Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
87 - 1581
 (۲؎ ردالمحتار     فصل فی المحرمات        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۷۹)
خلاصہ وبحر وانقروی وغیرہامیں ہے:
والاصرار لیس بشرط فی الاقرار بحرمۃ المصاہرۃ ۳؎۔
حرمت مصاہرت سے متعلق اقرار میں اصرار شرط نہیں ہے۔ (ت)
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوی        الفصل الثالث فی حرمۃ المصاہرۃ    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ        ۲/۱۰)
یو نہی اگر عورت سے بشر ط دوشیزگی نکاح کیا تووقت ارادہ جماع غیر دوشیزہ پایا، عورت نے کہا تیرے

باپ نے ازالہ کیا اس نے تصدیق کردی حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی،
ظہیریہ وہندیہ وشمنی ودرمختار وغیرہا میں ہے:
واللفظ للدر تزوج بکرا فوجدھا ثیبا (ولفظ الاولین تزوج امرأۃ علی انھا عذراء فلما اراد و قاعھا وجد ھا قد افتضت) وقالت ابوک فضنی ان صدقھا بانت بلامھر و الالا، شمنی ۱؎۔
درکے الفاظ میں ہے کہ باکرہ سے نکاح کیا تو ا س کو ثیبہ پایا، اورپہلی دونوں کتب کے الفاظ یہ ہیں کہ ایک عورت سے باکرہ ہونے کی شرط پر نکاح کیا تو جما ع کے وقت اس کی بکارت ٹوٹی ہوئی پائی، اور عورت نے کہا کہ تیرے باپ نے میری بکارت توڑی (یعنی دخول کیا) توا گراس نے بیوی کی بات کو سچ تسلیم کرلیا تو بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گاا ور مہرنہ ہوگا ورنہ نکاح ختم نہ ہوگا، شمنی۔ (ت)
 ( ۱؎ درمختار    فصل فی المحرمات    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
ظاہر ہے کہ ان صورتوں سے ثبوت زنا محض ناممکن اخیرہ میں تو عورت کا بیان اور اس کی تصدیق کیا بکار آمد ہوسکتی ہے جہاں چار مردوں سے کم کی شہادت مردود ہو، اولی میں بار اقرار وہ بھی بیرون دارالقضاء وہ بھی ہزل ومزاح کے موقع پر کیا، قابلیت اثبات زنا رکھتا ہے، بااینہمہ مجر د اقرار و تصدیق پر حرمت مصاہرت کا حکم ہوگیا اور بعد اقرار انکار بیکار رہا، اسی قدر تقریر ایضاح مقام وازاحت اوہام کو بس ہے بلکہ غور کیجئے تو فرع اول صورت مستفسرہ کا خاص نص ہے 00کہ جب اس کے صرف اس قول کو مثبت حرمت مانتے اور رجوع وانکار کونامسموع جانتے ہیں، اور پر ظاہر کہ یہ اثبات اثبات فی القضاء ہی ہے کما اشرنا الیہ وفی ردالمحتار وغیرھا نصوا علیہ (جیساکہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیاہے اور ردالمحتاروغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت) اور عندالقاضی بعد انکار طریقہ اثبات وہی بینہ توصاف ثابت ہوا کہ شوہر اگر بعد اقرار بالزنا انکارکر جائے اور بینہ عادلہ سے اس کا اقرار ثابت ہو قاضی فوراً حکم حرمت دے گا وھو المقصود ۔
انہی بیانوں سے یہ بھی واضح ہوگیاکہ زنا بمادرزن پیش ازنکاح زن اوراس کا عکس دونوں کا اقراراس حکم حرمت میں یکساں کہ حرمت ابدیہ دونوں طرح حاصل، اگرچہ ایک صورت میں سابقہ ہو، دوسری میں طاریہ ، توہر طرح یہ اقرار اقرار بالمحرم ہے والرجل مواخذ باقرارہ (اور مرد اپنے اقرار کی بناپر ماخوذ ہے۔ ت) ہاں اتنا تفاوت ہوگاکہ اقرار زناقبل النکاح میں شوہر حق زن میں، اس دعوٰی اسناد الی ماقبل النکاح میں مصدق نہ ہوگا، کہ بر تقدیر عدم دخول ابطال مہر یا بحالت دخول افساد تسمیہ مجرد اس کے کہنے سے مان لیں صرف اپنے حق یعنی بطلان حل وفساد وعصمت واخذبالمتارکہ میں مصدق ہوگا لہذا حرمت غیر مستندہ ثابت کرکے نصف مسمی یاکل علی التقدیرین لازم کردیں گے۔
