کہ حرام عورتوں کو شمار فرماکر ار شاد ہوا ان کے سوا عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں، حرام عورتوں میں چچی کو نہ شمار فرمایا نہ شرح میں کہیں اس کی تحریم آئی تو ضرور وہ حلال عورتوں میں سے ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۷۵: از آمود ضلع بہڑوئچ گجرات کلاں مرسلہ سید غلام سرور ۲ رجب ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے شریعت محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کانام مسمی عبداللہ ہے اس کی ہمشیرہ کا نام نورن تھا، مسماۃ نورن کا نکاح مسمی ہدایت اللہ کے ساتھ ہوا، مسمی ہدایت اللہ کے نطفہ و
شکم مسماۃ نورن سے دو فرزند پیداہوئے مسماۃ نورن مرگئی، بڑے فرزند کا بھی انتقال ہوگیا، چھوٹا فرزند زندہ ہے، مسمی عبداللہ مذکور کے دو دختر ہیں بعد مرنے اپنی بہن مسماۃ نورن کے اپنی بڑی دختر کا نکاح ہدایت اللہ موصوف سے کردیا، دوسری دختر جو چھوٹی مسمی عبداللہ کی ہے۔ ہدایت اللہ کے فرزند سے نکاح پڑھادیا جاتا ہے، اول تو ہدایت اللہ کا عبداللہ سالاہوا اور فرزند کاماموں ہوا عبداللہ کا ہدایت اللہ بہنوئی ہوا، اور لڑکا ہدایت اللہ کا عبداللہ بھانجا ہوا۔ جب عبداللہ کی دختر نکاح میں آئی فرزند سوتیلی والدہ ہوئی، سوتیلی ماں کی بہن حقیقی خالہ ہوئی اور ہدایت اللہ کا عبداللہ سسر ہوا وزید یا عبداللہ نانا ہوا، نکاح جائز ہے یا نہیں؟ مع مہر نام کتب عبارت عربی ترجمہ اردو خلاصہ تحریرفرمائیے، اس کا اجر اللہ آپ کو عطاکرے گا۔ بینوا تو جروا
الجواب: فرزند ہدایت اللہ کا نکاح دختر عبداللہ سے جائز ہے، عبداللہ اس کاماموں ہے نانا نہیں، سوتیلی ماں کا باپ نہ اپنا نانا، نہ سوتیلی ماں کی بہن اپنی خالہ۔ سوتیلی ماں کی حقیقی ماں یا بہن یا بیٹی سب سے نکاح جائز ہے اگرچہ وہ اپنے باپ کی ساس یا سالی یا دختر زن ہے،
لاتحرم ام زوجۃ الاب ولابنتھا ۱؎
(باپ کی منکوحہ کی ماں اوربیٹی حرام نہیں ہوتیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۷۹)