Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
89 - 1581
مسئلہ ۱۸۴: چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ (کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ۔ ت) کہ ہندہ زوجہ بکر کسی تقریب  خانگی میں بہت سی مستورات کے ہمراہ ایک مقام پر جہاں دروازہ پر پردہ لگاتھا موجود تھی،اورا س جلسہ میں زوجہ زید بھی تھی، زوجہ بکر دوپٹہ یا چادر زوجہ زیدکا اتفاق سے اوڑھے تھی، وقت شب تھا، روشنی کافی جیسا کہ تقریبات میں قاعدہ  ہے موجود تھی، دریں اثناء زید وہاں آیا اور ہندہ زوجہ بکر مذکورہ بالا اپنا منہ جو کھلا تھا باہر پردہ کے لائی کہ زید مذکور نے اس کا بوسہ رخسا ر پر لیا، ہندہ نے و دیگرعورات نے اس کا مواخذہ زید  سے کیا، اس وقت زید نے  رو برو جملہ اور پانچ سات ذکورعادل کے یہ عذر کیا کہ میں نے اپنی زوجہ کے دھوکامیں بوسہ لیاتھا بوجہ اس کے کہ زوجہ بکر یعنی ہندہ مذکور میری زوجہ کا چادر اوڑھے تھی اس دھوکا اور شبہہ سے بوسہ لیا تھا ہر گز دانستہ یہ فعل نہیں کیا، پس اب ہندہ مذکورہ کی لڑکی کا نکاح زید کے ساتھ ازروئے شرع شریف کے درست ہے یا نادرست؟ اس امرپر حکم فرماکر دستخط خاص سے جواب تحریر فرمایا جائے عنداللہ ماجور ہوں گے۔
الجواب:صورت مستفسرہ میں اگر ثابت ہے کہ زید نے زوجہ بکر کا بوسہ بنظر شہوت لیا تو اس پر عورت کی سب اولاد ہمیشہ کے لیے زیدپر حرام ہوگئی، کسی طرح اس کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا ، اور اگر نادانستہ نکاح کرلیا ہے فریقین پر واجب ہے کہ اسے فسخ کردیں ورنہ سخت گناہ گارہوں گے۔ اور اگر شوہر فسخ پر راضی نہ ہو توعورت بذات خود فسخ کرسکتی ہے کما نص علیہ فی ردالمحتار (جیساکہ ردالمحتاروغیرہ میں اس پر نص ہے۔ ت)بلکہ امام محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین محمد بن الہمام قدس سرہ العزیز نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں تصریح فرمائی ہے کہ جس طرح لبوں کا بوسہ لینا خواہی نخواہی بنظر شہوت قرار پائے گا یہاں تک کہ اگروہ شخص ادعا کرے کہ یہ فعل مجھ سے بنظر شہوت نہ ہوا توہرگز قبول نہ کریں گے اور حکم حرمت ابدی دیں گے یہی حال بوسہ رخسار کا ہونا چاہئے کہ یہ بھی بشہوت ہی ٹھہرے گا اور بوسہ لینے والیے کا انکار مسموع نہ ہوگا۔
درمختار میں ہے:
وفی الفتح یترأ ای الحاق الخدین بالفم ۱؎۔
فتح میں ہے کہ رخسار بھی منہ سے ملحق قرار پائیں گے۔ (ت)
 ( ۱؎ درمختار فصل فی المحرمات  مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
اس طور پر صورت مستفسرہ میں مطلقا حکم حرمت ہے اور اگر زید انکار شہوت کرے مسموع نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵: از نجیب آباد ضلع بجنور محلہ نواب پور مرسلہ نیاز اللہ خاں ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا مدت تک ، اور پھر اس کی زندگی میں ا س کی بیٹی سے بھی حرام کیا یہاں تک کہ دس بر س تک اسے گھر میں ڈال کر پردہ میں رکھ کر حرام کرتا رہا۔ اب زنا سے توبہ کرکے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: کسی وقت کسی حال اس سے نکاح نہیں ہوسکتا کہ ماں کے ساتھ حلال خواہ حرام کسی طرح صحبت کرنے بلکہ صرف بشہوت ہاتھ لگانے یابوسہ لینے سے بیٹی ہمیشہ ہمیشہ حرام ہوجاتی ہے اور بیٹی کے ساتھ ان معاملات سے ماں۔
درمختار میں ہے:
حرم ایضا بالصھریۃ اصل مزنیۃ اراد بالزناء الوط الحرام واصل ممسوستہ بشھوۃ والمنظور الی فرجھا الداخل وفروعھن ۲؎ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مزنیہ کی اصل بھی مصاہرۃ کے طورپر حرام ہوگئی زنا سے مراد حرام وطی ہے۔ اور شہوت کے ساتھ مس شدہ عورت اور جس کی فرج داخل پر شہوت سے نظرپڑی ہو کی اصل اور ان کی فرع حرام ہوگی اھ ملخصا (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ درمختار    فصل فی المحرمات    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
مسئلہ ۱۸۶ تا ۱۸۸: از ٹاہ نگریا مرسلہ نیاز محمد خان ۱۲ رجب ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :

