا اگرا س کی محبت میں اپنے مذہب پر اثر پڑنے کا احتمال ہو تو کراہت شدید ہوجائے گی اور ظن غالب تواشد بالغ بدرجہ تحریم ، واللہ سبحانہ و تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۱۹۱: از احمد آباد گجرات محلہ کالپور متصل پور گلیان مرسلہ عبدالکریم صاحب ولد عبدالغنی صاحب ۱۳ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
ماقولکم رحمکم اللہ تعالٰی اس مسئلہ میں کہ ایک مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا ابھی وہ عورت زندہ سلامت اس مرد کے نکاح میں موجود ہے اب وہی مرد اس عورت کے بھائی کی نواسی سے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا یہ جمع کرنا درمیان عورت اوراس کی بھتیجی کی بیٹی کے حلال ہے یا حرام؟ بینوا بیانا شافیا توجروا اجراوافیا۔
الجواب: حرام ہے، اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو دوعورتیں آپس میں محرم ہوں یعنی ان میں سے جس کو مرد فرض کیا جائے دوسری پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو ایسی دو عورتوں کو جمع کرناجائز نہیں۔ یہاں ایساہی ہے کہ اگر منکوحہ اولٰی کو مرد فرض کرتے ہیں تووہ دوسری اس کے بھتیجے کی بیٹی ۔ا ور جس طرح بھتیجی حرام ہے یونہی بھتیجے کی بیٹی، اور اگر اس دوسری کو مرد فرض کرتے ہیں تووہ پہلی اس کی ماں کی پھوپھی ہے اور جس طرح اپنی پھوپھی حرام ہے یونہی ماں کی،
بحرالرائق میں ہے:
الاصل ان کل امرأتین لو کانت احداھما ذکراوالاخری انثی لم یجز للذکر ان یتزوج الانثی فانہ یحرم الجمع بینھما بالقیاس علی حرمۃ الجمع بین الاختین ۱؎۔
قاعدہ یہ ہے کہ ایسی دو عورتیں جن میں سے ایک کو مرد فرض کیا جائے تو ان کا آپس میں نکاح جائز نہ ہو کیونکہ ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت دوبہنوں کو جمع کرنے کی حرمت پر قیاس ہے۔ (ت)
وحرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفروع اصلہ القریب من الاخوات لاب وام اولاحدھما وبنا تھن وبنات الاخوۃ وان بعدت وصلبیۃ اصلہ البعید من عماتہ وخالاتہ لاب وام اولاحدھما وعما تھما اوعمات احدھما و ان علت وخالاتھما او خالات احدھما و ان علت ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مرد کی اصل او راس کی اپنی اولاد اور اس کے ماں باپ کی اولاد یعنی بہنیں، صرف باپ کی طرف سے یا صرف ماں کی طرف سے یادونوں کی طرف سے ہوں اور ان بھائیوں اوربہنوں کی اولاد خواہ نیچے تک ہو، اور اوپروالے ماں باپ یعنی دادا دادی اورنا نا نانی ،اوپر تک کی صلبی اولاد ،اس کی پھوپھیاں اور خالائیں، ماں باپ دونوں کی طرف سے یا ایک طرف سے ہوں، اور ماں باپ کی حقیقی پھوپھیاں اور خالائیں ہوں یا صرف ماں یا باپ کی طرف سے ہوں، خواہ اوپر تک ہوں سب اس پر حرام ہیں۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم
(۲؎ جامع الرموز شرح نقایہ کتاب النکاح مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۴۴۸ تا ۴۵۰)