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
اذا اقربجماع امھا قبل التزوج لایصدق فی حقھا فیجب کمال المھر المسمی ان کان بعدالدخول ونصفہ ان کان قبلہ کما فی التجنیس ۱؎۔
اگر نکاح سے قبل کے ساس سے زنا کاا قرار کرتاہے تو ا س اقرار کو بیوی کے حق مہر کے بارے میں سچ نہیں ماناجائے گا لہذا مقررہ مہر پورا دینا ہوگا بشرطیکہ یہ اقرار بیوی سے دخول کے بعد کیا ہو اور اگردخول سے قبل یہ اقرار کیا تونصف مہر واجب ہوگا، جیساکہ تجنیس میں ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار        فصل فی المحرمات    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۲/۲۸۳)
اور یہ کوئی نئی بات نہیں کہ اقرار واحد من جہۃ مقبول او رمن جہۃ مردود ہو اقرار جحت قاصرہ ہے ہمیشہ اس کی یہی شان ہوتی ہے کہ جہاں تک مقر پر اس کا ضرر ہے۔ ماخوذ اور جتنا دوسرے پرلازم ہے منبوذ، ولہذا گر کسی کی کنیز سے نکاح کیا اس نے پیش از دخول اس کے پسر کا بوسہ لیا شوہر کہتا ہے بشہوت تھا حرمت ثابت ہوگئی مگر حق اسقاط مہر میں مسموع نہ ہوگا نصف مہر دینا آئے گا جبکہ مولٰی شہوت کنیز وقصد افساد کو نہ مانتا ہو،
ہندیہ میں ہے:
تزوج بامۃ رجل ثم ان الامۃ قبلت  ابن  زوجھا قبل الدخول بھا فادعی الزوج انھا قبلت بشھوۃ  وکذبہ المولی فانھا تبین من زوجھا لاقرارالزوج انھا قبلت بشھوۃ ویلزمہ نصف المھر بتکذیب المولٰی ایاہ انھا قبلتہ بشھوۃ ولایقبل قول الامۃ فی ذٰلک لوقالت قبلتہ بشھوۃ کذافی المحیط ۲؎ اھ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم
ایک شخص نے کسی کی لونڈی سے نکاح کیا تولونڈی نے قبل از دخول خاوند کے بیٹے کا بوسہ لیا تو خاوند نے دعوٰی کیا کہ اس نے یہ بوسہ شہوت کے ساتھ لیا ہے جبکہ لونڈی کا مالک خاوند کو جھٹلارہا ہے تو وہ لونڈی نکاح سے خارج ہوجائے گی کیونکہ خاوند نے شہوت کے ساتھ بوسے کا اقرار کیا ہے۔ اور مالک کی تکذیب کی وجہ سے خاوند پر نصف مہر لازم ہوگا اوریہاں لونڈی کے اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا کہ میں نے شہوت سے بوسہ لیا ہے۔ یونہی محیط میں ہے۔ (ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    القسم الثانی المحرمات بالصہریۃ    نورانی کتب خانہ پشاور        ۱/۲۷۶)
مسئلہ ۱۷۸: کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کے مرنے پر سالی سے نکاح کیا

اور پہلی عورت سے ایک دختر تھی اب یہ شخص مرگیا اور سالی منکوحہ بے اولاد نے دوسرے سے نکاح کیا اور مرگئی اب وہ جو دختر اس شخص کی ہے جس نے اپنی سالی سے نکاح کیا تھا اور مرگیا تھا سالی کے دوسرے شوہر کو جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: جائز ہے ، واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۹؛ ہندہ نے زینب کاد ودھ پیا ہندہ کے بیٹے کو زینب کی دختر جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: ناجائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۰: ایک شخص نے اپنی زوجہ کے دھوکے میں سہو سے اپنی ہمشیرہ یا خوشدامن کا ہاتھ ازروئے شہوت کے پکڑا، اس کے نکاح میں کچھ خلل واقع ہوا یانہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب :ہمشیرہ کاہاتھ پکڑنے سے نکاح میں کچھ خلل واقع نہ آیا اور خوشدامن کاہاتھ پکڑنے سے نکاح فاسد ہوگیا اس سے شہوت پیدا ہوئی یا پہلے سے تھی تو زائد ہوگئی اور انزال نہ ہوا عورت ہمیشہ کو اس پر حرام ہوگئی۔ واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter