Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
88 - 1581
مسئلہ ۱۸۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید نے اپنی دختر زینب کا بکر کے ساتھ نکاح کیا اور بعد نکاح قبل رخصت بکر کو بلاتحقیق زبانی باتوں پر نامرد ٹھہرا کر بے طلاق دلوائے بحالت حیات بکر کے زینب کا نکاح خالد کے ساتھ کردیا اور اس سے اولاد پیدا ہوئی پس ایسی صور ت میں یہ نکاح ثانی جائزہوا یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب : صورت مستفسرہ میں قطع نظرا س سے کہ تفریق بوجہ عنت کے لیے جو امور شرعاً درکارہیں ان میں سے یہاں ایک بھی نہیں نہ پایا گیا، راساً بکر کا ایسا عنین ہونا ہی ثابت نہیں جس کی بناء پر زینب کو اختیار مخاصمہ ومطالبہ تفریق حاصل ہو، اس لیے ممکن تھا کہ وہ بالخصوص ا س عورت سے نزدیکی پر قادر ہوتا جس صورت میں کہ زینب کی رخصت ہی نہ ہونے پائی اس کے حق میں بکر کانامر دہونا کیسے ثابت ہوا۔
فی العالمگیریۃ وان کان یصل الی الثیب دون الابکار اوالٰی بعض النساء دون البعض وذٰلک لمرض بہ اولضعف فی خلقہ اولکبر سنہ اوسحرفھو عنین فی حق من لایصل الیھا کذا فی النھایۃ ۱؎۔
عالمگیریہ میں ہے جو شخص ثیبہ سے جماع کی طاقت رکھتاہو باکرہ سے نہیں یا بعض عورتوں سے جماع کی طاقت رکھتاہو اور دیگر بعض سے نہیں اور اس کی کمزوری مرض کی وجہ سے یا پیدائشی یا بڑھاپے یا جادو کی وجہ سے ہوتو ان عورتوں کے حق میں اس کو نا مرد تصورکیا جائے گا جن سے جماع کی طاقت نہ رکھتا ہو، نہایہ میں یوں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب الثانی عشر فی العنین    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۵۲۲)
پس بلاشبہہ نکاح ثانی زینب کا محض ناجائز وباطل ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۲: از اٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظر کلکٹری اٹاوہ ۲۵ ذی قعدہ ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیلٰی وسلمی دو رضاعی بہنیں ہیں، لیلٰی سے زید نے نکاح کیا اب سلمٰی سے اس کے پسر عمرو بن جمیلہ کا نکاح ہوسکتا ہے یا وہ عمرو کی سوتیلی خالہ یعنی سوتیلی ماں کی رضاعی بہن سمجھ کر حرام مانی جائے گی۔ بینوا تو جروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں عمرو  وسلمٰی کا نکاح جائز ہے کہ باپ کی سالی جبکہ اپنی حقیقی یا رضاعی ماں کی سگی یا سوتیلی یا مادری یا رضاعی بہن نہ ہو حلال ہے خواہ نسبی ہو خواہ رضاعی ۔
قال اللہ تعالٰی: واحل لکم ماوراء ذٰلکم۲؎
 (محرمات مذکورہ کے سوا تم کے لیے حلال ہیں۔ ت)
 ( ۲؎ القرآن           ۴/۲۴)
سوتیلی خالہ کہ حرام ہے اس کے معنی حقیقی یارضاعی ماں کی سوتیلی بہن نہ کہ سوتیلی ماں کی حقیقی یا رضاعی بہن، واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے نکاح میں ایک عورت حرہ تھی دوسرا نکاح اس نے ایک کنیز سے کیا، یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟ اور کنیز کا مہر اس کے ذمہ کس قدر لازم ہوگا؟ اس کنیز سے اس کی اولاد بھی ہوئی، اب زید نے انتقال کیا تو کنیز اور اس کی اولاد ترکہ پائیں گے یا نہیں ؟ بینوا تو جروا
الجواب : زن حرہ پر لونڈی سے نکاح کرنا فاسد ہے،
فی الدرالمختار وصح نکاح حرۃ علی امۃ و لایصح عکسہ انتھی ۳؎ ملخصاً۔
درمختار میں ہے لونڈی پر حرہ عورت سے نکاح صحیح ہے اورا س کا عکس یعنی حرہ پر لونڈی سے نکاح صحیح نہیں ہے۔ انتہی ملخصا (ت)
 (۳؎ درمختار        فصل فی المحرمات    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۹)