(۱) استاد کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟

(۲) شاگرد اناث سے استاد کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟

(۳) بھتیجے کا نکاح چچاکی بی بی سے درحا لیکہ محارم سے نہ ہوجائز ہے یا نہیں؟بینوا تو جروا
الجواب:ان سب سے نکاح جائز ہے جبکہ محارم نہ ہوں۔
قال اللہ تعالٰی: واحل لکم ماوراء ذالکم ۱؎
 (محرمات مذکورہ کے ماسوا تمھارے لیے حلال ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ القرآن   ۴/۲۴)
مسئلہ ۱۸۹: از اٹاوہ مکان قاضی مظفرعلی صاحب ڈگری نویس منصفی مرسلہ شیخ دیدار بخش صاحب ۲۳ صفر ۱۳۱۴ھ

ہندہ کا نکاح نو برس کی عمر میں ہواتھا، اس کا شوہر جو بالغ تھا تین ماہ بعد نکاح کے نینی تال کو چلا گیا وہاں اس نے اپنا نکاح کیااور زوجہ ثانیہ سے اولاد ہوئی ۔ ہندہ شوہر سے نان ونفقہ کی طالب ہوئی، ا س نے کچھ التفات نہ کی، تب خواہان طلاق ہوئی، طلاق بھی نہ دی،بلکہ ایک عرصہ کے بعد زوجہ ثانیہ اور اولاد کو بھی چھوڑ کر کہیں چلا گیا، پانچ چارسال سے مفقود الخبر ہے، ہندہ  اب اپنا دوسرا نکاح کیاچاہتی ہے، اس معاملہ میں بنظر حالات جو مسئلہ شرعی ہو فرمائیے، اب عمر ہندہ پچیس سال کی ہے۔بینوا تو جروا
الجواب: ہر گزیوں نکاح نہیں کرسکتی،
قال اللہ تعالٰی:  والمحصنٰت من النساء ۲؎
 (شادی شدہ عورتیں حرام ہیں۔ ت)
 (۲؎ القرآن     ۴/۲۴)
اس پر لازم ہے کہ صبر وانتظارکرے یہاں تک کہ اس کے شوہر کی ولادت کو ستربرس گزر جائیں، اس کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے
فی جواہر الاخلاطی یحکم بموتہ بعد سبعین  سنۃ وعلیہ الفتوی ۳؎
 (جواہر الاخلاطی میں ہے: گم شدہ کی عمر کے ستر سال پورے ہونے کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے گا۔ اسی پر فتوٰی ہے۔ ت)
(۳؎ جواہر الاخلاطی    مسائل مفقود    قلمی نسخہ    ص۱۲۲)
ادعائے ضرورت وعذرجوانی حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔ بہت کمسن لڑکیا ں کہ بیوہ ہوجاتی ہیں باتباع رسم ہنود عمر بھر نام نکاح نہیں لیتیں۔ اس وقت ضرورت وجوانی کدھر جاتی ہے۔ ہزاروں وہ ہیں جن کے شوہر زندہ موجود ہیں مگر ان کی طرف سے قطعاً برگشتہ و روگرداں، وہ اپنی عمر کیونکر کاٹتی ہیں! یہ جو بعض کا زعم ہے کہ چار سال گزرنے پر عورت کو نکاح ثانی کا اختیار امام مالک کے مذہب میں حاصل ہوجاتا ہے محض جہل۔ اور امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب سے نا واقفی ہے ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرعی کے حضور مستغیثہ ہو وہ بعد ثبوت مفقودی روز مرافعہ سے چار سال کی مہلت دے۔ اس کے گزرنے پر قاضی تفریق کرے۔ اب عورت عدت پوری کرکے نکاح کرسکتی ہے

پیش از حکم قاضی شرع اگر بیس برس گزر گئے تو وہ معتبر نہیں صرح بہ علماء المالکیۃ فی کتبھم (مالکی علماء نے اپنی کتب میں اس کی تصریح کی ۔ ت) اس مسئلہ کی تفصیل جلیل فتاوائے فقیر کتاب المفقود میں ہے۔ ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم
Flag Counter