Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
86 - 1581
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۷: از الہ آباد محلہ دوندے پور مکان صوبیدار صاحب مرحوم مرسلہ مولوی عبیداللہ صاحب ۱۲ شعبان ۱۳۱۲ھ

بگرامی خدمت سامی منزلت، جامع الکمالات العلمیہ والعملیہ ، حاوی الفنون الاصلیہ والفرعیہ۔ مخدوم معظم، مطاع مفخم، نیاز کیشاں جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت فیوضہم ازنیاز مند عبیداللہ سلام مسنون خشوع وخضوع مشحون در قطعہ استفتاء ابلاغ خدمت والا میں دو باتوں کےلیے بکمال ادب گزارش کرکے توجہ وجیہ کا امیدوار ہوں، ایک یہ کہ یہ دونوں مسئلے معرکۃ الآرا ہو رہے ہیں فتوی بکمال تحقیق وتدقیق مبرہن مدلل خوب بسط وتفصیل سے لکھے جائیں، دو م یہ کہ ان کی ضرورت اشد ہے دوسرے فتووں پر انھیں کومقدم فرمایا جائے ،صورت سوال یہ ہے ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے مسماۃ ہندہ زوجہ اولٰی کو اپنے گھر سے نکال دیا اور دوسری عورت سے نکاح کیا، چندشخصوں نے سبب نکال دینے کا زید سے پوچھا، زیدنے کہا میں نے اس کی ماں سے زنا کیا تھا اب معلوم ہوا کہ وہ مجھ پر حرام ہے۔ اس لیے اس کو نکال دیا، بعدہ زوجہ ثانیہ کو طلاق دے کر زوجہ اولٰی ہندہ کو اپنے مکان میں لاکر رکھا اور اقرار زنا سے انکار کیا قاضی بلدہ کے سامنے شہادت اقرار زنا کی پیش ہوئی تو صورت مذکورہ میں اس کی شہادت اقرار زنا سے حرمت مصاہرت شرعا ثابت ہوگی یا نہیں؟ اور ہندہ زید پر حرام ہوگئی یا کیا؟ ایک عالم صاحب نے فرمایا کہ اقرار زنا پر شہادت معتبر نہیں ہے اس شہادت سے زنا ثابت نہیں ہوتا تو حرمتِ مصا ہرت کیسے ثابت ہوگی، تحریر میں جلدی فرمائی جائے کہ مسئلہ میں بہت سے علماء مختلف ہیں۔

سوال دوم : اگر اقرار یہ کیا ہو کہ میں نے اس کی ماں سے قبل اس کے نکاح کے زنا کیاتھا، تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: بلاشبہہ صورت مستفسرہ میں حکم شرع میں حرمت مصاہرت ہوگئی، ہندہ زید پر حرام ابدی سمجھی جائیگی فان البینۃ کاسمھا مبینۃ (بینہ اپنے نام کی طرح، واضح کرنے والا ہے۔ ت) جب شہادت شرعیہ سے زید کااقرار بالزنا ثابت ہوا تو اس کے ردکی طرف کیا سبیل کہ ثابت بشہادت بمنزلہ ثابت بمشاہد ہ ہے۔ اس گواہی سے ثبوت زنا نہ ہونا مطلقاً ابطال شہادت یا تکذیب شہودیا رد مشہود کی بناپر نہیں کہ اس سے نفس اقرار بھی ثابت نہ مانئے۔
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیرمیں پھر علامہ زین مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
ان شھد رجلان اورجل وامرأتان علی اقرار المقذوف بالزنا یدرؤعن القاذف الحد و عن الثلثۃ ای الرجل والمرأتین لان الثلث بالبینۃ کالثابت بالمعاینۃ فکانا سمعنا اقرارہ بالزنا ۱؎۔
زنا سے متہم شخص کے اقرار زناپر مردوں یا ایک مرد دو عورتوں نے شہادت دی تو اس سے فقہاء نے تہمت لگانے والے اور گواہ ایک مرد دو عورتوں سے حدقذف کو ساقط قراردیا ہے کیونکہ گواہی سے ثابت شدہ چیز ایسے ہے جیسے دیکھی ہوئی ہو، تو گواہوں کے بیان سے ثابت شدہ زنا کا اقرار ایسے ہے جیسے ہم نے خود سنا ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    باب حد القذف    نوریہ رضویہ سکھر    ۵/۱۱۱)
ثابت ہوا کہ شہادت اقرار اگرچہ مثبت زنا ہونے کی اصلاًصلاحیت نہ رکھے کہ اثبات زنا میں شہادت زنان وشہادت دو مرد زنہا ر مسموع نہیں مگر مثبت اقرار بیشک ہے کہ اس کے لیے نصاب کامل ہے۔
نیز بحر میں ہے: لو شھد رجلان انہ زنی واٰخران انہ اقربالزنا فانہ لایحد قال فی الظھیریۃ ولایحد الشھود ایضا وان شھد ثلثۃ بالزنا وشھد رابع علی الاقرار بالزنا فعلی الثلثۃ الحد ۔ اھ لان شھادۃ الواحد علی الاقرار لاتعتبر فبقی کلام الثلثۃ قذفا ۱؎۔
دومردوں نے گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے زنا کا اقرار کیا ہے۔توا یسی صورت میں اس کو زنا کی حد نہیں لگائی جائیگی، او رظہیریہ میں کہا کہ گواہوں کو بھی حد نہ ہوگی، اور اگر تین مردوں نے زنا کی شہادت دی اور چوتھے نے زنا کے اقرار پر شہادت دی، توتین پر حد قذف ہوگی کیونکہ اقرار کے ایک گواہ کی شہادت معتبر نہیں ، توتین گواہوں کی بات تہمت ہوجائیگی۔ (ت)
(۱؎ بحرالرائق        کتاب الحدود    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۵/۵)
دیکھو شہادت واحد وشہادت رجلین میں تفرقہ فرمایا کہ اول باطل وبیکار اور ثانی معتبر ومثبت اقرار حالانکہ اثبات زناسے دونوں برکنار بلکہ اس شہادت سے ثبوت زنا ہونے کی اور دو وجہیں ہیں:

