میرے نزدیک ستر بہتر ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''میری امت کی عمر ساٹھ اور ستر کے درمیان ہے۔'' تو آخری حد غالبا معتبرہوگا۔ (ت)
( ۲؎ فتح القدیر کتاب المفقود نوریہ رضویہ سکھر ۵/۲۷۴)
(یہی احتیاط اور قیاس کے زیادہ موافق ہے۔ ت)
(۳؎ جواہر الاخلاطی کتاب المفقود قلمی نسخہ ص۱۲۲)
(۴؎ جواہر الاخلاطی کتاب المفقود قلمی نسخہ ص۱۲۲)
فی واقعات المفتین لقدروی آفندی معزیا للقنیۃ انہ انما یحکم بموتہ بقضاء لانہ امر محتمل فمالم ینضم الیہ القضاء لایکون حجۃ ۵؎۔
واقعات المفیتن میں ہے کہ قنیہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے آفندی نے کہاکہ موت کا حکم قاضی کے ذریعہ ہوگا کیونکہ احتمالی معاملہ ہے تو جب تک قاضی کا فیصلہ نہ مل جائے اس وقت تک محض مدت کا گزرنا حجت نہ ہوگا۔ (ت)
( ۵؎ درمختار کتاب المفقود مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۶۹)
بعدہ یحکم بموتہ فتعتد عرسہ للموت ۱؎ (ملخصا)
مدت گزرنے کے بعد خاوند کی موت کا حکم دیاجائے گا لہذا یہ عورت موت والی عدت پوری کرے گی ملخصا (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب المفقود مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۶۹)
(یعنی وفات والی عدت مراد ہے۔ ت)
( ۲؎ ردالمحتار کتاب المفقود داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/۳۳۲)
بہت سن رسیدہ مرد نو عمر عورتوں سے نکاح کرتے ہیں وہاں ایسی صورتیں واقع ہوتی ہیں کہ مرد ستر برس کا اور عورت جوان ہو، مثلا پچاس پچپن بر س کی عمر میں پندرہ برس کی عورت سے نکاح کیا او رمفقود ہوگیا تو جب اس کی عمر سے ستر برس گزریں گے عورت تیس پنتیس برس کی ہوگی اس عمر کی عورت بیشک نکاح کے قابل ہے اور نہ ہوتو حکم شرع کے لیے ہے نہ کہ اپنی خواہش نفس کے لیے۔ قرآن عظیم صاف فرمارہا ہے: والمحصنت من النساء ۳؎ (شادی شدہ عورتوں میں سے۔ ت) پھراس کے خلاف کی طرف راہ کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(۳؎ القرآن ۴/۲۴)