Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
84 - 1581
مسئلہ ۱۷۳: ۱۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ

جس عورت کا شوہر مفقود الخبر ہو اور مرد وعورت ہر دو حنفی مذہب کے ہیں تو عورت دوسرے شخص سے نکاح کرنے کا کس قدر مدت تک انتظار کرے؟علماء مذہب حنفیہ کے اس میں کیا حکم دیتے ہیں؟
الجواب: اتنی مدت کہ مردکی عمر سے ستر برس گزرجا ئیں یعنی اگر اب تک زندہ ہو توستر برس کاہو، مثلا تیس سال کی عمر میں مفقود ہوا تو عورت چالیس بر س تک انتظار کرے، اس مدت گزرنے پر قاضی اس کی موت کا حکم کرے۔ بعد حکم عورت  چار مہینے دس دن عدت بیٹھے ، عدت گزار کر جس سے چاہے نکاح کرے،
فتح القدیر میں ہے:
عندی الاحسن سبعون لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام اعمار امتی مابین الستین الی السبعین فکانت المنتھی غالباً ۲؎۔
میرے نزدیک ستر بہتر ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''میری امت کی عمر ساٹھ اور ستر کے درمیان ہے۔'' تو آخری حد غالبا معتبرہوگا۔ (ت)
( ۲؎ فتح القدیر     کتاب المفقود    نوریہ رضویہ سکھر    ۵/۲۷۴)
جواہر اخلاطی میں ہے:
انہ احوط واقیس ۳؎
(یہی احتیاط اور قیاس کے زیادہ موافق ہے۔ ت)
(۳؎ جواہر الاخلاطی     کتاب المفقود           قلمی نسخہ        ص۱۲۲)
اسی میں ہے:
وعلیہ الفتوٰی ۴؎
(اسی پر فتوٰی ہے۔ ت)
 (۴؎ جواہر الاخلاطی     کتاب المفقود           قلمی نسخہ        ص۱۲۲)
درمختار میں ہے:
فی واقعات المفتین لقدروی آفندی معزیا للقنیۃ انہ انما یحکم بموتہ بقضاء لانہ امر محتمل فمالم ینضم الیہ القضاء لایکون حجۃ ۵؎۔
واقعات المفیتن میں ہے کہ قنیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے آفندی نے کہاکہ موت کا حکم قاضی کے ذریعہ ہوگا کیونکہ احتمالی معاملہ ہے تو جب تک قاضی کا فیصلہ نہ مل جائے اس وقت تک محض مدت کا گزرنا حجت نہ ہوگا۔ (ت)
 ( ۵؎ درمختار      کتاب المفقود         مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۳۶۹)
تنویر میں ہے:
بعدہ یحکم بموتہ فتعتد عرسہ للموت ۱؎ (ملخصا)
مدت گزرنے کے بعد خاوند کی موت کا حکم دیاجائے گا لہذا یہ عورت موت والی عدت پوری کرے گی ملخصا (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب المفقود    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۳۶۹)
ردالمحتارمیں ہے:
ای عدۃ الوفاۃ ۲؎
(یعنی وفات والی عدت مراد ہے۔ ت)
 ( ۲؎ ردالمحتار      کتاب المفقود     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/۳۳۲)
بہت سن رسیدہ مرد نو عمر عورتوں سے نکاح کرتے ہیں وہاں ایسی صورتیں واقع ہوتی ہیں کہ مرد ستر برس کا اور عورت جوان ہو، مثلا پچاس پچپن بر س کی عمر میں پندرہ برس کی عورت سے نکاح کیا او رمفقود ہوگیا تو جب اس کی عمر سے ستر برس گزریں گے عورت تیس پنتیس برس کی ہوگی اس عمر کی عورت بیشک نکاح کے قابل ہے اور نہ ہوتو حکم شرع کے لیے ہے نہ کہ اپنی خواہش نفس کے لیے۔ قرآن عظیم صاف فرمارہا ہے: والمحصنت من النساء ۳؎ (شادی شدہ عورتوں میں سے۔ ت) پھراس کے خلاف کی طرف راہ کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(۳؎ القرآن         ۴/۲۴)
Flag Counter