اولاً وہ اقرار جوا ن سے ثابت ہوا بیرون مجلس قضا تھا اور دارالقضا سے باہر کا اقرار مثبت زنا نہیں ہوتا،
شرح نقایہ علامہ شمس قہستانی میں ہے:
الاقرار لم یعتبر عند غیر الامام حتی لو شھد وا بذٰلک لم تقبل ۲؎۔
قاضی یاحاکم کی موجودگی کے بغیر اقرار معتبرنہیں حتی کہ اگر گواہ مجلس سے باہر کے اقرار کی شہادت دیں تو مقبول نہ ہوگی۔ (ت)
 ( ۲؎ جامع الرموز  کتاب الحدود     مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۴/۵۱۵)
ثانیاً مشہود علیہ اگر مقرہے تو شہادت کی کیا حاجت،
فانھا انما تقام علی المنکر کما فی الدر وغیرہ ولاتجا مع الاقرار الافی بضع صورمذکورۃ فی الاشباہ لیست ھذہ منھا۔
شہادت تو منکر کے خلاف ہوتی ہے جیساکہ در وغیرہ میں ہے اشباہ میں مذکور ہے چند صورتوں کے علاوہ شہادت، اقرار کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی، اوریہ صورت ان چند میں سے نہیں ہے۔ (ت)
اور منکر ہے تو اقرار سابق سے رجوع کرچکا اور اقرار بالزنا بعد رجوع مثبت زنا نہیں رہتا، تحفۃ الفقہاء و بدائع و تبیین الحقائق اور معین الحکام وجامع الرموز وبحرالرائق وغنیہ ذوی الاحکام و ردالمحتار وغیرہا میں ہے:
واللفظ للعلامۃ الشرنبلالی عن الامام ملک العلماء الکاشانی لو اقربالزنا اربع مرات فی غیرمجلس القاضی وشھد الشہود علی اقرارہ لاتقبل شہادتھم لانہ ان کان مقر افالشھادۃ لغو لان الحکم للاقرار لاللشہادۃ وان کان منکرا فالانکار منہ رجوع والرجوع عن الاقرار فی الحدود الخالصۃ حقا ﷲ تعالٰی صحیح۔ ۱؎۔
ملک العلماء امام کاشانی سے منقول کے بارے میں علامہ شرنبلالی کے الفاظ یہ ہیں کہ اگر اپنے زنا پر مجلس قضاء سے باہر چار مرتبہ اقرار کرے اوراس اقر ارپر گواہ شہادت دیں تو قبول نہ ہوگی، کیونکہ اگر وہ شخص اقراری ہے تو حکم اس کے اقرار پر ہوگا اور گواہی کی وجہ سے نہ ہوگا ا س لیے کہ شہادت لغو ہوگی او راگر وہ مجلس قضا میں منکر ہوجائے تو اسکا یہ انکار اپنے اقرار سے رجوع ہوگا، اور حدود جو کہ خالص اللہ تعالٰی کاحق ہیں ان میں رجوع صحیح ہے۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع        کتاب الحدود        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۷/۵۰)

(غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درر غرر    باب حدالقذف        مطبعۃ احمد کامل الکائنۃ بیروت    ۲/۷۴)
علماء کی یہ تعلیلیں جیسے کہ ثبوت زنا کی نفی فرماتی ہیں یونہی ثبوت اقرار کی تقریر فرمارہی ہیں تو اتنا ضرور ماننا پڑے گا کہ شہادت مذکورہ سے زید کا اقرار مزبور ثابت ہوگیا، اب یہ دیکھنا رہا کہ اثبات مصاہرت کو خاص نامسموع، کلمات علماء باعلی نداء منادی کہ یہاں ثبوت زنا کی اصلاً حاجت نہیں، مجرد اقرار وہ بھی ایک بار بس ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہزل ومزاح ہی میں کہہ دیا کہ اس شخص نے اپنی ساس کے ساتھ جماع کیا، حرمت مصاہرت ثابت کردیں گے پھر ہزار بارکہا کرے میں نے جھوٹ کہاتھا ہر گز نہ سنیں گے،
محیط ہندیہ وخلاصہ و بحرالرائق وجامع الرموز و مجموعہ انقروی ودرمختار وغیرہا معتمدا ت الاسفار میں ہے:
والنظم للدر فی الخلاصۃ قیل لہ مافعلت بام امرأتک فقال جامعتھا تثبت الحرمۃ ولایصدق انہ کذب ولوھا زلا ۲؎ اھ۔
در کی عبارت ہے کہ خلاصہ میں ہے کہ ایک شخص سے کہا گیا کہ تونے اپنی ساس سے کیا کیا تواس نے جواب میں کہا کہ میں نے اس سے جماع کیا، تو اس سے حرمت ثابت ہوجائے گی اور اب اگر یہ کہے کہ میں نے تو مذاق میں جھوٹ بولا تھا، توبھی نہیں مانا جائے گا اھ (ت)
 (۲؎ درمختار      فصل فی المحرمات        مجتبائی دہلی            ۱/۱۸۸)
Flag Counter