اور زن منکوحہ بنکاح فاسد مستحق ارث نہیں۔
فی الدرالمختار من باب نکاح الکافر واجمعوا انھم لایتوارثون لان الارث انما ثبت بالنص علٰی خلاف القیاس فی النکاح الصحیح مطلقاً فیقتصر علیہ ابن ملک ۱؎۔ وفیہ من کتاب الفرائض ویستحق الارث باحد ثلثۃ برحم ونکاح صحیح فلاتوارث بفاسدولاباطل اجماعا ۲؎اھ۔
درمختار کے ''باب نکاح کافر'' میں ہے کہ ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ یہ آپس میں وارث نہ بنیں گے کیونکہ وراثت کا ثبوت نص میں قیاس کے خلاف ہے اور یہ صرف  نکاح میں ہے اور اس میں منحصر رہے گا۔ ابن ملک۔ اور اسی درمختار کے کتاب الفرائض میں ہے کہ وارث کا استحقاق تین وجہ سے ہوتاہے۔ رشتہ رحم اور صحیح نکاح کی بنا پر نکاح فاسد یاباطل سے باجماع استحقاق وارثت نہیں اھ (ت)
 ( ۱؎ درمختار        باب نکاح الکافر        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۰۸)

(۲؎ درمختار  کتاب الفرائض          باب نکاح الکافر           ۲/۳۵۲)
ہاں اگر وطی واقع ہوگئی تو مہر مسمی ومہر مثل سے جو کم ہوگا لازم آئے گا مثلا اگر عقد پانسو روپے مہر پر بندھاہے اورمہر مثل سور وپے ہے تو مہر مثل، اور در صورت عکس مہر مسمی یعنی جوعقد میں بندھا ہے واجب الاداہوگا، اور جو عقد میں کچھ نہ بندھا یا بندھا معلوم نہیں ہوسکتا تومہرمثل جس قدر ہو قرار پائے گا۔
فی الخلاصۃ الواجب فی النکاح الفاسد الاقل من المسمی ومن مھر المثل ان کان ھناک تسمیۃ ۳؎۔
خلاصہ میں ہے اگرمہر مقررہ ہوتو فاسد نکاح سے مہر مثل اور مقررہ سے جوکم ہو وہ واجب ہوگا۔
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الثالث عشر فی النکاح الفاسد    مکتب حبیبیہ کوئٹہ    ۲/۴۱)
فی الدرالمختار ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد بالوطی لابغیرہ ولم یزدمھر المثل علی المسمی ولو کان دون المسمی لزم مھر المثل ولو لم یسم اوجھل لزم بالغا مابلغ۴؎ انتھی مع التلخیص۔
درمختار میں ہے کہ فاسد نکاح میں مہر مثل وطی سے واجب ہوتا ہے وطی کے بغیر مہر مثل واجب نہیں ہوتا اور مہر مثل مقررہ مہر سے زیادہ بھی نہیں کیا جائیگا اگرچہ مقررہ مہرسے مہر مثل کم ہو اور اگر مقرر نہ ہو یا مقررمعلوم نہ ہو تواس صورت میں مہر مثل لازم ہوگا جتنا بھی ہو اھ ملخصا (ت)
 (۴؎ درمختار        باب المہر            مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۰۱)
اور اولاد کہ نکاح فاسد میں وقت وطی سے چھ مہینے بعد پیدا ہوئی بالاجماع ثابت النسب ومستحق الارث ہے،
فی الدرالمختار ویثبت النسب احتیاطا بلادعوۃ وتعتبر مدتہ وھی ستۃ اشھر من الوطی والالایثبت وھذا قول محمد وبہ یفتی وقالا ابتداء المدۃ من وقت العقد کالصحیح و رجحہ فی النھر بانہ احوط ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختامیں ہے کہ نکاح فاسد میں بغیر دعوٰی احتیاطاً نسب ثابت ہوگا جبکہ مدت کا اعتبار ہوگا جو کہ وطی سے چھ ماہ تک ہے ورنہ نہیں، یہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا قول ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اور امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہمااللہ تعالٰی کے قول پر مدت کا اعتبار وقت نکاح سے چھ ماہ ہے جیسا کہ صحیح نکاح میں ہوتا ہے، نہر میں اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ اس میں زیادہ احتیاط ہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ درمختار    باب المہر    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۰۱)
Flag Counter